ادرک کے ایسے 11 فوائد جو ہمیں خطرناک بیماریوں سے بچاتے ہیں

Reading Time: 4 minutes

ادرک کا استعمال صدیوں سے ہمارے کھانوں میں ہوتاآیا ہے،آپ  اکثر اپنے بڑوں سے سنا بھی ہوگا اور دیکھا بھی ہوگا کہ وہ ادرک کی چائے کا استعمال لازمی کرتے آئے ہیں۔انڈیا میں اس چائے کا رواج ابھی بھی ہے۔لیکن آج کے اس دور میں لوگ معدے کے مسائل کا حل ان دیسی چیزوں سے کرنے کی بجائے سافٹ ڈرنک کا استعمال کرتے ہیں جو صحت کے لئے مضر ہیں۔

یہ معدے کے مسائل،متلی،جوڑوں کے درد،سردی اور فلو کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔اس میں اینٹی آکسیڈنٹ،اینٹی سوزش اور اینٹی بیکٹریل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اور یہ ہمیں صحت کے بہت سے فوائد فراہم کرتا ہے۔ایسے کونسے فائدے ہیں جو ہم ادرک سے حاصل کرسکتے ہیں۔اگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو یہ بلاگ لازمی پڑھئیں۔

ادرک کے صحت سے متعلق فوائد-

ادرک ہمیں صحت سے متعلق جو فوائد فراہم کرتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

ماہواری کا درد-

بہت سی لڑکیاں ایسی ہیں جن کو ماہواری کےدنوں میں کمر درد اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد رہتا ہے،کچھ میں یہ درد شدت کا ہوتا ہے۔اس لئے یہ ماہواری کےدرد کو کم کرنے کے لئے مفید ہے۔

آپ اس کی چائے بنا کر بھی پی سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ اس کو پانی میں بھی بوائل کرکے پی سکتے ہیں۔

کولیسٹرول کی سطح-

جن افراد میں کولیسٹرول کی اضافی مقدار موجود ہوتی ہے وہ افراددل کی بیماری میں مبتلاہوسکتے ہیں۔کولیسٹرول ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ادردک کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے لئے مفید ہے۔اس لئے اسے اپنی غذا میں لازمی شامل کریں۔

انفیکشن سےلڑنے میں مدد کرتا ہے-

ادرک

ادرک میں اینٹی بیکٹریل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اس لئے یہ انفیکشن سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔جیسے کہ اگر ہمارے مسوڑھوں میں کوئی انفیکشن ہے یا سوزش ہے تو یہ ان اثرات کو کم کرتا ہے۔

معدے کے مسائل-

ادرک معدے کے مسائل جیسے جلن،تیزابیت اور گیس کے مسئلے کو حل کرتا ہے۔بہت سے افراد جیسے وہ پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں یابدہضمی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کو کھانے کے بعد ادرک کی چائے کا استعمال کر لینا چاہیے اس سے معدے کی گیس اور بدہضمی کو راحت ملتی ہے۔

صبح کے وقت کمزوری-

ادرک

بہت سے افراد ایسے ہیں جن کوصبح کے وقت کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس کے علاوہ یہ مسئلہ زیادہ تر حاملہ عورتوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ادرک کے پیس کو چنانا یا ایک چمچ اس کا جوس آپ کی کمزوری کے مسائل کو حل کرتا ہے۔اور اس سے پیٹ کے مسئلے کو بھی آرام ملتا ہے۔

جووڑں کے درد –

عمر ڈھلنے کے ساتھ انسان کو جوڑوں کےدرد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہمارے بڑے اس لئے اس درد میں ادرک کی چائے پنا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ جوڑوں کی سوزش سے آرام مل سکے۔اس میں اینٹی بیکٹریل خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔جو ہمارے لئے مفید ہے۔

اگرآپ جاننا چاہتے ہیں کہ جوڑ درد میں کیا کھائیں تو یہاں کلک کریں۔

بلڈ شوگر-

یہ شوگر کے مریضوں کے لئے بھی بہت مفید ہے۔اس میں زنک پایا جاتا ہے۔جو انسولین کی طرح کا کردارادا کرتا ہے۔لیموں ادرک کا جوس بلڈشوگر کو کم کرنے کے کام آتا ہے۔اس لئے ذیابیچس کے مریضوں کو بھی اس کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔

دانوں کے لئے-

ہمارا چہرہ ہماری شخصیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس میں موجود وٹام اے اورسی ہماری جلد کے لئے بہت مفید ہے،اگرآپ کے چہرے کے مسام کھلے ہیں یا آپ کو دانوں کا مسئلہ ہے تو آپ ادرک کے جوس کو اپنے چہرے پر 5 منٹ لگائیں اور بعد میں دھولیں۔اس سے آپ کے چہرے کو دلکشی ملے گی۔

بالوں کے لئے-

ادرک

بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔جن افراد کے سر پر بال کم ہوتے ہیں وہ ادرک کا جوس اپنے بالوں پر لگاتے ہیں تاکہ بالوں کی لمبائی ہوسکے۔ادرک کے جوس کو پینے سے آپ کو خوبصورت بال حاصل ہونگے۔اس کے علاوہ پیازاور اس کا جوس اپنی جڑوں میں لگانے سے ہمیں خوبصورت بال حاصل ہوتے ہیں۔

اس کا جوس ہمارے بالوں میں خون کی گردش کو بھی اچھا کرتا ہے۔اس لئے اس کا استعمال بالوں میں لازمی کرنا چاہیے۔

سردی سے نجات-

سردی کی وجہ سے ہم فلو اور زکام میں مبتلا ہونے کے ساتھ بخار بھی ہوتا ہے۔سردی سے بچنے کے لئے بھی ادرک کی چائے بہت مفید ہے۔ہم اس میں شہد ملا کر اس کا ذائقہ بھی بہتر بناسکتے ہیں۔،اس میں اینٹی بیکٹریل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو انفیکشن سے لڑنے میں مدد کرتی ہیں۔

نظام انہظام کو بہتر بناتا ہے-

یہ ہمارے نظام انہظام کے لئے بہت مفید ہے۔ہم اس کی مدد سے اپنے سانس کی خوشبو کو بھی اچھا کرسکتے ہیں۔اس کا ستعمال ہمیں بہت سے فائدے دیتا ہے،اس کے علاوہ یہ بلڈ پریشر کے لئے بھی اچھا ہے۔

آپ اگر کسی بھی بیماری میں مبتلا ہے تو آپ ڈاکٹر سے باآسانی رابطہ کرسکتے ہیں،اس کے لئےآپ مرہم ڈاٹ پی کے کی مدد سے فون کال پر ڈاکٹر کی اپائنمنٹ حاصل کریں یا س نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن لیں۔

 

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences