انسانی حاجات جن میں سے 6 کو روکنا بڑے مسائل کا باعث ہو سکتا ہے

Reading Time: 5 minutes

انسانی حاجات سے مراد جسم کے نظام کو چلانےکے لیۓ کچھ ایسے افعال ہیں جن کو کرنا تو انسان کے اختیار میں ہے مگر ان کو روکنا جسمانی نظام کی بڑی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں

اللہ تعالی نے انسان کے جسم کو ایک پیچیدہ مشین کی صورت میں بنایا ہے ۔ جس طرح مشین کو کام کرنے کے لیے فیول کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسانی جسم کو بھی کام کے قابل رہنے کے لیۓ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے تمام پرزے یا اعضا اسی وقت تک درست حالت میں اپنے افعال انجام دے سکتے ہیں جب تک ان کی دیکھ بھال مناسب انداز میں کی جاۓ

انسانی حاجات جن کو روکنا خطرنا ک ہو سکتا ہے

انسانی حاجات میں ویسے تو سانس لینا بھی شامل ہے مگر چونکہ دل کا دھڑکنا ، سانس لینا ، پیشاب پاخانے کا بننا وغیرہ جیسے عمل جسم میں خود بخود عمل پزیر ہوتے ہیں اور ان میں انسان کے ارادے کا دخل نہیں ہوتا ہے مگر کچھ انسانی حاجات ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر انسان کا کسی حد تک زور  چلتا ہے اور ان حاجات کی انجام دہی میں تاخیر انسان کی صحت کو خطرات سے بھی دوچار کر سکتی ہے

پیشاب کا روکنا

انسانی حاجات
Image Credit: Medicine Net

پیشاب کے بننے کا عمل انسان کے گردوں میں انجام پزیر ہوتا ہے اس کا کام جسم کے اندر موجود نائٹروجنی فاضل مادوں کو خارج کرنا ہوتا ہے ۔ یہ زہریلے مادے ہوتے ہیں جن کا جسم میں جمع ہونا جسم کے اندر زہر پھیلنے کے مساوی ہو سکتا ہے

پیشاب بننے کے بعد مثانے میں جمع ہو جاتا ہے جس کے بعد اعصاب دماغ کو اس کو خارج کرنے کا حکم دیتا ہے انسانی حاجات میں سے پیشاب کو اس پیغام کے بعد خارج کرنا بہت ضروری ہوتا ہے جس کے حوالے سے حکیم لقمان کا یہاں تک کہنا ہے کہ اگر گھوڑے کی پشت پر بیٹھے ہوۓ بھی پیشاب کی حاجت ہو تو اس کو پشت سے اترنے تک کا انتظار کرنا بھی انسان کے لیے خظرناک ثابت ہو سکتا ہے

انسانی حاجات میں پیشاب کو زيادہ دیر تک روکے رکھنے سے گردے اور مثانے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ متلی ، الٹی جسم میں درد بھی ہو سکتا ہے

پاخانے کو روکنا

پیشاب کے بعد پاخانہ بھی انسانی حاجات میں سے اہم ترین حاجت ہے پاخانہ درحقیت وہ فاضل مادے ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کھانے کو ہضم کرنےکے بعد نکالتا ہے یہ بڑی آنت یا ریکٹم میں آکر جمع ہو جاتا ہے

اس کو روکنے کی کوشش نظام ہاضمہ میں زہریلی گیس پیدا کرنے کا باعث ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ انتوں کے لیۓ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ اسی سبب قبض جیسی بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ جسم میں زہریلے مادوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے ۔

گیس یا ڈکار کا روکنا

انسانی حاجات

معدے میں کھانے کو ہضم کرنے کے عمل کے دوران فاضل گیسیں بنتی ہیں جو ریاح یا ڈکار کی صورت خارج ہوتی ہیں اگرچہ یہ ایسی انسانی حاجت ہے جو کہ سب کے سامنے خارج کرنا معاشرے کے اطوار کی خلاف ورزی تصورکی جاتی ہے مگر معاشرے کے خیال سےان کو روک کر رکھنا انسانی جسم کے لیۓ کئی حوالوں سے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے

اگر اس کو روکا جاۓ تو یہ نہ صرف پیٹ میں گیس کی صورت میں بھر جاتی ہے اس سے پیٹ پھول سکتا ہے سر درد بدہضمی وغیرہ کاباعث بن سکتی ہے ۔

قے یا الٹی کا روکنا

انسان کے جسم میں ایک قدرتی مدافعتی نظام قائم ہے جس کے مطابق عمل کرتے ہوۓ اگر ہاضمے کے عمل میں کسی قسم کے مسائل ہوں تو الٹی کی صورت میں کھانا باہر آجاتا ہے ۔ یہ الٹی درحقیقت اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ کھانا جسم کا حصہ بننے کی اہلیت نہیں رکھتا ہے یا جسمانی نظام میں ایسی خرابی واقع ہو گئی ہے جو کہ اس کھانے کو ہضم کرنے کے قابل نہیں ہے

انسانی حاجات میں سے اس کو روکنا انتہائی خطرنا ک ہو سکتا ہے اسکے واپس پیٹ میں جانے سے جسم میں زہر پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے جو کہ جسم کے اہم اعضا یعنی گردوں اور جگر کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے

چھینک کو روکنا

انسانی حاجات
Image Credit: Healthline

ہمارے پھپھڑوں کی صفائی کے لیۓ اللہ تعالی نے ناک میں بال بناۓ ہوۓ ہیں یہ ننھے ننھے بال پھپھڑوں میں گرد و غبار کو جانے سے روکتا ہے ۔ لیکن اگر کوئی ذرہ داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو قدرتی مدافعتی نظام کے باعث چھینک وہ انسانی حاجات میں شامل ہے جس کے ذریعے اس ذرے کو داخل ہونے سےروکا جاسکتا ہے

لیکن اگر آپ چھینک کو زبردستی روکنے کی کوشش کریں گے تو اس صورت میں یہ ذرہ پھپھڑوں میں داخل ہو کر انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے

اس قسم کے کسی بھی انفیکشن کی صورت میں پھپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ انفیکشن بڑھنےکی صورت میں پھپھڑوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ پھپھڑوں کے ماہر ڈاکٹر سے رابطے کےلیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ پر وزٹ کر کے ان سے اپائنٹمنٹ لیا جا سکتا ہے یا پھر 03111222398 پر براہ راست کال کر کے بھی آن لائن مشورہ لیا جاسکتا ہے

نیند کی صورت میں جاگتے رہنا

جس طرح ہر مشین کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ وقت کا آرام اس مشین کی زںدگی میں اضافےکا سبب بن جاتا ہے اسی طرح انسانی جسم کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس ضرورت کو نظر انداز کر کے اگر جاگتے رہنے کی کوشش کی جاۓ تو جسم اس انسانی حاجت کے غیر مکمل ہونے کے سبب احتجاج کا راستہ اختیار کرتا ہے

جس کی وجہ سے قوت مدافعت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ سر درد کا ہونا ایک عام بات ہے اس سے بلڈ پریشر ہائی ہو سکتا ہے جس سے دل کے دورے اور فالج جیسی بیماریوں کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے

بھوک کی صورت میں کھانا نہ کھانا

انسانی حاجات
Image Credit: Mediaray

جس طرح ہر مشین کو کام کرنے کے لیۓ فیول کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہمارا کھانا ہمارے جسم کے لیۓ فیول کا کام کرتا ہے اگر بھوک کی صورت میں جسم کو غذا فراہم نہ کی جاۓ تو اس سے جسم کا تمام نظام ہی کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے

اگر اس عمل کو عادت بنا لیا جاۓ تو اس صورت میں رفتہ رفتہ جسم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ اعضا میں کمزوری پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے جسم کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ اس وجہ سے اس انسانی جاجت کی تکمیل ہمیشہ وقت پر کرنا ضروری ہے

The following two tabs change content below.