ڈیمیینشیا(بھولنے کی بیماری) کا خطرہ کم کریں

Reading Time: 2 minutes

دماغ کی صحت کا خیال رکھنا ہر عمر میں اہم ہے لیکن ادھیڑ عمر میں پہنچنے کے بعد یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ڈیمینشیا یا بھولنے کی بیماری کا لاحق ہونا ایک پریشان کن امر ہے جو کہ بڑھتے بڑھتے مریض کو روزمرہ کے کاموں میں بھی مدد کا طلب گار بنادیتا ہے۔ اس مرض سے بچنے کی ہر ممکن کو شش کرنی چاہیئے دماغ کی بیماریوں کے بارے میں مشورے اور علاج کے لیے ایک اچھے نیورولوجسٹ سے مرہم کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا  ہے۔-اس کے خطرے کو کم کرنے کے  لئے کچھ اقدامات اہم ہیں جن کا ذکر یہاں کیا جا رہا پے۔

یہ اقدامات نہ صرف آپ کی دماغی صحت کے لئے اچھے ہیں بلکہ یہ آپ کو دیگر دائمی بیماریوں جیسے کہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کینسر سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دل کی صحت کا خیال رکھیں

یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ جو آپ کے دل کی صحت کے لیے اچھا ہے وہی آپ کے دماغ کی صحت کے لیے مفید ہے۔ وہ تمام بیماریاں جو آپ کے دل اور شریانوں کی صحت کو متاثر ک رسکتی ہیں وہ دماغ پر اثر انداز ہو کر یادداشت کو بھی کم کر سکتی ہیں۔ ذیابیطس، بلڈپریشر اور کولیسٹرول جیسی بیماریون کا ادھیڑ عمر میں ہونا ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے معالج سے باقاعدگی سے معائنہ کرواتے رہیں اور ٹیسٹوں کے زریعے اپنی صحت سے باخبر رہیں۔ اس ضمن میں تمباکونوشی سے پرہیز بھی بہت ضروری ہے۔

جسمانی مشقت جاری رکھیں

جسمانی مشقت سے نہ سرف جسم صحت مند رہتا ہے بلکہ یہ دماغ کی صحت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ جسمانی مشقت کرنے سے دماغ کو خون کی روانی بہتر رہتی ہے۔ ایسی مشقوں سے دماغ میں نئے خلیے بنتے ہیں اور پہلے سے موجود خلیوں میں تعلق کو فروغ ملتا ہے۔ اگر آپ جوڑوں یا پٹھوں کے مسائل کی وجہ سے ورزش نہیں کر پا رہے تو ایک اچھے کائروپریکٹر سے علاج کروانا آپ کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ذہنی طور پر سرگرم رہیں

دماغ کو سرگرم رکھنا بھی جسمانی حرکت کرتے رہنے کی طرح اہم ہے۔ دماغی سرگرمیوں میں اضافہ دماغ کی صحت کو فروغ دیتا ہے۔ کوئی نیا کھیل کھیلنا یا نئی ذبان سیکھنا آپ کے دماغ کی صحت کے لئے اچھا ہے۔ اسی طرح وہ تمام سرگرمیاں جو دماغ کو سوچنے اور نئے حل نکالنے پر مجبور کرتی ہوں وہ دماغ کی صحت کے لئے مفید ہیں۔

اچھی غذا کا استعمال کریں

آپ کی غذا میں شامل ہر چیز آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے۔  دماغ کی صحت کو قائم رکھنے اور اس میں بہتری کے لئے بہت سے غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔ متوازن غذا میں سبزیاں، پھل، بغیر چکنائی کا گوشت،صحت بخش چکنائی اور بغیر چکنائی کا دودھ شامل ہیں۔  تلی ہوئی ، میٹھی اور بازاری اشیا کا استعمال نہ کریں۔

سماجی مصروفیات بھی فائدہ مند ہیں

اپنی پسند کے لوگوں کے ساتھ اچھا گزارا ہوا وقت اور سماجی سرگرمیاں بھی دماغ کی صحت کو جلا بخشتی ہیں۔ اپنے دوستوں اور عزیزوں سے ملنا اور بچوں کے ساتھ وقت گزاری دماغ کو چاک وچوبند رکھتی ہے۔

دماغ کی صحت کا خاص خیال کیجیئے کیونکہ عمر میں اضافے کے ساتھ اس کے لیے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

Leave a Comment