چہرے کی جلد کے ایسے مسائل  وعلاج جن کا سامنا ہر خاتون کو کرنا پڑ سکتا ہے

Reading Time: 4 minutes

چہرے کی جلد درحقیقت انسان کی اندرونی کیفیت کا آئینہ ہوتا ہے ۔ اس میں ہونے والی کسی بھی قسم کی تبدیلی درحقیقت انسانی صحت کے اندرونی مسائل کو ظاہر کرتی ہے ۔ جب تک ان مسائل کو حل نہ کیا جاۓ تب تک جلد کے مسائل سے بیرونی کریموں سےوقتی فائدہ تو اٹھایا جا سکتا ہے ۔مگر مستقل نجات حاصل نہیں کی جا سکتی ۔ اس وجہ سے ان مسائل کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہوتا ہے ۔

چہرے کی جلد کے بڑے مسائل

چہرے کی جلد کے حوالے سے جن بڑے مسائل کا سامنا خواتین و حضرات کو کرنا پڑتا ہے۔ وہ کچھ اس طرح سے ہیں

چہرے کی جلد پر چھائيوں کا پڑ جانا

چہرے کی جلد

خواتین خاص طور پر گوری رنگت رکھنے والی اگر ہوں۔ تو انہیں اپنے چہرے پر کالے دھبے پڑنے یا چھائياں پڑنے کے مسلے سے درچار ہونا پڑتا ہے ۔ چھائياں صرف گوری رنگت والی خواتین کی جلد پر ہی نمودار نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ وہ اکثر سانولی رنگت والی خواتین کے چہرے پر بھی پڑ جاتی ہیں۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ ان کے چہرے پر یہ زیادہ واضح نہیں ہوتی ہیں ۔

چھائیوں کی وجوہات

خواتین کے چہرے پر چھائياں پڑنے کا بنیادی سبب جنسی ہارمون ایسٹرون اور پروجسٹرون کی شرح میں تبدیلی کے سبب ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر حاملہ خواتین اس میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سورج کی شعاعوں کا براہ راست زیادہ دیر تک سامنا کرنے کے باعث بھی یہ کالے دھبے جلد پر نمودار ہو سکتے ہیں ۔

علاج

چھائیوں کے مستقل  علاج کے لیۓ ڈاکٹر لیزر شعاعوں کے علاج کو تجویز کرتے ہیں ۔  یا پھر وہ اسکن وائٹننگ کو بھی تجویز کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر دیسی ٹوٹکوں کے ذریعے بھی اس کا علاج کروایا جا سکتا ہے ۔ جن میں چہرے پر چھائیوں کے خاتمےکی کریم کا استعمال بھی شامل ہے مگر یہ فوری طور پر غائب نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ اس کو صاف ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔

اس کے علاوہ کیلے کے گودے یا بینگن کے گودے کو پیس کر چہرے پر لگانے سے بھی وقتی طور پر ان چھائیوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے

چہرے کی جلد پر جھریوں کا پڑ جانا

چہرے کی جلد

عام طور پر خواتین کی جلد مردوں کے مقابلے میں پتلی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے عمر کے اثرات اور بیرونی عوامل سے متاثر ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہارمون کا سبب ہو یا زیادہ دیر تک سورج کی روشنی کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کا سامنا ان تمام صورتحال میں خواتین کی جلد پر جھریاں جلد نمودار ہو جاتی ہیں ۔

جلد پر جھریاں پڑنے کی وجوہات

جلد پر جھریاں پڑنے کی سب سے اہم وجہ عمر تصور کی جاتی ہے ۔ جب کہ حقیقت میں جھریوں کی وجہ اس قدرتی نمی میں کمی ہوتی ہے۔ جو کہ عمر کے بڑھنے کے سبب جلد میں پیدا ہو جاتی ہے ۔ اگراس قدرتی نمی کو برقرار رکھا جاۓ تو اس سے نہ صرف جھریوں کے بننے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ بلکہ جلد پر پڑنے والے عمر کے اثرات کو بھی روکا جا سکتا ہے

علاج

چہرے کی جلد پر پڑنے والی جھریوں کو روکنے کے لیۓ سب سے پہلے تو پانی کے استعمال کو بڑھانا چاہیۓ ۔اس کے علاوہ ایسے میک اپ کے سامان  کا استعمال کرنا چاہیۓ۔ جن میں وٹامن سی کی مقدار زیادہ ہو ۔ اس کے علاوہ جلد کو نم رکھنے کے لیۓ ایسے موسچرائزر کا استعمال کریں ۔جن میں سیرامائڈ کی مقدار زیادہ ہو ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اس کے لیۓ فیس لفٹنگ کا بھی مشورہ دیتے ہیں ۔جس کے ذریعے چہرے کی جلد کو اس طرح کھینچ لیا جاتا ہے کہ جھریاں غائب ہو جاتی ہیں اور چہرہ عمر سے کافی کم نظر آنے لگتا ہے

چہرے کی جلد پر کیل مہاسے

چہرے کی جلد

عام طور پر جب جوانی کے دور میں انسان داخل ہوتا ہے۔ تو اس وقت میں جسم کے ہارمون کے نظام میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔ یہ تبدیلی جسم کے دیگر حصوں پر جس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی طرح چہرے کی جلد پر بھی اثر انداز ہوتی ہے

چہرے کی جلد پر کیل مہاسوں اور ایکنی کی وجوہات

ایکنی کا بنیادی سبب ہارمون کے نظام میں ہونے والی تبدیلی ہوتی ہے ۔مگر اس کی شدت میں اضافہ مختلف وجوہ کی بنا پر ہو سکتا ہے ۔ جن میں گرم اور مصالحے والی غذاؤں کا استعمال ، زیادہ چکنی غذاؤں کا استعمال ، چہرے کی صفائی کا خاص خیال نہ رکھنا بھی اس کی ایک بنیادی وجہ ہو سکتی ہے ۔

کیل مہاسوں کا علاج

جوانی کے سبب ہونے والے ان کیل مہاسون کے علاج کے لیۓ عام طور پر یہی تجویز کیا جاتا ہے۔ کہ ان پر کسی کریم یا لوشن کا استعمال نہ کریں ۔ورنہ اس کے نشانات رہ جائيں گے ۔اس کے علاوہ ایسے صابن کا استعمال کریں جو کہ جلد کو زیادہ خشک نہ کرۓ ۔

جلد کے مسائل کے مستقل حل کے لیۓ جلد کے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کرنا بہت مفید ہوتا ہے اس کے علاوہ آن لائن مشورے کے لیۓ با آسانی  مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.