نیل کے نشان کن 7 خطرناک بیماریوں کی ابتدائی علامت ہو سکتے ہیں

Reading Time: 4 minutes

نیل کا نشان عام طور پر اندرونی چوٹ کے سبب جلد پر نمودار ہوتا ہے ۔ لیکن اگرہر روز صبح جاگنے کے بعد آپ کو جسم کے کسی نہ کسی حصے پر نیل کے ایسے نشان بغیر کسی وجہ کے نظر آئیں. تو اس کو نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔

جسم پر نیل پڑنے کی وجوہات

نیل
Image Credits: Prevention.com

اگر جسم پر لگاتار نیل بن رہے ہوں اور آپ کو اس کی وجہ بھی سمجھ نہ آرہی ہو. تو اس کی وجوہات جاننے کے لیۓ کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیۓ جس ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیۓ اس کو ہیماٹولوجسٹ کہتے ہیں ۔

ہیماٹولوجسٹ کے مطابق عام طور پر جسم پر بننے والے نیل کے نشان کی چوٹ کے علاوہ یہ وجوہات ہو سکتی ہیں

بھاری وزن اٹھانا

ہمارے جسم کے اندر موجود خون کی نالیاں بہت باریک اور نازک ہوتی ہیں ۔ بعض اوقات جب ہم بھاری وزن اٹھاتے ہیں ۔ تو اس کی وجہ سے اندرونی طورپر ہی یہ نالیاں پھٹ جاتی ہیں ۔اور اس جگہ پر خون کے اندرونی اخراج کے سبب نیل کے نشان بن جاتے ہیں ۔

یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ آپ کی خون کی نالیاں بہت کمزور ہیں ۔مگر یہ حالت خطرناک نہیں ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے

کچھ ادویات کے استعمال کے سبب نیل پڑنا

کچھ ادویات کے استعمال کے سائڈ افیکٹ کی صورت میں بھی جسم کے اندر نیل بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ان ادویات میں اینٹی ڈپریشن ادویات ، دمے کی ادویات ، آئرن کی ادویات ، اندرونی سوزش کا خاتمہ کرنے والی ادویات ہو سکتی ہیں ۔

اس کے علاوہ جسم پر نیل پڑنے کا ایک بڑا سبب اسپرین کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ جس کو اکثر افراد خون کو پتلا کرنے کے لیۓ استعمال کرتے ہیں ۔ اگر خون زیادہ پتلا ہو جاۓ تو اس صورت میں جسم پر بال بال نیل پڑنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے اس وجہ سے اس صورت میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے ان گولیوں کا استعمال کم یا ترک کر دینا چاہیے

خون کی بیماری کے حوالے سے معلومات کے لیۓ یہاں کلک کریں 

خون کی بیماریاں

نیل
image Credit:Healthline

نیل کے بننے کا براہ راست تعلق خون کے مسائل سے ہوتا ہے ۔ بعض خون کی بیماریوں کے سبب بھی جسم میں نیل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر جسم پر نیل کے نشانوں کے بننے کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں اور ناک سے بھی خون اکثر بہہ رہا ہو ۔اور ٹانگوں میں درد اور سوجن بھی ہو تو ان علامات کی صورت میں۔ فوری طور پر خون کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے ۔

یہ علامات لیوکیمیا کا سبب ہو سکتی ہے جو کہ ایک خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے

غذائیت کی کمی

وٹامن ہمارے جسم کی غذائیت کے لیۓ اہم ترین جز ہوتے ہیں۔ مگربعض اوقات ہم لوگ ان کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اور ہمیں اس کا پتہ تک نہیں چلتا ہے ۔ مثال کے طور پر وٹامن بی 12 ہمارے جسم میں خون بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ جب کہ وٹامن کے بہتے ہوۓ خون کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ جب کہ وٹامن سی نۓ ٹشوز بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک وٹامن پی بھی ہوتا ہے جو کہ خون کی نالیوں کو وہ مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ کہ اس کے اندر محفوظ طریقے سے خون کا دوران جاری رہتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی کے سبب خون کی نالیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اور ان کے پھٹنے کے سبب جسم مین نیل نمودار ہو جاتا ہے

یہ وٹامن سیب ، سبز چاے اور ادرک میں بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے

ہارمونل نظام میں خرابی

خواتین کی جلد پر عام طور پر بننے والے نیل کے نشان کا ایک اہم سبب ہارمونل نظام میں خرابی بھی ہو سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر وہ خواتین جن کے عمر کے بڑھنے کے سبب مینو پاز ہو رہا ہو ۔ یا پھر حاملہ ہوں یا ہارمون کے نظام میں خرابی کی ادویات کا استعمال کر رہی ہوں ۔تو ان تمام حالتوں میں جسم میں ایسٹروجن نامی ہارمون کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے ۔جو کہ نیل پڑنے کا باعث بن سکتی ہے

ذیابطیس

ذیابطیس کی بیماری کے سبب خون میں شوگر لیول میں اضافہ ہوتا ہے ۔ شوگر لیول میں اضافے کے سبب دوران خون متاثر ہوتا ہے ۔ دوران خون کے متاثر ہونے کے سبب جسم پر روزمرہ کی بنیاد پر نیل پڑنا ایک عام سی بات ہوتی ہے ۔ مگر اس کے لیۓ خون میں شوگر لیول کو کنٹرول کر کے نیل کے بننے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔

یاد رکھیں یہ تمام نیل دس سے پندرہ دن میں مدھم ہوتے ہوتے جلد پر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر نیل کے یہ نشان پندرہ دن کے بعد بھی غائب نہ ہوں۔ تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے

ایسے کی بھی مسلے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کرں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.