(9 Causes of Leg Pain) ٹانگوں کے درد کی 9 وجوہات

Healthy Lifestyle
Leg Pain
ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی ٹانگوں میں درد کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔ اکثر اس کی وجہ تھکن اور آرام کی کمی ہو سکتی ہے لیکن کچھ امراض ایسے ہین جو کہ ٹانگوں میں
درد کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان سے آگاہ رہنا اور ان کی علامات کے متعلق مکمل معلومات رکھنا کسی پیچیدگی سے بچے رہنے لے لیے ضروری ہے۔

پیریفرل آرٹری ڈیزیز

Peripheral artery disease

اس بیماری میں ٹانگوں میں موجود نسیں سکڑ جاتی ہیں اور ٹانگوں کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔ اسی باعث ٹانگیں سن ہونے کی اور چلنے پھرنے میں دقت کی شکایات سامنے آنے لگتی ہیں۔ اس بیماری میں ٹانگیں سرد رہنے اور ان کی رنگت میں تبدیلیاں ہونے کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ صرف طرز زندگی کی تبدیلیوں سے اس بیماری پر قابو پا لیتے ہیں جیسا کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز وغیرہ جب کہ کچھ لوگوں کو ادویات کا استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ شدید ترین پیچیدگیوں کی صورت میں سرجری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

ڈیپ وین تھرومبوسس

Deep vein thrombosis

ٹانگ کے اوپری حصے یا پنڈلی کی نسوں میں تھکا بن جانے کے باعث ٹانگ میں درد اور سرخی کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر بننے والا تھکا ٹوٹ کر کسی اور رگ میں رکاوٹ پیدا کر دے تو یہ بیماری سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے اس بیماری کی علامات محسوس کرتے ہی فوری طور پر معالج سے رابطہ ضروری ہے۔

پیریفرل نیوروپیتھی

Peripheral neuropathy

اس بیماری میں ان نسوں کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ سے آنے والے اور دماغ کی طرف جانے والے پیغامات کی ترسیل کا کام سرانجام دیتی ہیں۔ اس کی سب سے عام وجہ ذیابیطس ہے۔ اس کے علاوہ انفیکشن، ادویات کا رد عمل یا کسی قسم کی چوٹ لگنا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔ اگر متاثر ہونے والی نسوں میں ٹانگوں کی نسیں بھی شامل ہوں تو ٹانگوں کی کمزوری، سن ہونا اور ٹانگوں میں چبھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

الیکٹرولائٹ ام بیلنس

Electrolyte imbalance

الیکٹرولائٹس جیسے کے سوڈیم، پوٹاسیئم اور کیلسئیم پٹھوں کی درست کارکردگی کے لیے ضروری ہیں۔ پسینہ آنے کی صورت میں ان کی مقدار میں کچھ کمی واقع ہو جاتی ہے لیکن الیکٹرولائٹس کی شدید کمی ہو جانے سے کمزوری، ٹانگوں کا اکڑنا اور سن ہو جانے کی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

Related: How to Take Care of Your Parent’s Bone Health in Old Age

سپائنل سٹینوسس

Spinal stenosis

اس بیماری میں ریڑھ کی ہڈیوں کے بیچ فاصلہ کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ جگہ پر موجود نسوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جو کہ ٹانگوں میں درد، الجھن، کمزوری اور سن ہو جانے کا باعث بنتا ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ افراد میں توازن برقرار رکھنے کے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

آرتھرائٹس

Arthritis

آرتھرائٹس جوڑوں کو متاثر کرنے والی ایک عام تکلیف ہے جو کہ سوجن، درد اور جوڑوں میں اکڑن کی شکایات پیدا کرتا ہے۔ آرتھرائٹس جب کولہے، گھٹنے یا ٹخنے کے جوڑوں کو متاثر کرتا ہے تو چلنے ہھرنے اور حرکت کرنے میں شدید دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پٹھوں کا کھچاؤ

Pulled muscle

جسم کے کسی بھی پٹھے کا اس کی استعداد سے زیادہ کھچاؤ پٹھوں میں درد کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال کھلاڑیوں کو زیادہ پیش آتی ہے۔ کھچے ہوئے پٹھوں کو چھونے سے تکلیف محسوس ہوتی ہے اور درد کا شدید احساس رہتا ہے۔

سپرین

Sprain

پٹھے اور ہڈی کا تعلق قائم کرنے والی بافتوں کا کھچاؤ اور تخریب شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس کی سب سے عام اور زیادہ دیکھی جانے والی مثال پاؤں کی موچ ہے۔ اس صورتحال میں متاثرہ حصے پر وزن ڈالنا اور اس کا استعمال ناممکن ہو جاتا ہے۔ متاثرہ جگہ پر سوجن کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں ۔

مسل کریمپ

Muscle cramp

جسم کے کسی پٹھے کا خاص طور ہر پنڈلی کے پٹھوں کا اچانک اکڑ کر سخت ہو جانا مسل کریمپ کہلاتا ہے۔ یہ صورتحال شدید درد اور تکلیف کا باعث بنتی ہے اور عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسل کریمپ کے امکانات بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ گرمی کا موسم اور پانی کی کمی اس کی شدت میں اضافہ کر سکتا ہے۔

 If pain is sudden, severe, or persistent, be sure to contact with:

Best General Physician in Lahore
Best General Physician in Karachi
Best General Physician in Islamabad
Best General Physician in Faisalabad

 

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

Comments are closed.