(Smog) دُھند ،کہر یا دُھواں۔ لاہور میں کیا چھا گیا

Healthy Lifestyle
smog in lahore
Reading Time: 3 minutes

سڑکوں پر ہر طرف کالا دھواں،اور آسمان پہ چھائی دُھند، نہ موسم ہے نہ وقت ، پھر بھی نظر جہاں بھی جا تی ہے کہرے جیسا حال ہے۔ دور کی عمارتیں نظر نہیں آتیں اور آسمان صاف دکھائی نہیں دیتا یہ ہے لاہور اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا حال۔ یہ کیا ہے جو ہر وقت آسمان میں چھا یا رہتا ہے اور لاہور اور اس کے آس پاس کے لو گوں کو پر یشان کر رہا ہے؟

‘محکمہ موسمیات کے مطابق آسمان پر چھائی یہ دُھند ، اصل میں دُھند نہیں بلکہ جگہ جگہ ہونے والی تعمیرات ، فیکٹریو ں اور گاڑیوں کی آلودگی سے پیدا ہونے والے بادل ہیں جسے ’’سموگ ‘‘ کہتے ہیں۔ لفظ ’’سموگ ‘‘ دو الفاظ ’’دھوئیں اور دُھند‘‘ کا امتزاج ہے جو کہ گاڑیوں کے دھوئیں اور گردوغبار اور زہریلی گیسوں کے ملاپ سے بنتا ہے ۔
سموگ کے دھوئیں نے لا ہور والوں کا دم نکال دیا ہے ۔لاہور کی آب و ہوا کچھ اس طرح ذہریلی ہو گئی ہے کہ بدھ کی صبح ایسا لگا کہ پورا لاہور دھوئیں کی چادر میں لپٹا ہوا ہو۔یہ دھواں اتنا ذیادہ ہے کہ سانس لینا بھی لوگوں کے لیے دوبھر ہو گیاہے ۔سڑکوں پر کئی بار دھواں اتنا ذیادہ ہوجاتا ہے کہ نہ صرف اس سے ایکسیڈنٹ کا خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ آنکھوں میں جلن بھی ہوتی ہے اور سانس کی بھی پروبلم ہوتی ہے۔ موسم کی خشکی اور شہر کی آلودگی سے پیدا ہو نے والی یہ صورتحال صحت کے حوالے سے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر رہی ہے ۔

سموگ کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

دنیا میں فضائی آلودگی کا آغاز سولہویں صدی میں کوئلے کو بطور ایندھن استعمال کرنے سے ہوا۔اٹھارویں اور انیسویں صدی میں لند ن میں آنے والے صنعتی انقلاب نے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ کر دیا۔ آلودہ دُھند یا دھوئیں کے مجموعے کے لیے سموگ کی اصطلاح پہلی بار سن اُنیسوں صدی میں لند ن میں استعمال کی گئی۔ 26 جولائی 1943 میں امریکہ کے شہر لاس اینجلس نے اپنے وقت کی سب سے بڑی سموگ کا سامنا کیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران شدید دُھند کی وجہ سے لاس اینجلس کے شہریوں کو غلط فہمی ہو گئی تھی کہ جاپان نے اُن پر کیمیائی حملہ کیا ہے۔ دسمبر 1952 میں لند ن میں فضائی آلودگی کی لہر کو ’’ڈیگریڈ سموک‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ لند ن میں آلودہ دُھند کی وجہ سے بارہ ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ 1987 میں گیارہ سو سے زائد نوجوان ذہریلی سموگ میں سانس لینے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتر گئے۔

کیا یہ دھواں،یہ دُھند آپ کی صحت کو جان لیوا نقصان پہنچا رہا ہے؟

ہر سال دنیا بھر میں سموگ کے باعث ستر لاکھ افرادمختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔اگر آپ لاہور یا اس کے آس پاس کے علاقے میں ہیں تو آپ کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہو گی۔ہو سکتا ہے آپ کے گھر میں جو گزرگ ہیںیا بچے اُنھیں آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دِقت ہو رہی ہو گی۔
سموگ کے باعث ہونے والی بیماریاں:
دمہ
آنکھوں میں جلن
الرجی
سانس کی بیماریاں
پھیپھٹروں کا ناکارہ ہو جانا
کھانسی
نزلہ و زکام
انفیکشن

:وجوہات

سموگ پیدا ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جیسا کہ:
بارش کا نہ ہونا
جنگلات کی کمی
صنعتوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دُھواں
زرخیز زمین کی بربادی
فضائی آلودگی کا ذیادہ ہونا

:سموگ سے بچنے کی احتیاطی تدابیر

کھلی فضا میں پھرنے سے گُریز کریں۔
گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کریں۔
آنکھوں میں عرقِ گلاب کا استعمال کریں ۔
آنکھوں میں پانی ڈالیں اور باہر نکلتے وقت چشمہ استعمال کریں۔
کھڑکیوں ، دروازوں کو بند رکھیں تاکہ یہ دھواں گھروں میں داخل نہ ہو۔
پارک وغیرہ میں نکلنے سے اجتناب کریں ۔
وہ لوگ جو وا ک کر نے کے عادی ہیں اُنھیں چا ہیے کہ کھلی فضا میں وا ک کر نے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے نہ صرف آنکھوں کا مسئلہ ہو سکتا ہے بلکہ سانس کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

Share This:

The following two tabs change content below.