(4 precautions for high blood pressure Patients)ہائی بلڈپریشرکے مریضوں کے لیے 4 احتیاطی تدابیر

Healthy Lifestyle
Reading Time: 3 minutes

ورزش کرنا بلڈ پریشر کم رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور اس کے لیے ادویات کا استعمال کرتے ہیں تو بھی ورزش کو معمول بنانا آپ کے لیے فائدہ مند ہے۔ ورزش کرنے سے بلڈ پریشر کی ادویات کی اثر پذیری بڑھ جاتی ہے لیکن اس کے لیے آپ کو کھلاڑی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی تفریح اختیار کیجیے جس میں جسمانی مشقت کا عمل دخل ہو یا اپنی پسندیدہ کھیل کھیلنے کی کوشش کیجیے جیسے کہ ٹینس یا بیڈمنٹن۔ اگر آپ باقاعدہ طور پر جم نہیں جا سکتے تو بھی بہت سے ایسے مواقع ڈھونڈھے جا سکتے ہیں جیسے کہ یوگا، ہائکنگ اور پودوں کی دیکھ بھال یا کوئی بھی ایسا کام جس سے جسمانی مشقت کے باعث دل دھڑکنے کی رفتار بڑھ جائے۔ چونکہ آپ کا مقصد ورزش کو عادت بنا لینا ہونا چاہیے اسلیے ضروری ہے کہ آپ ایسے مشاغل کا انتخاب کریں جو آپ کو پسند ہوں تا کہ آپ اس سے ا کتا نہ جائیں۔ اگر آپ کسی دائمی مرض کا شکار ہیں تو ورزش کی عادت اپنانے اور اس سے وابستہ اپنی توقعات اپنے معالج تک ضرور پہنچا دیں تا کہ وہ اس بات کا یقین کر لیں کہ آپ اور آپ کا جسم اس کام کے لیے صحیح حالت میں ہیں۔

بلڈ پریشر کے لیے کس قسم کی ورزش کرنا بہترین ہے؟

ورزش کی تین اقسام ہوتی ہیں۔

ایروبک یا ہوازا ورزشیں

یہ ورزشیں دل کو مضبوط بنانے میں اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس قسم کی ورزشوں میں چہل قدمی، دوڑنا، تیرنا، رسی کودنا، کشتی چلانا اور سکیٹنگ شامل ہیں۔

سٹرینتھ ٹریننگ

اس قسم میں وزن اٹھانے والی ورزشیں شامل ہیں۔ ان ورزشوں سے پٹھوں کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ زیادہ کیلوریز جلانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ ورزشیں ہڈیوں اور جوڑوں کے لیے بھی مفید ہیں۔

Related: 5 Exercises For A Perfect Body

سٹریچنگ

اس قسم کی ورزشوں سے جسم کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے اور جسم میں دوسری ورزشیں کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔ ایسی ورزشوں سے نقل و حرکت میں سہولت پیدا ہوتی ہے اور چوٹ لگنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

کتنی ورزش کی جائے؟

ورزش کرنے کے لیے آپ جو بھی سرگرمی اختیار کریں اس میں اعتدال پسندی ایک اہم اصول ہے۔

ہفتے میں پانچ دن تیس منٹ کے لیے تیز چلنا مناسب ہے۔

اگر آپ وقت کی کمی کے باعث تیس منٹ نہیں دے سکتے تو بیس منٹ کیلیے دوڑنا بھی مناسب ہے۔

اگر فی الحال آپ متحرک نہیں ہیں تو آپ کم وقت سے بھی شروعات کر سکتے ہیں اور آہستہ آہستہ آپ مطلوبہ وقت تک ورزش کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ورزش کی عادت ہو جانے کے بعد اگلا قدم اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ اس بارے میں بھی اعتدال پسندی کا دامن تھامے رکھنا اہم ہے۔

احتیاطی تدابیر

جسمانی طور پر فعال ہونا آپ کے بلڈ پریشر کے لیے بہترین ہے لیکن اس سلسلے میں اپنے معالج سے مشورہ کر لینا بہتر ہے تا کہ اگر کسی قسم کی احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تو اس بارے میں آپ کو معلومات ہوں۔

ورزش کرتے ہوئے اپنی جسمانی کیفیت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ورزش کا عادی ہونے میں آپ کا جسم کچھ وقت لے سکتا ہے یہ معمول کی بات ہے۔

ورزش کے دوران سانس پھولنا، پسینہ آنا اور دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا بھی معمول کی بات ہے لیکن اگر آپ کی سانس بہت تیز چلنے لگے یا دل کی دھڑکن بےترتیب ہو جائے تو کچھ دیر رک کر آرام کرنا مناسب ہے۔

اگر ورزش کے دوران آپ کو سینے، بازو، گردن، جبڑے یا کندھے میں درد محسوس ہو اور کمزوری یا بے ہوشی طاری ہونے کی علامات ہوں تو فوراً معالج یا ہسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کا رخ کیجیے۔

Share This:

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

2 Comments to (4 precautions for high blood pressure Patients)ہائی بلڈپریشرکے مریضوں کے لیے 4 احتیاطی تدابیر