تلی ہوئی اشیاء کے صحت پر 6 نقصان

Reading Time: 4 minutes

تلی ہوئی اشاء کا استعمال بچوں اور بڑوں کا معمول بن گیا ہے۔بہت سے افراد ایسے ہیں جن کا ان چیزوں کے بغیر گزارہ مشکل ہے۔وہ سموسوں،چپس سے لطف اندوز ہوئے بنانہیں رہتے لیکن اگروہ جان لیں کہ ہفتے میں4 بار تلی ہوئی اشیاء کا استعمال آپ کو موت کی طرف لے جاسکتا ہے تو وہ ان کو کھانے کی مقدار کم کردیں۔

ان میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے  جو ہمارے دل کے فیل ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔اس کے علاوہ یہ اشاء ہمیں کن کن بیماریوں میں مبتلا کرسکتیں ہیں اگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو یہ بلاگ لازمی پڑھئیں۔

تلی ہوئی اشاء کے صحت پر نقصانات-

تلی

یہ اشاء ہمارے لئے کتنی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں اور ہمیں کن بیماریوں میں مبتلا کرسکتی ہیں وہ یہ ہیں؛

فالج اور دل کا دورہ-

وہ افراد جو تلی ہوئی اشاء کا استعمال کرتے ہیں ان میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین نے دل کے دورے کا سبب جاننے کے لئے 1760 مختلف مطالعات کیے جس میں56000 سے زیادہ لوگ شریک ہوئےجن میں36700 لوگ دل کے امراض میں مبتلا تھے۔وہ لوگ جنہوں نے ہفتے میں زیادہ سے زیادہ تلی ہوئی چیزوں کااستعمال کیا ان میں دل کے دورے کا خطرہ 28 فیصد زیادہ تھا۔

فالج اور دل کی بیماری سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان چیزوں کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ ہم اپنے دل کو صحت مند رکھ سکیں۔

موٹاپا-

تلی

یہ ایک عالمی پریشانی ہے۔بہت سی خواتین جو موٹاپے کا شکار ہوتی ہیں وہ اپنی غذا کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں۔اس کے علاوہ کوئی بیماری یا جنیاتی طور پر بھی وہ موٹاپے کا شکار ہوسکتیں ہیں۔ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تلی ہوئی اشاء کے استعمال سے افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کھانوں میں کیلوری کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس وجہ سے ان کا وزن بڑھتا ہے۔

مزید تحقیق سے یہ علم ہوا ہے کہ تلی ہوئی چیزوں میں ٹرانس چربی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ان چیزوں میں پانی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جو بہت سی پچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں۔

ذیابیطس-

یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کی صحت کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھاجاتا ہے۔جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان میں کسی بھی بیماری کا مقابلہ کرنے کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ایک تحقیق سے علم ہوا ہے کہ جو لوگ تلی ہوئی اشاء کا استعمال کرتے ہیں وہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ جو لوف ہفتے میں دوبار فاسٹ فوڈ اور تلی ہوئی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں ان میںانسولین کے خلاف مزاحمت ہونے کا امکان دوبار ہوتا ہے اس کے مقابلے میں جو لوگ ہفتے میں ایک بار کھاتے ہیں۔

دل کا مرض-

تلی ہوئی اشیاء ہوئی کی وجہ سے کولیسٹرول ہونے کا خطرہ ہوتا ہےجس کی وجہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ان کی وجہ سے انسان موٹاپے کا بھی شکار ہوتا ہے جو دل کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔

پولڈ کے تجزیے سےثابت ہوا ہے کہ  جو لوگ تلی ہوئی اشاء کا استعمال کرتے ہیں ان میں دل کے امراض کا خطرہ 22 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔جب گھی میں چیزیں گرم ہوتی ہیں تو وہ پانی کھودیتی ہیں اور تیل کو جذب کرلیتی ہیںاور تیل میں ٹرانس چربی ہوسکتی ہے جو ایل ڈی اے کا باعث ہے۔اس لئے دل کے مرض سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا استعمال کم کیا جائے۔

ہائی بلڈ پریشر-

تلی

یہ ایک ایسی بیماری ہے جو بہت سی بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔یہ ہمارے جسم کے کسی بھی حصہ کو متاثر کرسکتی ہے۔کینڈا کے ڈلہوزی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹرلی چاہل کا کہنا ہے کہ تلی ہوئی چیزوں کی وجہ انسان ذیابیطس،موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

جلد کے لئے-

یہ ہماری جلد کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ ان میں پانی کی مقدار نہیں ہوتی تیل کی مقدار زیادہ ہے جو جلد پر کیل مہاسوں کا سبب بن سکتے ہیں۔اس لئے ان کا استعمال کم کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہماری مجموعی صحت کے لیے بھی بہت نقصان دہ ہے۔یہ چیزیں ہمارے معدے کو بھی نقصان دے سکتی ہیں۔

ہم پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ان کا اثر زائل کرسکتے ہیں اس لئے ہمیں پانی کا بھی زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔آپ اگر کسی بھی صحت کے مسائل میں مبتلا ہیں تو آپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سے ڈاکٹر کی اپائنمنٹ بک کراوئیں یا آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن لیں۔

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences