سوشل میڈیا پر کرونا ویکسین لگانے والوں کے دو سال بعد مرنے کی خبر جھوٹ ثابت

Reading Time: 4 minutes

کرونا ویکسین کی تیاری کی خبر نے دنیا بھر کو ایک امید کی کرن دکھائی ، جس کے بعد محسوس یہ ہوا کہ دنیا میں اب ایک بار پھر کاروبار زندگی بتدریج نارمل ہو جائيں گے ۔ مگر اس کی تیاری کی تمام تر تیز کوششوں کے باوجود اس کے تجربات اور ان میں کامیابی میں ایک سال کا طویل عرصہ لگا

اس ایک سال نے ہم سے ہمارے سیکڑوں پیاروں کو جدا کردیا ۔ لیکن کرونا ویکسین کی تیاری کی خبر پر سب نے سکھ کا سانس لیا ۔ مگر مختلف ممالک اور مختلف کمپنیوں کی تیار کی گئی کرونا ویکسین اور اس کی استعداد کے بارے میں مختلف قیاس آرائياں وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سامنے آتی رہیں ۔

کرونا ویکسین  لگانے والے دو سال بعد مر جائيں گے

کرونا ویکسین
Image Credit: Twitter

حالیہ دنوں میں واٹس ایپ کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان لوریٹ لیوک مونٹاگنیر کے ایک انٹرویو کے حوالےسے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ جو افراد بھی اب کرونا وائرس سے بچنے کی ویکسین لگا رہے ہیں وہ دو سال بعد ہلاک ہو جائيں گے

اس انٹرویو میں جب ان سے اس وبائی صورتحال میں لوگوں کے حوالے سے ویکسین لگانے کے متعلق جب سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں ان کا یہ کہنا تھا کہ

‘یہ بات سوچ سے بالاتر ہے کہ وبا کے دوران لوگوں کو اس کی ویکسین لگائی جاۓ ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ وائرس اینٹی باڈیز پیدا کر رہا ہوتا ہے جو کہ اس کو مضبوط بناتی ہیں اور یہ ایک قدرتی عمل ہے جو کہ ہر وائرس میں ہوتا ہے۔اور جب اس وائرس کے لیۓ کوئی دوا تیار کی جاتی ہےتو وہ اس دوا کے خلاف اینٹی باڈی بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔

اس حوالے سے انڈیا ٹوڈے کے اینٹی فیک نیوز وار روم کا یہ کہنا ہے کہ لیوک نے فرنچ ادارے کو اپنے انٹرویو میں وبا کی اس صورتحال کے دوران ویکسینیشن کو ایک میڈیکل غلطی ضرور قرار دیا ہے اور انہوں نے اس بات کو قابل غور قرار دیا ہے کہ وائرس ابھی اپنے اندر اور اپنی اینٹی باڈیز کے اندر تبدیلی کے مرحلے میں ہے ۔

مگر انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ وہ لوگ جو یہ ویکسین لگا رہے ہیں دو سال بعد ہلاک ہو جائيں گے

انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے انٹرویو کی تصدیق نہ ہونا

کرونا ویکسین
Image Credit: Twitter

واٹس ایپ پر وائرل ہونے والا یہ انٹرویو دنیا بھر کے کسی بھی پر اعتماد انٹرنیشنل میڈیا نے کور نہیں کیا ہے جب کہ اس انٹرویو پر موجود لوگو جو کہ رئير فاونڈیشن امریکہ کا ہے وہ کوئی میڈیا ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی ایکٹیوسٹ فاونڈیشن ہے جس کا بیان کسی بھی طرح قابل بھروسہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے

اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس فاونڈیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ اس ویکسین کو لگانے والے افراد دو سال کے اندر ہلاک ہو جائيں گے۔ اس کے علاوہ پریس انفارمیشن بیورو نے بھی اس خبر کو جعلی قرار دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اس کو شئير نہ کریں ۔

 پروفیسر لیوک کی جانب سے کیۓ جانے والے اعتراض کا جواب

کرونا وائرس ریسورس سینٹر امریکہ کی نمائندہ میری این لیبرٹ نے نوبل انعام یافتہ پروفیسر لیوک کی جانب سے اٹھاۓ جانے والے اعتراضات کے جواب میں کہا کہ وائرس کے اندر کچھ اینٹی باڈیز ایسی موجود ہوتی ہیں جو کہ اینٹی وائرل سمجھی جاتی ہیں اور وہی اینٹی باڈیز ویکسین کی صورت میں وائرس سے پھیلنے والی بیماری کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہی طریقہ کرونا ویکسین کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر وائرس میں کچھ اینٹی باڈیز ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ وائرس کو سپورٹ کر رہی ہوتی ہیں ۔جن کو اے ڈی ای کہا جاتا ہے ۔ اے ڈی ای وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت کچھ اینٹی باڈيز وائرس کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کرتی ہیں اور بعض اوقات وائرس کی طاقت کو بھی بڑھاتی ہیں ۔ مگر ایسی مثالیں کم ہی ہوتی ہیں

پروفیسر لیوک کا متنازعہ ماضی

کرونا ویکسین

پروفیسر لیوک کو سال 2008 میں فزیالوجی اور میڈیسن میں ان کی تحقیق پر  نوبل انعام دیا گیا جس میں ان کے ہمراہ ان کے دو اور ساتھی فرانکوز بئیر اور ہیرالڈ زیور ہاوسن بھی شریک تھے ۔ ان کو یہ ایوارڈ ایچ آئي وی نامی وائرس کی دریافت پر دیا گیا

مگر ان کا یہ انعام تنازعات سے بھر پور تھا کیوں کہ ان کے اوپر دوسرے لوگوں کی ریسرچ چوری کر کے اپنے نام سے چھپوانے کا الزام تھا ۔

اسی طرح حالیہ کرونا ویکسین کے بیان سے قبل بھی انہوں نے گزشتہ سال کرونا وائرس  کے حوالے سے یہ بیان دیا تھا کہ کرونا وائرس ایک مصنوعی تیار کیا گیا وائرس ہے جو کہ چین  میں ووہان کی لیبارٹریز میں تیار کیا گیا ہے

اسی طرح نوبل انعام حاصل کرنے کے اگلے ہی سال فرانس کی ایک ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر لیوک نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ ایچ آئی وی وائرس جان لیوا نہیں ہے بلکہ مضبوط قوت مدافعت سے اس کو شکست بھی دی جا سکتی ہے ۔

اسی ویب سائٹ کے مطابق پروفیسر لیوک ہر قسم کی ویکسینیشن کے سخت مخالف نظریات رکھتے ہیں اس کے مقابلے میں وہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے اوپر زیادہ یقین رکھتے ہیں

پروفیسر لیوک کے بیان کے اثرات

پروفیسر لیوک کے اس بیان نے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے مگر مستند ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ یہ شر پسند عناصر کی جانب سے خلفشار پھیلانےکے علاوہ اور کچھ نہیں ہے

کرونا وائرس کی ویکسینیشن کے حوالے سے کسی بھی قسم کے مستند اور تجربہ کار ڈاکٹروں سے مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں