ہیڈفون کی وجہ سے ہمارے کانوں کو ہونے والے ایس 7 نقصان جو ہمارے لئے خطرناک ہوسکتے ہیں

Reading Time: 4 minutes

ہیڈفون ایک ایسا آلہ ہے جس کو ہم موسیقی سننے یا فون کال سننے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی میں اضافے کے ساتھ لوگوں کا رہن سہن بھی تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔اب انسان خودکوفارغ وقت میں بھی مصروف رکھنا پسند کرتا ہے۔اور اپنے دماغ اور کانوں کوآرام دیے بغیر ہاتھ میں پکڑے ننھے سے آلے کے ساتھ کھیلتا ہے۔اوراسکا استعمال جاری رکھتا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ کوئی بھی کام کرتے ہوئے چاہے وہ ریاضی کے سوال حل کررہے ہوں یا وہ کچھ لکھ رہے ہو اپنے کانوں میں ہیڈفونز کو لازمی رکھتے ہیں۔اور بعض ایسے افراد ہیں جو سفرکےدوران یاآفس وقت کے دوران بھی انکا استعمال موسیقی سننے کے لئے کرتے ہیں۔یہ ایسا سب کچھ ٹریفک کے شور سے بچنے کے لئے کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بالغوں کے علاوہ بچے بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں وہ وڈیو گیمز کھیلنے کے دوران یا موبائل فون کے استعمال کے دوران بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔لیکن یہ کس طرح ہمارے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے اگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو آپ اس آرٹیکل کے ساتھ رہیں اور کچھ جانیں۔

ہیڈفون کے نقصانات-

ہمیں ہیڈفون  کے استعمال سے جو نقصانات اپنے کانوں اور دماغ کو حاصل ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

سماعت کا نقصان-

ہیڈ فون

سماعت کا مطلب ہے سننا ہم اس کی وجہ سے دن اور رات میں ہزاروں آوازیں سنتے ہیں،ہم پرندوں کے چہچہانے کی آواز کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کی آواز سنتے ہیں ہم اللہ کا نام اپنے کانوں میں سنتے ہیں۔سوچیں اگرہم ان تمام چیزوں سے محروم ہجائیں تو کیا ہوگا۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ ان سے بچیں رہیں توآپ ان ہیڈفونز کا استعمال بہت کم کردیں۔

ہیڈفون زیادہ استعمال کی وجہ سے ہم سماعت کھوسکتے ہیں۔ہیڈ فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے کانوں کے خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔جس وجہ سے ہم عارضی یا مستقل طور پر سننے کی حس سے محروم ہوسکتے ہیں۔اس لئے ہیڈفون  کا استعمال کم نہیں بلکہ ختم کریں تاکہ آپ کے بچے بھی اس نقصان سے بچ سکیں۔

کان میں انفیکشن-

اگرہم ہیڈ فون کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے ہمارے کانوں میں انفیکشن ہوسکتا ہے۔ان کے زیادہ استعمال کی وجہ ہمارے کانوں میں سے ہوا کا گزر ختم ہوجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بیکٹریا کی نشوونماہوتی ہے۔

اس کے علاوہ جب ہم ایک دوسرے کےکے ائیر فون کا استعمال کرتے ہیں تو جراثیم کا تبادلہ ہوتا ہے۔جس وجہ سے انفیکشن کے بڑھنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔یہ انفیکشن سنگین صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔اس لئے اس سے بچنے کے لئے نہ تو اپنے ہیڈ فون کا تبادلہ کریں،اور نہ ہی ان کا زیادہ استعمال کریں۔

چکرآنا-

ہیڈ فون

ہمیں چکر آنا ایسی حالت ہے جس میں ہم اپنا توازن کھوبیٹھتے ہیں۔جب ہم زیادہ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں یا ہیڈ فون کو لگاکر وڈیو گیمز کھیلتے ہیں تو تب بھی یہ ممکن ہے۔جو افراد ان کا زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ ایسی مشکل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ان کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے کانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس وجہ سے ہم اس مشکل میں پڑتے ہیں۔

کان میں درد-

اگرآپ بہت عرصے سےہیڈفون  کا استعمال کررہے ہیں تو آپ زیادہ نقصان اٹھا سکتے ہیں۔زیادہ شور کی وجہ سے ہمارے کان کےاندرونی حصے میں درد رہ سکتا ہے۔اس لئے ہیڈ فون کا استعمال ترک کریں۔اور درد سے محفوظ رہیں۔

ٹنائٹس-

جب ہم کان میں ہیڈ فونز کو لگا کر موسیقی سنتے ہیں تو زیادہ شور کو سنتے ہیں جس کی وجہ سے کان کے خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اس وجہ سے سر یا کان بجنے کی آوازیں سنتے ہیں اس حالت کوٹینٹس کہتے ہیں۔

اگرآپ کے کان میں سٹی کی آواز آتی ہے تو یہاں کلک کریں۔

سردرد-

ہیڈ فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے دماغ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ان میں موجود الیکٹرومیگنیٹک ویز ہمارے دماغ کے خلیوں کو نقصان پینچاتی ہیں جس کی وجہ سے ہمیں سردرد یا سونے میں مشکل ہوسکتی ہے۔اس لئے اپنی نیند کی بہتری کے لئے اس کا استعمال نہ کریں۔

ائیر ویکس-

ہیڈ فون

جب ہم زیادہ ہیڈفون  کا استعمال کرتے ہیں تو کانوں میں ائیر ویکس یا جراثیموں کی نشوونما ہوسکتی ہے جس وجہ سے کان میں موجود میل ہمارے لئے انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے ۔

اس کے علاوہ تیز آواز میں موسیقی سننا ہمارے لئے دل کے امراض میں بھی اضافہ کرسکتی ہے اس لئے آہستہ آواز میں سنے تاکہ آپ دل اور دماغ کی بیماری سے محفوظ رہیں۔

اگرآپ کان کے کسی بھی مسئلہ میں مبتلا ہیں تو ابھی ڈاکٹر سے بات کریں کیونکہ یہ مسئلہ بہت حساس ہے اس میں لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ اگر ہم لاپرواہی کرتے ہیں تو ہمیں سننے سے محروم ہوسکتے ہیں۔

آپ ابھی مرہم ڈاٹ پی کے ویب سائٹ سے ڈاکٹر کی اپائنمنٹ لیں۔یا اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن لیں۔

آپ پہلے اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرکے ڈسکاؤنٹ بھی حاصل کریں۔

 

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences