(FLU SHOTS) فلو کی سالانہ ویکسین

Healthy Lifestyle
FLU SHOTS
Reading Time: 3 minutes

ہم میں سے اکثر لوگ فلو سے متاثر ہونے پر کئی دن تک تھکن، سر درد، جسم کا درد، ٹھنڈ لگنے اور بخار جیسی علامات کا شکار رہتے ہیں۔بہت سے لوگ کچھ ہی دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں خاص طور پر بچے، بڑی عمر کے لوگ اور دمہ کے مریض جن کے لیے فلو سے متعلق پیچیدگیوں کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ فلو انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ ایک سے دوسرے فرد میں بہت جلدی منتقل ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے موسمی فلو سے بچنے کے طریقے موجود ہیں اور ان میں سب سے بنیادی طریقہ سالانہ ویکسین حاصل کرنے کا ہے۔

اس مضمون میں فلو کی ویکسین سے متعلق بنیادی معلومات شامل ہیں۔

کیا موسمی فلو کی ویکسین لگوانے سے فلو ہو سکتا ہے؟

فلو کی ویکسین دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک شاٹ یا انجکشن کی صورت میں دی جاتی ہے جب کہ دوسری ناک میں کیے جانے والے سپرے کی صورت میں دستیاب ہے۔ دونوں اقسام کی ویکسین فلو کا باعث نہیں بنتی ہیں اگرچہ ناک میں سپرے کی جانے والی ویکسین سے مختصر وقت کے لیے ناک بند ہونے اور بہنے کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ دونوں طرح کی ویکسین سے آپ کا مدافعتی نظام انفلوئنزا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے اور اس سے آپ کے جسم میں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور آپ فلو کا شکار نہیں ہوتے۔

ناک میں سپرے کی جانے والی ویکسین دو سے انچالیس سال تک کی عمر کے صحت مند افراد میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ حاملہ خواتین اس کا استعمال نہیں کر سکتی ہیں۔ کسی بھی دائمی مرض کا شکار افراد اس کا استعمال نہ کریں اس کے علاوہ وہ افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو وہ بھی اس ویکسین کے استعمال سے گریز کریں۔

فلو شاٹ کا استعمال درج زیل افراد کے لیے مناسب ہے

۔ چھ ماہ سے انیس برس تک کے افراد ۔

۔ حاملہ خواتین۔

۔ بالغ افراد۔

۔ پچاس سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد۔

۔ بعض دائمی امراض کا شکار افراد۔

۔ نرسنگ ہوم اور ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور افراد جنہیں فلو سے متعلق پیچیدگیوں سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

۔ فلو شاٹ جلد کے نیچے لگنے والے انجکشن کی صورت میں بھی دستیاب ہے جو کہ پٹھے میں لگنے والے انجکشن کی نسبت چھوٹی سرنج سے جلد کی اوپری پرتوں کے نیچے لگایا جاتا ہے۔ یہ اٹھارہ سے چوسٹھ سال کے افراد میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

Read Also: How should I handle flu through Home Remedies?

فلو ویکسین ہر سال کیوں لگوائی جاتی ہے؟
فلو کی ویکسین ہر سال بدل جاتی ہے۔ ہر سال ایجنسیوں جیسے کہ ایف۔ڈی۔اے اور سی۔ڈی۔سی کے ماہرین کا ایک پینل دستیاب اعداد و شمار کا مطالعہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ انفلوئنزا وائرس کی کون سی تین یا چار اقسام اگلے فلو کے موسم میں ممکنہ طور پر زیادہ فعال رہیں گی اور فروری میں وہ ویکسین بنانے والے اداروں کو یہ معلومات فراہم کر دیتے ہیں جو ان اعداد و شمار کے مطابق ویکسین کی تیاری پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ لہذا ہر سال تیار ہونے والی ویکسین مختلف ہوتی ہے۔

موسمی فلو کی ویکسین فلو سے بچاؤ میں کس قدر مؤثر ہے؟

فلو کی روک تھام میں موسمی فلو کی ویکسین تقریباً اسی فیصد مؤثر ہے۔ ویکسین لگنے کے تقریباً دو ہفتے کے اندر جسم میں فلو کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ویکسین میں شامل وائرس کی اقسام کے علاوہ کسی اور قسم سے فلو ہو جائے ۔ اس قسم کا فلو کم شدت والا اور مختصر دورانیے کا ہوتا ہے۔

موسمی فلو کی ویکسین کن لوگوں کو لگوانی چاہیے؟

موسمی فلو کی ویکسین ایسے بالغ افراد کو لگوانی چاہیے جن کو فلو کی پیچیدگیوں کا شکار ہونے کا خطرہ ہو۔

ایسے افراد جو دائمی امراض کا شکار ہوں جیسے کہ ذیابیطس، دل کی بیماری، گردوں کے امراض اور پھیپھڑوں کی بیماریاں۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔

ایڈز سے متاثرہ افراد میں فلو کی ویکسین کا استعمال تجویر کیا جاتا ہے۔

حاملہ خواتین میں فلو کی ویکسین کے استعمال کی سفارش کی جاتی ہے۔

ہسپتالوں میں کام کرنے والے افراد کو فلو کی ویکسین لگوانی چاہیے۔

پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کو بھی فلو کی ویکسین لگوانی چاہیے۔ عمر رسیدہ افراد کے لیے خاص قسم کی ویکسین بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ جو بھی رواں سال فلو سے محفوظ رہنا چاہے فلو کی ویکسین لگوا سکتا ہے۔

چھ ماہ سے آٹھ سال تک کی عمر کے وہ بچے جو پہلی بار فلو کی ویکسین لگوا رہے ہوں، ان کے لیے ضروری ہے کہ انہیں چار ہفتے کے وقفے سے دو بار فلو کی ویکسین لگوائی جائے۔

Share This:

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

Comments are closed.