دوران حمل ماں کی کوکھ میں بچے کی پوزیشن ڈلیوری پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہے

Reading Time: 3 minutes

دوران حمل ماں کے پیٹ میں بچہ بہت زیادہ حرکت کرتا ہے اور اپنی حالت بدلتا رہتا ہے ۔ بچے کی حرکت پر نظر رکھنا اور اس کی دل کی دھڑکن کے بارے میں مکمل آگاہی رکھنا بچے کی زںدگی اور صحت کے لیۓ بہت ضروری ہوتا ہے ۔ خاص طور پر نو مہینے مکمل کرنے کے بعد یہ پوزیشن اس لیۓ بھی اہمیت اختیار کر لیتی ہے کیوں کہ اس کا دارومدار ڈلیوری کے طریقے پر ہوتا ہے ۔

دوران حمل بچے کی مختلف پوزیشنز

دوران حمل بچہ ماں کے رحم کے اندر تقریبا چار مختلف انداز میں  ہو سکتا ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے

Anterior Position

دوران حمل

یہ وہ پوزیشن ہے جس میں عام طور پر زیادہ تر بچے پیدائش سے قبل آجاتے ہیں ۔ یہ ڈلیوری کے لیۓ ایک مثالی پوزیشن قرار دی جاتی ہے ۔ اس پوزیشن میں بچے کا سر ماں کی ٹانگوں  کے نچلے حصے کی طرف ہوتا ہے ۔ اور کمر ماں کے پیٹ کی جانب ہوتی ہے ۔ اس پوزیشن کو مثالی اس لیۓ قرار دیا جاتا ہے کہ اگر باقی تمام چیزیں درست ہوں تو اس پوزیشن میں نارمل ڈلیوری کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں

Posterior Position

دوران حمل

اس پوزيشن میں بچے کی کمر ماں کی کمر سے جڑی ہوتی ہے ۔انٹیرئير پوزیشن کے مقابلے میں اس پوزیشن میں ڈلیوری قدرے مشکل ہوتی ہے اس پوزیشن میں بچے کے لیۓ بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ باہر آسکے ۔

اس وجہ سے اس پوزیشن میں اگر بچہ ہو تو ڈلیوری میں زیادہ وقت لگتا ہے اس کے علاوہ اس ڈلیوری کے دوران ماں کی کمر پر زيادہ دباؤ پڑتا ہے جس کی وجہ سے درد کمر میں زيادہ ہو سکتا ہے ۔

Transverse position

pregnency position

دوران حمل کی اس پوزیشن میں بچہ ماں کے رحم میں افقی حالت میں ہوتا ہے ۔یہ بالکل اس طرح ہوتی ہے کہ جیسے بچہ ماں کے رحم میں کمر کے بل لیٹا ہوتا ہے ۔زیادہ تر بچے ڈلیوری سے قبل اس پوزیشن کو تبدیل کر لیتے ہیں

۔لیکن اگر ڈلیوری کے وقت کے قریب آنے کے بعد بھی بچہ اپنی پوزیشن تبدیل نہ کرے تو اس صورت میں ڈاکٹرنارمل ڈلیوری کے بجاۓ سی سیکشن کے ذریعے ڈلیوری کو ترجیح دیتے ہیں ۔ کیوں کہ اس طرح بچے کی نارمل ڈلیوری کرنے کی صورت میں بچے کی گردن کے گرد اوول نال کے لپٹنے کا خطرہ ہوتا ہے جس سے اس کی زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔

Breech Position

position

اس حالت میں دوران حمل بچے کا سر اوپر کی جانب ہوتا ہے ۔ماں کے رحم میں ویسے تو یہ حالت محفوظ ترین حالت ہے ۔ مگر ڈلیوری کے دوران یہ حالت بـچے کے لیۓ کئی حوالوں سے  خطرناک بھی ہو سکتی ہے ۔

اس حالت میں ڈلیوری کے وقت سر کے بجاۓ پہلے ٹانگیں باہر آتی ہیں. جس کے سبب اگر زیادہ وقت لگ جاۓ تو رحم میں موجود پانی بچے کےاندر بھی جا سکتا ہے. جو پھپھڑوں کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ۔

اگر ماں کےرحم میں دوران حمل اگرجڑواں بچے ہوں تو ان میں سے ایک ضرور اس حالت میں ہو گا ۔ بچے کی زندگی کے لیۓ عام طور پر اس حالت میں ہونے پر ڈاکٹر سی سیکشن کو ترجیح دیتے ہیں

کیا بچے اپنی پوزيشن دوران حمل تبدیل کرتے رہتے ہیں

بچے اپنی پوزيشن ماں کے پیٹ میں تبدیل کرتے رہتے ہیں. خاص طور پر 36 ہفتوں کے بعد بچوں کی حالت میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے ۔ اگر بچہ الٹا یا ترچھا ہو. تو بعض ڈاکٹر یا دائياں اپنے تجربے کی بنیاد پر ماں کو خاص طرح کی ورزشیں کرواتے ہیں. جس سے بچوں کی پوزيشن میں تبدیلی ہو سکتی ہے

لیکن یہ کام کبھی بھی کسی اناڑی سے نہ کروائيں. اس سے ماں اور بچے دونوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس حوالے سے ماہر ڈاکٹر سے مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں. یا پھر ڈاکٹر سے مشورے کےلیۓ 03111222398 پر رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.