شادی سے پہلے یہ 4 میڈیکل ٹیسٹ آپ کو بڑی مشکلات سے بچا سکتے ہیں

Reading Time: 4 minutes

 شادی کا مطلب خوشی کا لیا جاتا ہے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ شادی کے نتیجے میں جو جوڑا اپنی زندگی کی شروعات کر رہا ہوتا ہے وہ تاعمر خوش رہے

پاکستان کا شمار دنیا کےان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر خاندان کے اندر شادی کرنے کو ایک فخر سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بچون کے اندر پیدائشی ایب نارمیلیٹیز کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے

 اس کو روکنے کے لیۓ اب ماہرین تمام  لوگوں کو اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ شادی کی تیاریوں کے لیۓ جہاں دوسرے انتظامات ضروری سمجھے جاتے ہیں وہیں پر شادی کو طے کرنے سے قبل لڑکے اور لڑکی کے یہ چار بنیادی ٹیسٹ ضرور کروا لینے چاہیۓ ہیں جو کہ آپ کو بعد میں آنے والی مشکلات سے بچا سکتے ہیں

Why You Should See Urologist and Gynecologist Before Marriage

شادی سے قبل کرواۓ جانے والے ٹیسٹ

ایس ٹی آئی ٹیسٹ

شادی
Image Credit: afanohi .com

بی بی سی اردو کو رحمان میڈیکل کمپلیکس کی ماہر امراض نسواں ڈاکٹر حمیرہ اچکزئی کا انٹرویو دیتے ہوۓ کہنا تھا کہ اب شادی شدہ جوڑوں کو جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوتا جا رہا ہے

جنسی طور پر ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے والی بیماریوں میں ایچ آئی وی ، ہیپاٹائٹس بی اور ایس ٹی ڈی قابل ذکر ہیں ۔ یہ نہ صرف ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتے ہیں بلکہ جنسی تعلقات کے نتیجے میں حمل ٹہر جانے کی صورت میں یہ بیماریاں پیدا ہونے والے بچے میں بھی منتقل ہو سکتی ہیں

یہی وجہ ہے کہ ان تمام بیماریوں کی اسکریننگ کروانی ضروری ہوتی ہے تاکہ یہ بیماریاں  شادی کے بعد ایک فرد سے دوسرے تک اور آنے والی نسل تک منتقل ہونے کا سلسلہ روکا جا سکے

تھیلیسیمیا

شادی
Image Credit:News Medical

تھیلیسیمیا ایک وراثتی بیماری ہے جو کہ والدین سے بچوں میں منتقل ہو سکتی ہے اس کی ابتدائی علامات میں خون کی کمی سب سے اہم ہے اس بیماری کے حوالے سے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اگر ماں اور باپ دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہوں تو ان کی شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے اندر تھیلی سیمیا میجر ہونےکے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں

ماہرین کے مطابق اگر ماں باپ دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہوں یعنی ان میں وراثتی طور پر خون کی کمی ہو تو ان کی شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کا امکان 25 فیصد زیادہ ہوتا ہے جو کہ ایک جان لیوا مرض ہے

یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حظرات اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ شادی سے پہلے اس کا ٹیسٹ لازمی کروا لینا چاہیۓ تاکہ علاج سے وقت سے پہلے اس مسلے کو حل کیا جا سکے

وراثتی بیماریوں کا ٹیسٹ

عام طور پر بہت ساری خاندانی شادیوں کے سبب بیماریاں نسل در نسل منتقل ہونے کی ہسٹری بہت پرانی ہے ہمارے ملک میں بہت سارے ایسے خاندان موجود ہیں جہاں پر ذیابطیس ، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ خاندان کے ہر فرد میں موجود ہوتے ہیں اور جن کو نہ ہو ان کے اس سے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں

اس وجہ سے ماہر ڈاکٹر سے شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کی میڈیکل ہسٹری کی جانچ کروانا بہت ضروری ہوتا ہے ماہر ڈاکٹر سے آن لائن مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ وزٹ کر کے بغیر ڈاکٹر کے پاس جاۓ آرام سے گھر بیٹھے مشورہ لیا جا سکتا ہے یا پھر 03111222398 پر کال کر کے بھی ماہر ڈاکٹروں سے لڑکے اور لڑکی کے معائنےکے حوالے سے آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے

بلڈ گروپ کا ٹیسٹ

شادی
Image Credit: Vector Stock

ماہرین کے نزدیک شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کا خون کے گروپ کا ٹیسٹ کروانا بھی بہت ضروری ہے کیوں کہ اگر ان دونوں کے خون کے گروپ کا آر ایچ فیکٹر اگر ایک جیسا ہوا تو اس سے آنے والے وقت میں انہیں کافی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

کیوں کہ ان دونوں کا بلڈ گروپ ایک دوسرے کو سپورٹ نہیں کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے دوسرے بچے کے خون کے خلیات کو ماں کے خون کےخلیات ختم کرنا شروع ہو جاتا ہے جس سے بچہ ضائع ہو جاتا ہے

فرٹائلیٹی ٹیسٹ

شادی
Image Credit:Ivf Spring

شادی سے قبل لڑکی کی اووری کے ایگ سیل اور لڑکے کے اسپرم کا ٹیسٹ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کیوں کہ اگر ان میں کسی قسم کی خرابی یا کمی ہو تو یہ قابل علاج ہے اور شادی سے قبل اس کے علاج کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ شادی کے بعد کسی بھی قسم کی الجھن سے بچا جا سکتا ہے

Checkout Best urology consultant in Lahore listed on Marham.

یاد رکھیں

جن لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ شادی سے پہلے یہ تمام ٹیسٹ وقت اور پیسے کا زیاں ہے ایسے افراد اگر اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ان کو بہت سارے ایسے جوڑے نظر آئیں گے جو کہ اگر شادی سے قبل  میڈیکل ٹیسٹ کروا کر علاج کروا چکے ہوتے تو آج خوشگوار ازدواجی زندگی کے مزے لے رہے ہوتے

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.