اگر سب کچھ نارمل ہے تو حمل کیوں نہیں ٹہر رہا ؟ 5 بنیادی وجوہات

Reading Time: 4 minutes

کسی بھی عورت کی زندگی کے دو موقع بہت خاص ہوتے ہیں ایک اس کی زندگی کا وہ وقت جب شادی کے بندھن میں بندھتی ہے دوسرا وہ وقت جب اس کو ماں بننے کی نوید ملتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ہر لڑکی کے اندر اللہ تعالی نے ممتا کا جزبہ اس کی پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ جوڑ دیا ہوتا ہے

حمل نہ ٹہرنے کی وجوہات

حمل
Image Credit:Clevland clinic

شادی کے بعد ہر جوڑے کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد نۓ خاندان کی شروعات کر سکیں اور اس خوشخبری کا انتظار اس جوڑے کے ساتھ ساتھ ان سے جڑے اور لوگوں کو بھی ہوتا ہے مگر بعض اوقات ہماری اپنی کچھ کوتاہیاں اس خوشخبری کو ہم سے دور لے جاتی ہے ۔ خواہش اور کوشش کے باوجود حمل نہں ٹہر پاتا ہے جو کہ مایوسی کا باعث ہوتا ہے ۔

جب یہ خواتین ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں تو ڈاکٹر ان کو چیک کر کے یہ تو بتادیتے ہیں کہ سب نارمل ہےاور جب اللہ کی مرضی ہو گی تو حمل ٹہر جاۓ گا مگر یہ نہیں بتاتے ہیں کہ حمل نہ ٹہرنے کی کیاوجوہا ت ہوسکتی ہیں ۔

وزن

حمل
Image Credit:Bolly Wood .com

جو خواتین موٹاپے کا شکار ہوتی ہیں اور اپنے اس موٹاپے کو صحت مندی کی علامات سمجھتی ہیں ایسی خواتین کے اندر حمل کا ٹہرنا کافی حد تک مشکل ہو جاتا ہے اسی طرح جن خواتین کا وزن بہت کم ہوتا ہے یا وہ بہت کمزور ہوتی ہیں ایسی خواتین میں بھی حمل ٹہرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔کیوں کہ وزن کا براہ راست تعلق حمل کے ٹہرنے کی استعداد سے ہوتا ہے جو کہ وزن کی کمی یا زیادتی کے سبب متاثر ہو سکتی ہے

نیند

یہ بات بہت سارے لوگوں کے لیے کافی حیرت کی ہو گی کہ نیند کا حمل سے کیا تعلق ہو سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ نیند کی کمی انسان کی قوت مدافعت کو تو متاثر کرتی ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ کا بھی باعث ہوتی ہے

جس کی وجہ سے عورتوں میں نیند کی کمی ماہواری کے سائیکل کی خرابی جب کہ مردوں میں نیند کی کمی اسپرم کی تعداد اور طاقت میں کمی کا سبب بن حاتی ہے جس کی وجہ سے حمل کا ٹہرنا مشکل ہو جاتا ہے

بہت زیادہ یا بہت کم سیکس کرنا

حمل
Image Credit: Parents

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ سیکس کرنے سے حمل کے ٹہرنے کے امکانات بڑھ سکتےہیں تو یہ ایک غلط خیال ہے ۔ کیون کہ اس طرح آپ بہت زیادہ تھکن کا شکار ہو سکتے ہیں اور آپ کے اندر سیکس خواہش کے بجاۓ صرف ایک ذمہ داری کے طور پر کرنےکا خیال ہو گا جس سے حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں

اسی طرح بہت کم سیکس کرنے سے بھی اویولیشن کے وقت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جو وقت حمل کے ٹہرانےکے لیۓ بہترین ہوتا ہے بغیر سیکس کیۓ گزر جاتا ہے جس سے حمل نہیں ٹہر پاتا ہے ۔

سیکس کے فورا بعد پیشاب کرنا

سیکس کرنے کے فورا بعد باتھ روم کی جانب صفائی کے خیال سے بھاگنا آپ کی صفائی پسندی کی دلیل تو ہو سکتی ہے لیکن اس طرح حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں کیون کہ جب آپ باتھ روم جا کر پیشاب کرتی ہیں تو اس سے اندر داخل ہونے والے زیادہ تر اسپرم خارج ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پانی کا شاور باقی رہے سہے اسپرم کو بھی باہر کا راستہ دکھا دیتا ہے جس سے حمل کے ٹہرنے کے امکانات تقریبا ختم ہو جاتے ہیں

غیر صحت مندانہ طرز زندگی

قدرتی طور پر حمل کے ٹہرنے کے لیۓ میاں بیوی دونوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے تمباکو نوشی ، جنک فوڈ اور نیند میں بے قاعدگی ایسی وجوہات ہیں جو بظاہر حمل کے ٹہرنے سے جری ہوئی محسوس نہین ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ان کے سبب جسم کے ہارمونل نظام میں بگاڑ دیکھنے میں آتا ہے جو کہ حمل کے ٹہرنے کے عمل میں رکاوٹ کا با‏عث ہوتا ہے ۔

حمل
Image Credit:Bolly Wood shadi

کتنے عرصے تک حمل نہ ٹہرنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیۓ

اگر چھ ماہ سے ایک سال کی مستقل کوشش کے باوجود حمل نہ ٹہر پا رہا ہو اور بظاہر ماہواری بھی نارمل ہو اور کوئی دیگر علامات بھی واضح نہ ہو تو اس صورت میں کسی بھی ماہر امراض نسواں سے عورت کا اور مردوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر سے مرد کو اپنا معائنہ کروا لینا چاہیۓ ۔

اس حوالے سے آن لائن مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ بھی وزٹ کی جا سکتی ہے یا 03111222398 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے