ذیابیطس کے مریض پر گوشت کے 5 خطرناک اثرات

Reading Time: 4 minutes

ذیابیطس کے مریضوں کواپنی غذا کا انتخاب سوچ سمجھ کرکرنا پڑتا ہے۔کیونکہ بہت سی غذائیں ایسی ہی جو خون میں گلوکوز کی سطح کو بڑھا دیتی ہیں۔ان کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے تحت غذا کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

جیسے  عید قریب ہے اور اس عید پربکرے،گائے اور اونٹ کی قربانی بھی کی جاتی ہے۔تو گوشت کا استعمال ہر گھر میں ہوگا۔لیکن ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے استعمال سے بہت سے نقصان ہوسکتے ہیں۔شوگر کے مریضوں کو زیادہ گوشت کے استعمال سے صحت کے بہت سے مسائل پیش آتے ہیں۔

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ شوگر کے مریضوں پر کونسے اثرات مرتب ہوتے ہیں تو یہ جاننے کے لئے یہ بلاگ لازمی پڑھئیں۔

ذیابیطس کے مریض اور گوشت کا استعمال-

گوشت کے زیادہ استعمال کی وجہ سے شوگر کے مریض کن مسائل میں مبتلا ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

کولیسٹرول میں اضافہ-

ذیا بیطس

گوشت میں کولیسٹرول کی مقدا کافی زیادہ پائی جاتی ہےایک تحقیق کے مطابق ایک کلوگوشت میں 900 گرام کولیسٹرول پایا جاتا ہے۔اس کی زیادہ مقدار بیف میں ہوتی ہے۔یہ دل کی بیماریوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔اس لئے ذیابیطس کے مریضوں کو بیف کا استعمال کم کرنا چاہیے تاکہ جسم میں کولیسٹرول کی سظح کو مناسب رکھا جاسکے اور بیماریوں سے بچ سکیں۔

ذیابیطس کا خطرہ-

بہت سی ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت کا زیادہ استعمال ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔اس نشوونما میں سرخ گوشت بینادی کردار ادا کرتا ہے۔اس گوشت میں ہیم آئرن کا اعلی مواد موجود ہوتا ہے،جو شوگر ہائی ہونے کا سبب بنتا ہے۔ڈیوک این۔یو۔ایس کے کلینکل سائنسر کے پروفیسرکوہ نے مطالعہ کیا جن کے مطابق ہیم آئرن ذیابیطس کا باعث بنتا ہے۔

پروفیسر وون کوہ نے سنگا پور میں 5 سال تک اس پر مطالعہ کیا جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کے گوشت میں موجود فولاد ذیابیطس کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

چکنائی-

ذیابیطس

گوشت میں چکنائی بہت زیادہ پائی جاتی ہے یہ گوشت کے باہر بھی موجود ہوتی ہے اور اندر بھی موجود ہوتی ہے۔جو ہمیں نظر آرہی ہوتی ہے اسے چربی بی کہتے ہیں۔جو ہماری مجموعی صحت کے لئے نقصان دہ ہے اس کے علاوہ یہ شوگر کے مریضوں کو بھی بہت نقصان دیتی ہے۔اس لئے چربی والے گوشت کا استعمال اعتدال کے ساتھ کرنا چاہیے۔

پروٹین کی زیادہ مقدار-

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کیلوری کی زیادہ مقدار لینے سے بلڈ شوگر میں اضافہ ہوتا ہے۔خالانکہ کبھی کبھار ایسا نہیں ہوتا۔وہ غذائیں جن میں پروٹین کی اعلی مقدار موجود ہوتی ہے وہ بھی شوگر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ان میں گوشت بھی شامل ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم گوشت کم مقدار میں کھائیں تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔

فائبر کا نہ ہونا-

ریشہ دار غذائیں ہمارے شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سبزیوں اور پھلوں میں اچھی مقدا ر میں فائبر موجود ہوتا ہے جس کے استعمال سے ہماری مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔لیکن گوشت میں فائبر موجود نہیں ہوتا جس وجہ سے ہم صحت کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔

اگر ہم گوشت کا استعمال کرتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ساتھ ریشہ دار غذائیں جیسے سلاد اور سبزیوں کا بھی استعمال کریں۔

کاربوہائیڈریٹ-

213350627

گوشت میں کاربوہائیڈریٹ موجود نہیں ہوتا،اگرچہ یہ ہمارے بلڈ شوگر کو متاثر کرتا ہے لیکن اس کے بغیر ہمارا کھانا غیر متوازن ہوجاتا ہے۔اگرچہ آپ کو کھانے کے بعد تسکین محسوس نہیں ہوگی۔اگر شوگر کے لئے کاربوہائیڈریٹ اچھے نہیں ہیں ا سکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اسے کھانا ہی چھوڑ دیں۔ ہمیں مجموعی صحت کے لئے اس کا ستعمال کرنا چاہیے۔

سرخ گوشت کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہماری صحت پر بہت سے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ان میں چکنائی کی مقدار زیادہ پائی جاتی جو دل کے امراض،ذیابیطس ،ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا کرتی ہے۔اس کے علاوہ اس  کا باقاعدہ استعمال سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔زیادہ کاربوہائیڈریٹ شوگر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

اختیاط-

اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو گوشت کا کم استعمال کریں اور اس کے ساتھ سبزیوں کا بھی استعمال کریں۔

گوشت کے استعمال کے کچھ دیر بعد آپ پانی کا زیادہ استعمال کریں۔

اس کو ہضم کرنے کے لئے آپ گوشت کو کھانے کے بعد 30 منٹ تک ورزش کریں۔

دل،گردے اور کلیجی جن میں زیادہ فیٹ اور پروٹین موجود ہو ان کا استعمال کم کریں۔

گوشت کے ساتھ دہی اور سلاد کا استعمال لازمی کریں۔

ذیابیطس انسان کو دیمک کی طرح کھاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی متوازن غذا کی مدد سے اپنی صحت کو برقرار رکھ سکیں۔ایسای تب ممکن ہے جب ہم سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کریں گے۔

اگرآپ کی شوگر متوازن غذا کے باوجود بھی کنٹرول نہیں ہورہی تو آپ کو ڈاکٹر سے مشورے کی ضرورت ہے اس کے لئے آپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سے بھی اپاینمنٹ حاصل کرسکتے ہیں اس کے علاوہ آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن بھی لے سکتے ہیں۔

 

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences