کیاآپ کوسانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟

Reading Time: 3 minutes

صحت اللہ کی عطاکردہ بہت بڑی نعمت ہےاورانسان کافرض ہےکہ اس نعمت کاخیال رکھے۔صحت مندشخص ہی خوبصورت اور خوشگوارزندگی گزارسکتاہے۔ایک بیمارآدمی زندگی کے بہت خوبصورت لمحات کو کھودیتاہے۔آج کےاس جدیددور میں جہاں نت نئی بیماریوں نے انسان کو گھیر رکھا ہےاورخوف وہراس میں مبتلا کیاہواہے،وہاں انسان ان بیماریوں کے علاج کے لئے بھی کوشش میں مبتلا ہے۔شوگر،بلڈپریشر،ہیپاٹائٹس،ٹائیفائیڈ،ایڈزاور کینسر جیسی بیماریاں جان لیوابن رہی ہیں۔بہت سی بیماریاں ایسی بھی جو ہمیں ارد گرد کے ماحول کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے،مثال کے طور پرسانس اور پیھپھڑوں کی بیماری وغیرہ۔سانس کی بیماری ہمیں آلودہ ماحول سے بھی ہوسکتی ہے۔پیھپھڑوں کی بیماری ایسی بیماری ہےجوموت کابھی سبب بن سکتی ہے۔پیھپھڑوں کی ایسی بہت سی بیماریاں ہیں جوخطرناک ثابت ہوسکتیں ہیں۔-

پیھپھڑوں کی چندعام بیماریاں مندرجہ ذیل ہیں؛

دمہ-
پیھپھڑوں میں ہوالےجانےوالےعام حصوں میں سوزش-
دائمی رکاوٹ(پلمونری بیماری )سی۔او۔پی۔ڈی
پیھپھڑوں کاکینسر-
پیھپھڑوں کاانفیکشن/نمونیا-
پلمونری ورم-
پلمونری ایمبولس-
سانس لینے میں دشواری –

پیھپھڑوں کی بیماری کی وجوہات

پیھپھڑوں کی بیماری بہت سی وجہ سے ہوسکتی ہے، لیکن ان میں سے چندوجوہات یہ بھی ہوسکتیں ہیں۔سگریٹ نوشی،آلودہ ہوا،کیمیکزاس کے علاوہ وہ کیمیلکزجوآگ بجھانےکےلئےاستعمال ہوتےیہ بھی پیھپھڑوں کی بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں۔گیس اور محتلیف اسپرےبھی ان بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

ہم کیسےان بیماریوں سے بچ سکتے ہیں؟

ماحول کی آلودگی اور آلودہ ہوا کی بھی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے،اورکافی بیماریوں کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے۔آج کل کروناوائرس بھی اس میں شامل ہے ۔آلودہ ماحول بھی سانس میں دشواری پیدا کرتا ہے ۔ہم اپنےاردگرکےماحول کوصاف رکھ کران بیماریوں سے بچ سکتے ہیں،ہم کیسے تھوری سی کوشش کرکےاپنی حفاظت کرسکتےہیں اس کے لئےیہ مضمون آپ کو فائدہ دئےگا۔

صاف ہوا –

جب ہماری صحت کو بہتر بنانے کی بات آتی ہےتو ہم غذااورورزش پر توجہ دیتے ہیں،ہم اس بات پرکم توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ کیسے آلودہ ماحول ہماری صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔اچھی صحت کا پہلاقدم یہ ہےکہ ہم صاف ہوا میں سانس لیں۔ہم زیادہ تر وقت اپنا گھر میں گزارتے ہیں۔اپنے گھر کے ماحول کو بہتر بنا کر ہم اپنی صحت کا خیال کر سکتے ہیں اور صاف ہوا سانس کی بیماری سے بھی دور رکھتی ہے۔

موم بتیوں سے پرہیز –

خوشبووالی موم بتیاں آپ کے گھر کی سمیل کو تو اچھا کر سکتیں ہیں لیکن یہ خطرےکا باعث بھی بن سکتیں ہیں۔ایک مطالعے کے مطابق پیٹرولیم پر مبنی پیرافن موم بتیاں ایک کیمیکل خارج کرتیں جو دل کی بیماری،دمہ اور عام الرجی کا باعث بنتا ہے۔اس لئے ان کا استعمال کم کریں۔

کیمیکلزپرمبنی مصنوعات –

کیمکلز پر مبنی مصنوعات بھی سانس کی بیماری کی وجہ بنتی ہیں،اس لئےقدرتی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دیں،کیمکلز دمہ کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔کیمائی کیڑےماراسپرےیاادویات سےپرہیز کریں۔

پودے لگائیں –

اگرآپ کے گھر میں زیادہ جگہ موجود نہیں ہے تو چھوٹا سا باغ بنائیں اور ان میں پودے لگائیں،کیونکہ سبزچیزوں کو دیکھنے سے آنکھوں کی صحت کے علاوہ ہم خوشی بھی محسوس کرتے ہیں،اور بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

پانی فلٹر کر کے پئیں –

اگرآپ نل کا پانی استعمال کر رہے ہیں تو آپ اس بات کی یقین دہانی کریں کہ پانی فلڑ اور صاف ہے کیونکہ آلودہ پانی کی وجہ سے بہت سئ بیماریاں پیدا ہوتیں ہیں جو ہماری صحت کو ناکارہ بناتی ہیں۔

اختیاط کیسے کریں؟ –

سگریٹ نوشی کو ترک کریں۔ –
فضائی آلودگی سے بچنے کے لئے ماسک پہنے۔ –
جنک فوڈ کا استعمال نہ کریں۔ –
دھوئے سے دور رہیں۔ –
ہاتھ صاف رکھیں،کیونکہ ہاتھوں کے ذریعے جراثیم اندر داخل ہوتے ہیں۔ –
اگرآپ کو سانس کی تکلیف ہے تو سیڑھیوں کا استعمال نہ کریں۔ –
سانس کی بیماری اور پیھپھڑوں کی بیماری ایسی ہے کہ بعض اوقات یہ ہمیں گھبراہٹ میں مبتلا کردیتی ہے،اس لئے آپ رش اور ہجوم سے بھی اختیاط کریں اور اچھے ڈآکٹر سےبات کریں،اس کے لئےآپ گھر بیٹھے مرہم۔پی۔کے کی ویب سائٹ سے ایک فون کال کی مدد سے پلمونولوجسٹ ڈاکٹر کی اپائنمنٹ بک کروا سکتے ہیں اس کے علاوہ وڈیوکال یااس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن لےسکتے ہیں۔

The following two tabs change content below.

Leave a Comment