ہفتے میں 1 یا اس سے زیادہ بار جیون ساتھی سے قربت کے صحت پر اثرات، ماہر جنسیات کی تحقیقات کی روشنی میں جانیں

Reading Time: 5 minutes

میاں بیوی کے تعلقات کا ایک اہم پہلو ان کے قربت کے لمحات بھی ہوتے ہیں ۔اس حوالے سے کچھ افراد کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ جتنے زیادہ قربت کے لمحات جیون ساتھی ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں گے اس سے ان کے درمیان محبت کی ڈور اتنی مضوط ہو گی مگر یہ کوئی حتمی نتیجہ نہیں ہے

کتنا سیکس کرنا  شادی شدہ زندگی کے لیۓ مفید ہو سکتا ہے

قربت
Image Credit:Best Health magazine

شادی کے ابتدائی دنوں کے بعد جب کہ زندگی میں ایک ٹہراؤآنے لگتا ہے اس وقت ہر شادی شدہ جوڑے کے درمیان اس حوالے سےبھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ ہفتے میں کتنی بار سیکس کرنا ان کے باہمی تعلق کو مضبوط کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔

اس حوالے سے ماہر جنسیات کا یہ ماننا ہے کہ سیکس کرنا کسی کام کی یا ڈیوٹی کی طرح نہیں ہے اس وجہ سے اس بات کا حتمی طور پر قیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے کہ ہفتے میں کتنی بار سیکس کرنا ازدواجی تعلقات اور خوشی کے لیۓ بہتر ہو سکتا ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی میں افراد کی عمر ، ترجیحات ، صحت اور مصروفیات کا بھی بہت اثر ہوتا ہے ۔ جنسی تعلقات کے حوالے سے ماہرین کی گئی ایک تح‍قیق کے مطابق چھبیس ہزار جوڑوں پر پانچ سال تک ریسرچ کی گئی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایک نارمل تعلقات والا جوڑا سال میں تقریبا 54 بار ایک دوسرے سے سیکس کرتا ہے ۔

(یاد رہے یہ امریکی جوڑوں پر کی جانے والی تحقیق کا نتیجہ ہے عام طور پر ایشائي ممالک اور خصوصا پاکستان اور بھارت کے ممالک میں یہاں کہ موسم کے اثرات کے سبب یہ تناسب زیادہ بھی ہو سکتا ہے )اس اعتبار سے ان جوڑوں نے اوسط ہفتے میں ایک بار سیکس کیا

تاہم اگر شادی شدہ جوڑوں کی عمر 20 سال سے 30 سال کے درمیان تھی تو ان کے درمیان یہ تناسب زیادہ تھا جب کہ عمر کے ساتھ ساتھ سیکس کی تعداد میں بھی قدرتی طور پر کمی آنا شروع ہو جاتی ہے

تاہم ماہر جنسیات کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ شادی شدہ جوڑوں کے درمیان زیادہ یا کم سیکس ہونا خوشگوار ازدواجی زندگی کی ضمانت نہیں ہوتی ہے ۔

قربت کے لمحات  کو متاثر کرنے والے محرکات

قربت
Image credit:Clevland Clinic

سیکس کرنا صرف ایک جسمانی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں ذہنی ، جسمانی اور جزباتی تمام ہی محرکات کرم فرما ہوتے ہیں اور ان تمام عوامل کے بغیر ایک اچھا اور بہترین کوالٹی کا سیکس کرنا ممکن نہیں ہے میاں بیوی کے قربت کے پلوں پر جو بیرونی عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہو سکتے ہین

ذہنی دباؤ ، عمر کے اثرات ،روزمرہ کی روٹین ،مصروفیات ، میاں بیوی کے باہمی تعلقات یہ تمام عناصر جنسی تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں اور قربت کے مواقعوں میں کمی کا سبب بھی بن سکتے ہیں

جنسی زندگی اور قربت کے لمحات کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے

اپنے جیون ساتھی کے ساتھ قربت کے پلوں کی کوالٹی بہتر بنانے کے لیۓ چھ اہم اقدامات ایسے ہیں جس سے ان کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

ذہنی دباؤ کو کم کریں

قربت
Image Credit: Spine Universe

جرنل آف سیکجوئل میڈیسن کے مطابق جو خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں ان کے اندر جنسی خواہش اور تحریک میں واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے اس وجہ سے اگر آپ کا جیون ساتھی کسی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو اس صور ت میں پہلے اس سے بات کر کے اس کی الجھن اور ذہنی دباؤ کا حل نکالیں اس کے بعد ہی قربت کے پلوں کی بہتری کی امید رکھیں

جیون ساتھی کی خواہشات کو سمجھیں

جنسی قربت سے قبل آپ کو اس بات سےآگاہی ہونی چاہیۓ کہ آپ کی خواہشات کیا ہیں اسی طرح جس طرح آپ کے لیے آپ کی خواہشات اہم ہیں اسی طرح آپ اپنے جیون ساتھی کی خوشی کا بھی ان پلوں میں خیال رکھیں یہ آپ کی جنسی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے

ایک جیسی روٹین بور کر سکتی ہے

جنسی تعلقات خوشی کا سبب ہوتے ہیں لیکن اگر وہ ایک روٹین کی طرح گزارا جائیں تو ان کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے اس وجہ سے اس میں کچھ نیا ڈھونڈنے کا پہلو ضرور تلاش کریں

قربت کے لمحات سے قبل اپنے ساتھی کو اس کے لیۓ تیار کریں

قربت
Image Credit: Men Health

قربت کے پل اسی وقت خوشی کا سبب ہو سکتے ہیں جب کہ آپ کا ساتھی اس کے لیۓ پوری طرح تیار ہو اس کے لیۓ بیڈ روم میں آنے سے پہلے تیاری ضروری ہے ۔ جیون ساتھی کے ساتھ پیار و محبت اور توجہ سے اس کو اس کے لیۓ تیار کریں

اپنے جیون ساتھی سے بات کریں

میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں اس وجہ سے ان کا ایک دوسرے سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے قربت کے پل پر بات کرنا عام طور پر اکثر میاں بیوی بہت معیوب سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ اپنی خوبصورتی کھو دیتے ہیں اس وجہ سے اپنے جیون ساتھی سے اس بارے میں بات کریں اس کی پسند اور ناپسند کے بارے میں پوچھیں اور اس سےآگاہی حاصل کریں

قربت کے پلوں کے صحت پر اثرات

جنسی طمانیت سے بہت سارے طبی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں جن میں سے کچھ اس طرح سے ہیں

اس سے ایسے ہارمون خارج ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ کا خاتمہ کرتے ہیں اور خوشی کا سبب ہوتے ہیں

یہ ایک قسم کی جسمانی ورزش بھی ہے جو جسم کو اور خصوصا دل کے افعال کو بہتر بناتا ہے

مردوں میں یہ پراسٹیٹ کینسر کا اور خواتین میں یہ یوٹرس کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے

اگر آپ اپنی جنسی زندگی سے مطمئین نہیں ہیں یا آپ کو اس حوالےسے مسائل کا سامنا ہے اور آپ ڈاکٹر کے پاس شرم اور جھجھک کی وجہ سے جانے سے گریز کر رہے ہیں تو آپ کے لیۓ بہترین حل یہ ہے کہ آپ مرہم ڈاٹ پی کےکی ویب سائٹ کا وزٹ کریں اور آن لائن مشورہ حاصل کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Guest writers

Latest posts by Guest writers (see all)