زیادہ میٹھا کھانا صحت کے کونسے5 مسائل پیدا کرتا ہے

Reading Time: 4 minutes

صحت بہت قیمتی چیز ہے۔ہمارے پاس جتنی بھی دولت ہوگی لیکن ہم اس سے تندرستی اور صحت نہیں خرید سکتے۔ہر انسان اپنی زندگی میں تین مراحل سے گزرتا ہے جن میں بچپن،جوانی اور بڑھاپا شامل ہے۔لیکن کچھ لوگ اپننی عمر کے درمیانی حصے میں ہی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑھاپے میں بھی تندرست رہتے ہیں۔

ہمارے عادات اور طرزِزندگی بھی ہماری صحت اور تندرستی میں بہت اہم کردارادا کرتا ہے۔وہ لوگ جو متوازن غذااور جسمانی سرگرمی کا عمل نہیں کرتے وہ اپنے آپ کو صحت مند محسوس نہیں کرسکتے۔ہم کیا کھاتے ہیں ؟ہمارے لئے کیا نقصاد دہ ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے۔جیسے چینی کا زیادہ استعمال ہمیں بیمار کرسکتا ہے۔

ہم چینی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کن بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں اور یہ کیسے ہمیں بیماری کی طرف لے جاسکتی ہے اگرآپ اس کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو اس بلاگ کو پڑھنا نہ بھولیں۔

صحت پر چینی کے نقصان-

56514025

کیاآپ جانتے ہیں کہ زیادہ میٹھا کھانا یا چینی کا کثرت سے مسائل کن مسائل کو دعوت دیتا ہے اگرآپ نہیں جانتے تو آج جان لیں؛

گلوکوز میں اضافہ-

اگرآپ پہلے سے ہی ذیابیطس کے مریض ہیں تو چینی کا زیادہ استعمال آپ کے لئے خطرناک ہونے کے علاوہ آپ کی جان بھی  لے سکتا ہے۔کچھ لوگ چینی اور میٹھے کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کہ وہ شوگر ہونے کے باوجود بہت کم پرہیز کرتے ہیں۔لیکن جب شوگر کا مریض زیادہ میٹھا کھاتا ہے تو خون میں گلوکوز کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔

جب ہمارے خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو ہمیں تھکاوٹ،سردرداور چکر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس لئے بہت ضروری ہے کہ شوگر کے مریض اس کا استعمال ترک کریں۔تاکہ اپنے شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھ سکیں۔

مدافعتی نظام-

چینی ایک ایسا جزو ہے جو روزمر کی زندگی میں لازمی استعمال ہوتا ہے۔کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی خواہش ہر انسان کی ہوتی ہے اور یہ سنت بھی ہے۔لیکن مصنوعی چینی کی بجائے اگر قدرتی شکر کا استعمال کیا جائے تو وہ ہمارے لئے مفید ہوسکتا ہے۔چینی کا زیادہ استعمال ہمارے مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ہم اس کی بدولت کمزور ہوسکتے ہیں۔

چینی کا زیادہ استعمال ہمیں بیماری سے لڑنے میں مداخلت کرتا ہے اور اس کی وجہ سے جسم میں انفیکشن اور بیکٹریا تشکیل پاتے ہیں۔مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ گلوکوز کا زیادہ استعمال ان حیاتات کی تشکیل میں اضافہ کرتا ہے۔

عالمی پریشانی،موٹاپا-

429016995

موٹاپا اور اضافی وزن ایک ایسی بیماری ہے جو بہت سی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ہم اضافی وزن کی  وجہ سے ہڈیوں اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ دل کی بیماری کا بھی باعث بن سکتا ہے۔مطالعے سے علم ہوا ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال جسم میں چرپی کو پیدا کرتا ہے جو موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔

چینی کا زیادہ استعمال کی  وجہ سے ہم زیادہ بھوک محسوس کرتے ہیں جس وجہ سے زیادہ کھانا ہمیں اضافی وزن کی  طرف لے جاتا ہے جوہمارے لئے خطرناک ہے۔

مستقل ہائی بلڈ پریشر-

صرف نمک کا زیادہ استعمال ہمیں ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا نہیں کرتا چینی کابھی اس میں ہاتھ ہوسکتا ہے۔اس لئے چینی نمک سے بھی بدتر ثابت ہوسکتی ہے۔اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہمیں پائی بلڈ پریشر کا مریض بنا سکتا ہے۔ہمیں صحت مند زندگی کے لئے اس کا استعمال اپنی زندگی میں کم کرنا چاہیے۔تاکہ ہم تندرست زندگی گزار سکیں۔

جولوگ پہلے سے ہی شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں ان کی قوت مدافعت پہلے ہی کم ہوتی ہے اس لئے چینی کے  زیادہ استعمال سے ان کا مدافعتی نظام اور بھی کمزور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پچیدگیاں پیدا ہوسکتیں ہیں۔

دل کی بیماری-

چینی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہم بہت سی بیماریوں اور صحت کے مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں دل کی بیماری بھی شامل ہے جو موت کی سب سے بڑی وجہ بن سکتی ہے۔جب چینی کے زیادہ استعمال سے وزن بڑھتا ہے تو جسم میں کولیسٹرول میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔جو دل کی بیماری کی وجہ ہے۔

ہیلتھ لائن کی ویب کے مطابق ایک مطالعے سے علم ہوا ہے کہ جو لوگ چینی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں دل کی بیماری کا خطرہ 38 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔میٹھے مشروبات جسم میں سوزش اور موٹاپے کا بھی باعث بنتے ہیں۔

جلد کے لئے-

224866266

چینی کا زیادہ استعمال ہمیںصحت کے جن مسائل میں مبتلا کرتا ہے ان میں جلد بھی شامل ہے۔اس کا کثرت سے استعمال ہماری جلد صحت کو نقصان دیتا ہے۔چہرے پر جھریاں رونما ہونا بڑھاپے کی نشانی ہے اس کی وجہ سے ہم جلد بوڑھے ہوسکتے ہیں۔

اس کے استعمال سے تیل کی اضافی پیداوار ہوتی ہے جس کی وجہ سے مہاسے ہوتے ہیں۔اس لئے ہمیں جلد کی صحت کو بہتر بنانے کے لئے میٹھے کا کم استعمال کرنا چاہیے۔

بہت سے ایسے مسائل ہوتے ہیں۔جن کے لئے ڈاکٹر سے مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ہم گھر بیٹھے مرہم ڈاٹ پی کے کی  ویب سے ڈاکٹر کی اپائنمنٹ لے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہم اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن لے سکتے ہیں۔

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences