جلد پر چکناہٹ اور ایکنی کا علاج ان 6طریقوں سے ممکن

Reading Time: 4 minutes

جلدکےمسائل اس موسم میں سب ہی  کو جھیلنے پڑتے ہیں۔برسات کے موسم میں ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے جو بالوں اور ہماری جلد پر چکناہٹ اور تیل پیدا کرتی ہے۔جس کی وجہ سے ہمارےبال بھی جھڑتے ہیں اور چہرے کی جلد پر دانے اور مہاسے بھی ہوتے ہیں۔جلد کی خوبصورتی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس موسم میں بھی اس کی حفاظت کریں۔

چہرےکی جلد ہر چکناہٹ اور تیل کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیےکونسے طریقے اپنانے چاہیے اگرآپ ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ بلاگ لازمی پڑھئیں اس سے آپ فائدہ حاصل کرسکیں گے۔

جلد پر اضافی تیل کا علاج-

ہم مختلیف چیزوں کے استعمال سے کیسے تیل کو ختم کرسکتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

اپنے چہرے کو دھوئیں-

322795675

جب ہم اپنے چہرے کو دھوتے ہیں تو اس سے اضافی تیل ختم ہوتا ہے۔اس سے بچنے کے لئے اپنے چہرے کو دن میں دوبارلازمی دھوئیں۔خوشبو والے صابن کا استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔اگرآپ ورزش یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی کرتے ہیں تو اس کے کچھ دیر بعد اپنا چہرہ لازمی دھوئیں۔اس سے بھی چہرے کی چکناہٹ دور ہوتی ہے۔

بیسن کا استعمال-

ہم بیسن کو نہ صرف پکوڑے بنانے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں بلکہ اس کا استعمال ہم اپنے چہرے پر بھی کرسکتے ہیں۔اس کی مدد سے اپنے چہرے سے اضافی تیل اور چکناہٹ کو ختم کرتے ہیں۔جب ہم بیسن سے منہ دھوتے ہیں تواس سے چکنائی دور ہوتی ہے۔

شہد-

اس کے نہ صرف کھانے میں مفید ہے بلکہ اس کا استعمال ہماری جلد کے لئے بھی بہت اچھا ہے۔اس میں اینٹی بیکٹریل اور اینٹی سیپٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں۔جو کسی بھی قسم کے انفیکشن سے روکتا ہے۔یہ قدرتی طریقہ ہے یہ  ہماری جلد کو نم رکھتا ہے لیکن تیل نہیں دیتا۔جلد سے کیل مہاسے ختم کرنے کے لئے یہ مفید ہے۔

جو افراد اضافی تیل اور چکناہٹ سے پریشان ہیں وہ اپنے چہرے پر دن میں ایک بار لازمی شہد لگائیں۔

دلیا-

یہ تمام وہ قدرتی چیزیں ہیں  جن کو کھانے سے بھی ہم بہت سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔دلیا ہماری جلد سے سوجن کوکم کرنےاور تیل کو جذب کرنے میں مدددیتا ہے۔ہم اس کا ماسک بناکربھی اپنےچہرے پر لگاسکتے ہیں۔اس کے اندر ہم شہد،کیلا اور کوئی بھی پھل شامل کرکے اس کا ماسک بنا کر اپنے چہرے پر لگا سکتے ہیں۔

اپنے چہرے  کی جلد سے چکناہٹ کو دور کرنے کے لئے ایک چمچ شہد لیں اس میں تھوڑا سا گرم پانی شامل کریں۔اس کے علاوہ اس میں تھوڑا سا شہد ملائیں۔اس کو 10 سے 15 منٹ کے لئے اپنے چہرے پر لگائیں اور دھو لیں۔

انڈے کی سفیدی اور لیموں-

180491195

ہم انڈے کی سفیدی سے جلد پر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔لیموں میں موجود ایسڈ ہماری جلد سے تیل کو جذب کرنے کے لئے مفید ہے۔اس میں اینٹی بیکٹریل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کسی بھی انفیکشن کو ختم کرنے کےلئے مفید ہے۔ہم انڈے اور لیموں کے ماسک کی مدد سے اپنے چہرے سے اضافی تیل کو ختم کرسکتےہیں۔

اس کا ماسک بنانے کے لئے ایک چمچ لیموں کا رس لیں اور ایک انڈے کی سفیدی لیں۔ان دونوں کو ملا کر 10 سے 15 منٹ کے لئےاپنے چہرے پر لگائیں۔جب یہ خشک ہوجائے توشفاف پانی سے اپنا منہ دھولیں۔

ایلوویرا-

ہماری جلد کےتمام مسائل کے لئے ایلوویرا بہت مفید ہے۔ہم اس کی مدد سے کسی بھی قسم کی الرجی کے علاوہ سوزش کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔حساس جلد پر ایلوویرا انفیکشن بھی کرسکتی ہے اگرآپ نے پہلے کبھی ایلوویراکا استعمال نہیں کیا توآپ پہلے اس کو اپنے سر پر لگا کر دیکھ لیں اگر آپ کوکوئی الرجک ردعمل سامنے نہیں آتا تو آپ اس کا استعمال اپنے چہرے پر بھی کرسکتے ہیں۔

چہرے کی خوبصورتی کے لئےاہم نکات-

ہم چمکدار اور دلکش جلد حاصل کرنے کے لئے ان نکات کو لازمی اپنانا چاہیے۔

پانی کا استعمال-

ہمیں چہرے کی خوبصورتی کے لئے دن میں زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہماری مجموعی صحت کے لئے بھی بہت مفید ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کا استعمال-

جلد

سبزیوں اور پھلوں میں وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لئے بہت مفید ہے۔ہمیں لازمی سلاد کی صورت میں سبزیوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ان کی مدد سے ہم اپنا مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر ہم بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔

تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز-

یہ ہماری صحت پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ان کا استعمال نہ صرف ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ ہمارے چہرے پر کیل مہاسے کی پیداوار میں بھی اضافہ کرتے  ہیں۔

اگر ہم ان چیزوں کااستعمال اپنے چہرے پر کرتے ہیں تو چکناہٹ  سے بچ سکتے ہیں۔لیکن اگرآپ کی جلد بہت حساس ہے تو آپ ایک بار ڈاکٹر سے مشورہ لازمی لیں۔آپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ سے ایک اچھے ڈرمیٹالوجسٹ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن بھی لے سکتے ہیں۔

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences