مردوں کو اپنی صحت بہتر بنانے کے لئے یہ 8کام لازمی کرنے چاہیے

Reading Time: 4 minutes

مردوں کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی عورتوں کی۔مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سارے گھر کی کفالت کرتا ہے۔بعض اوقات آدمی ذمہ داریوں اور پریشانیوں میں اتنا گھراہوتا ہے کہ وہ اپنی صحت کاخیال رکھنا بھول جاتا ہے۔اگر گھر کا کمانے والا ہی جلد بیمار پڑجائے گا تووہ اپنے سے جڑے لوگوں کا خیال کیسے رکھ پائے گا۔اس لئےآدمی کاصحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔

مرد کیسے تھوڑی سی کوشش کرکے اپنی صحت کا خیال رکھ سکتے ہیں،اگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو اس بلاگ پر میرے ساتھ رہیں۔یہ آپ کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

مردوں کی صحت بہتر بنانے کے طریقے-

ان کو اپنی صحت بنانے کے لئے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے وہ یہ ہیں؛

بلڈ پریشر کوباقاعدگی سے چیک کریں-

214413535

اس بیماری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خاموش قاتل ہے۔کیونکہ یہ انسان کو کسی بھی  وقت موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔بلڈ پریشر ہائی ہو یا لو ہو یہ دونوں صورتوں میں ہی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر ہمارے دماغ ،گردے اور دل کو متاثر کرسکتا ہے۔آپ اپنا بلڈ پریشر لازمی چیک کروائیں۔اگر آپ کے بلڈ پریشر کا نمبر کم یا زیادہ ہو رہا ہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ٹیسٹ کروائیں-

اپنی صحت کو جانچنے کا یہ ایک طریقہ ہے۔بہت سی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا صحیح وقت میں معلوم نہ ہو تو وہ سنگین صورتحال اختیار کرلیتی ہیں۔جس میں ہیپاٹائیٹس،ایچ۔آئی اور ٹی بی شامل ہے۔یہ تمام بیماریاں موت کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔اس لئےاپنے ٹیسٹ کروائیں تاکہ آپ جان سکیں کہ آپ کو کوئی بیماری ہے یا نہیں۔

مرد اس معاملے میں بہت لاپرواہی کرتے ہیں۔لیکن ان کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہیں تاکہ آپ کسی سنگین صورتحال سے بچ سکیں۔

ورزش کریں-

191225372

جسمانی سرگرمی یا ورزش کی تعریف کسی بھی جسمانی حرکت کی صورت میں کی جاتی ہے۔جس میں ہڈیوں اور پٹھوں کی تشکیل ہوتی ہے۔اس میں توانائی اور جسم سےنمکیات کا اخراج ہوتا ہے۔یہ ہماری مجموعی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔یہ ہمیں چست اور تندرست رکھتی ہے۔اس لیے مردوں کو ورزش لازمی کرنی چاہیے تاکہ وہ صحت مند رہ سکیں۔

سگریٹ نوشی چھوڑ دیں-

یہ عادت ہمیں موت کے منہ میں لے جاسکتی ہے۔سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہم بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں جس میں دل کی بیماری،پھیپڑوں کی بیماری بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ امریکہ میں ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی آنکھ میں موتیا کا سبب بھی بن سکتی ہے۔اس لئے اسے ترک کرنے کا مضبوط ارادہ رکھیں۔

نمک اور چینی کم استعمال کریں-

فلپائن میں ایک ریسرچ کی گئی جس میں یہ بات ثابت ہوئی کہ جو لوگ سوڈیم کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں  ہائی بلڈ پریشرکی وجہ سے  دل کی بیماری اور فالج ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اس لئے روزانہ نمک کا استعمال 5 گرام سے بھی کم کریں۔ تاکہ آپ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔اپنے کھانے کی میز پرنمک کا استعمال ترک کریں

دوسری طرف اگر چینی کی بات کی جائے تو وہ دانتوں کی بیماری اور وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔موٹاپا تمام بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔اس لئے اپنی روزمرہ کی زندگی میں میٹھے مشروبات کا استعمال کم کریں۔

کاربوہائیڈریٹ-

مردوں اپنی غذا میں کاربوہائیڈریٹ لازمی شامل کرنے چاہیے کیونکہ یہ ہماری غذا کا لازمی جزو ہے۔ہمیں چاول ،پاستا یا اناج ان میں سے ایک چیز لازمی استمعال کرنی چاہیے۔فائبز سے بھرپور سبزیوں کا بھی استعمال کریں۔

پانی کا زیادہ استعمال-

پانی ہماری صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق ہمیں دن میں 7 سے 8 گلاس پانی کے لازمی پینے چاہیے۔پانی کی کمی کی وجہ سے انسان دی ہائیڈریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لئے مردوں کو چاہیے کہ وہ پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

متوازن غذا-

76226698

ہماری مجموعی صحت کے لئے متوازن غذا بہت ضروری ہے۔وٹامنز اور منزلز سے بھرپور غذا ہماری صحت کو بہتر بنانے میں بہت اہم کرداد اد کرتی ہے۔ہمیں ان سبزیوں اور پھلوں کا استعمال لازمی کرنا چاہیے جو فائنر سے بھرپور ہو۔فائبز ہمیں قبض جیسی بیماری سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔وٹامن سی اور ڈی ہماری ہڈیوں کی صحت کے لئے ضروری ہے۔

وہ پھل جن میں وٹامن سی پایا جاتا ہے جیسے اسٹرابری اور کینووغیرہ ان کا استعمال لازمی کریں۔وٹامن سے جو آم میں پایا جاتا ہے یہ آنکھوں کی روشنی کے لئے اچھا ہے۔مختصر یہ کہ ہمیں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔

آپ اپنی صحت کے متعلق اس نمبر پر کال کر کے 03111222398  کنسلٹیشن لے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ مرہم ڈآٹ کی ویب سے ڈاکٹر کی اپائنمنٹ حاصل کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences