موبائل فون کے بغیر آپ کے دماغ اور جسم کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے جانیں

Reading Time: 4 minutes

موبائل فون ہماری زندگی کا وہ حصہ بن گیا ہے. جس کو ایک محتاط اندازے کے مطابق دن بھر میں دو ہزار چھ سو سترہ دفعہ چھوتے ہیں ۔اگر آپ اس بات کو تسلیم نہ بھی کریں کہ آپ موبائل فون کے نشے میں مبتلا ہیں۔ تب بھی موبائل فون آپ کی زندگی کی اہم ترین جگہ لے چکا ہے ۔

موبائل فون سے دور ہونے جسم و دماغ کا ردعمل

سائنسدانوں نے اس حوالے سے ایک تحقیق کی. جس میں انہوں نے لوگوں سے ایک ہفتے تک موبائل فون لے لیا. اور اس کے دماغ اور جسم پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جو کہ کچھ اس طرح سے تھا

نوموفوبیا میں مبتلا ہو گئے

موبائل فون
image credits: clevland clinic

جن افراد سے ان کا فون ان کی رضا سے ایک ہفتے کے لیۓ تحقیق کے سبب لے لیا گیا تھا .ان افراد کا ردعمل بہت حیرت انگیز تھا ۔ اور وہ لوگ ایک نفسیاتی بیماری نوموفوبیا میں مبتلا ہو گۓ .جس کی علامات میں ان کو یہ محسوس ہو رہا تھا. کہ وہ اپنی قریبی چیز اپنے موبائل فون سے دور ہو گۓ ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ صہ شدید ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو گۓ .اور ان کی یہ حالت ان کو ڈپریشن ، اشتعال اور جلد غصے میں آجانے کا بھی باعث بنی ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں یوں لگ رہا تھا .کہ وہ اپنی عزیز ترین چیز سے دور ہو گۓ ہیں. جس کے سبب ان کا دم گھٹ رہا تھا ۔ دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ، ان کے دماغ کے کام کرنے کی استعداد میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ۔

لیکن نوموفوبیا کا دورانیہ مختلف افراد میں مختلف رہا ۔ کچھ افراد اس حالت سے چند ہی دنوں میں باہر آگے اور نارمل بی ہیو کرنے لگے. جب کہ کچھ افراد کو اس حالت سے باہر آنے میں کافی وقت لگا

اس حوالے سے مذید معلومات کے لیۓ یہاں کلک کریں 

کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگیں

یہ علامت عام طور پر ان افراد کو ہوتی ہے جو کہ کسی بھی قسم کا نشہ کرتے ہیں.  اس نشے کو چھوڑنے کے سبب ان کا دماغ عجیب انداز میں ردعمل ظاہر کرتا ہے . ان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے کانوں میں گھنٹیاں بج رہی ہوتی ہیں. ایسا ہی کچھ موبائل فون سے دور ہونے والے افراد کے ساتھ بھی ہوا . ان کے کانوں میں بار بار موبائل کی رنگ ٹون یا میسج ٹون بجتی ہوئی محسوس ہوئي ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو سر درد اور متلی  کی شکایت کا بھی سامنا کرنا پڑا

اس کیفیت کا شکار وہ افراد زیادہ ہوتے ہیں .جو کہ موبائل فون پر گیم کھیلتے ہیں ۔ کیوں کہ موبائل پر گیم کھیلنے سے ان کے جسم میں ڈوپامائن نامی خامرے کی شرح بڑھتی ہے. جو کہ موبائل فون کے نہ ہونے کے سبب کم ہو جاتی ہے اور اس کی کمی کے سبب انسان اداسی اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے

رفتہ رفتہ اردگرد کی اشیا کو محسوس کرنے لگتے ہیں

موبائل فون
Image Credit: Bright Side

موبائل فون کا شمار ایسی اشیا میں ہوتا ہے .جو کہ ایک حسین اور جوان معشوقہ کی طرح اپنے عاشق کو کسی اور جانب دیکھنے کا موقع نہیں دیتی ہے ۔ مگر جب اس سے دوری ہوتی ہے. تو انسان کے اعصاب اور حسیں رفتہ رفتہ کام کرنا شروع ہو جاتی ہیں ۔اور انسان جن چیزوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے ان کی اہمیت اس پر واضح ہونے لگتی ہے

 پرسکون ہوتے جائيں گے

ایک طویل عرصے تک نشہ میں مبتلا رہنے کے بعد دماغ پر سکون ہونے لگتا ہے.  انسان کا جسم اور دماغ ایک نئی توانائی محسوس کرتا ہے ۔ اور انسان کو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے .جیسے کہ وہ اس دنیا مین ابھی ابھی آیا ہے. اس کے انداز میں ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے .وہ دنیا کی ہر چیز اور تعلق کو نۓ سرے سے استوار کرتا ہے

نیند میں بہتری آتی ہے

ہمارا دماغ روشنی کے حوالے سے بہت حساس ہوتا ہے . موبائل فون کی نیلی روشنی میلاٹونن نامی خامرے کے بننے میں کمی کا باعث ہوتی ہے. جس کی وجہ سے دماغ پرسکون نیند لینے سے قاصر ہوتا ہے ۔

جب کہ فون سے دور ہونے کےبعد دماغ پرسکون نیند کا سبب بن جاتا ہے .جس سے انسان کے مزاج میں خوشی اور طمانیت پیدا ہوتی ہے

دماغ آزاد ہو جاتا ہے

دماغ موبائل فون کے سبب ایک قید میں ہوتا ہے ۔ جس کا کنٹرول فون کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ کیا سوچنا ہے کیا دیکھنا ہے اور کیا محسوس کرنا ہے اس سب کا فیصلہ آپ کے فون کی اسکرین کرتی ہے

مگر ایک خاص وقت تک موبائل فون سےدور ہونے کے باعث دماغ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دوبارہ سے حاصل کر لیتا ہے. اور اپنے طور پر سوچنے سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

اکثر اوقات ایسی خبریں بھی سامنے آتی ہیں کہ بچے موبائل فون کے زیادہ استعمال کے سبب نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گۓ. ایسی صورت میں ماہر نفسیات سے رابطے کے لیۓ یہاں کلک کریں 

اس کے علاوہ دیگر حوالوں سے ماہر اور مستند ڈاکٹروں سے آن لائن مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.