نارمل ڈلیوری کے تین اہم مرحلے ، نئی ماؤں کے لیۓ جاننا ضروری

Reading Time: 4 minutes

نارمل ڈلیوری کے حوالے سے ہمیشہ نئي بننے والی ماؤں کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ نارمل ڈلیوری صحت کے لیۓ بہتر ہوتا ہے ۔ مگر یہ سب نہیں بتایا جاتا کہ یہ کیوں بہتر ہوتا ہے اور نارمل ڈلیوی کس طرح ہوتی ہے

نو مہینے دس دن کے وقت کو پورا ہونے کے بعد اس بات کا فیصلہ ماہر امراض نسواں کرتی ہیں کہ ڈلیوری نارمل کرنی ہے یا سی سیکشن کے ذریعے کی جاۓ گی ۔ اگر تمام کیفیات نارمل ہوں تو اس صورت میں ڈاکٹر نارمل ڈلیوری کی تاریخ کا تعین کرتےہیں ۔ عمومی طور پر اسی تاریخ پر یا اس سے ایک دو دن قبل یا بعد میں ایسی علامات سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں جو کہ

نارمل ڈلیوری یا وجائنل ڈلیوری کے مختلف مرحلے

نارمل ڈلیوری مرحلہ وار ہوتی ہے ۔ جو کہ ایک کے بعد ایک ہوتے ہیں ۔ ان کے بارے میں جاننے سے پہلی بار بننے والی ماں کی مدد ہو سکتی ہے کہ اس کو وقت سےپہلے اپنی علامات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے

پہلا مرحلہ : ابتدائی درد اور ایکٹو درد

پیٹ کے نچلے حصے میں شروع ہونے والا درد ابتدائی مرحلے میں قابل برداشت ہوتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سرویکس کے کھلنے کا عمل شروع ہو رہا ہوتا ہے ۔ اور وہ پتلا ، نرم اور مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ جس کے سبب لیبر کے ابتدائی دردوں کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے اب بچہ حرکت کر کے اس جگہ کی طرف آنا شروع ہو جاتا ہے جسکو برتھ کنال کہتے ہیں یہ حصہ ٹانگوں کے درمیان کی طرف ہوتا ہے ۔

پہلا مرحلہ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے

اول ابتدائی درد ۔یہ مرحلہ ہلکے اور بے قاعدہ دردوں کا ہوتا ہے ۔ ان دردوں کے ساتھ ہلکے گلابی رنگ کا مادہ بھی وجائنا سے خارج ہو سکتا ہے ۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ سرویکس کا منہ کھلنے کے لیۓ تیار ہے

اس مرحلے کے حوالے سے حتمی طور پر یہ نہیں بتایا جا سکتا ہے کہ یہ کتنا طویل ہو سکتا ہے ۔بعض اوقات پہلی بار ماں بننے والی خواتین میں یہ مرحلہ چند گھنٹوں سے ایک یا دو دن تک طویل بھی ہو سکتا ہے

اس دوران ہلکی پھلکی واک لازمی کریں ۔ خود کو ریلیکس رکھیں اور پر سکون رہیں ۔ خوش رہیں اگر اس درد کے دوران وجائنا کے راستے پانی جییسے مادے کا اخراج تیزی سے شروع ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ورنہ اس وقت کا انتظار کریں جب آپ کی ڈاکٹر آپ کو ڈلیوری والی جگہ یا ہسپتال بلاۓ

نارمل ڈلیوری
Image Credit:Healthsite.com

ایکٹو درد ۔ اب اصل مرحلے کا آغاز ہوا ہے اس مرحلے میں سرویکس کا منہ 6 سینٹی میٹر سے 10 سینٹی میٹر تک کھل جاتا ہے ۔ اب درد تیز ،لمبے اور باقاعدہ ہونا شروع ہو جائيں گے اس دوران شدید درد کے سبب متلی کی کیفیت بھی ہو سکتی ہے اور الٹی بھی آسکتی ہے ۔

یہ وہ موقع ہوتا ہےجب کہ آپ کو ماہر ڈاکٹر ڈلیوری روم میں لے جا سکتی ہے ۔ اس وقت ایکٹو درد مستقل اور شدید ہو سکتے ہیں ۔ یہ وقت ہوتا ہے جب کہ واٹر بیگ بھی پھٹ سکتا ہے ۔

یہ کیفیت چار سے آٹھ گھنٹوں تک طویل بھی ہو سکتی ہے ۔عام طور پر اس درد کے سبب سرویکس کا منہ ایک گھنٹے میں ایک سینٹی میٹر تک کھلتا ہے

اس دوران ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہدایات پر عمل کریں ، واک کو جاری رکھیں ، اگر چاہیں تو نیم گرم پانی سے غسل بھی لے سکتی ہیں ، گہرے اور لمبے سانس لیں اور پر سکون رہیں

اس مرحلے کے آخر میں درد کا دورانیہ 60سیکنڈ سے 90 سیکنڈ تک طویل ہو سکتا ہے اور ان کے درمیان وقفہ بھی کم ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ نیچےکی طرف دباؤ پڑ سکتا ہے

نارمل ڈلیوری کے دوران اس کیفیت کی صورت میں جب کہ آپ کو نچے حصے کی طرف دباؤ پڑ رہا ہو تو فوری طور پر اپنی ڈاکٹر کو اس کیفیت سے آگاہ کریں ۔ اور اس کے ہدایات کے بعد ہی آپ زور لگانا شروع کریں ۔

ڈاکٹر سرویکس کی پوزیشن دیکھ کر آپ کو زور لگانے کا کہہ سکتی ہے مگر اس کی ہدایات کےبغیر وقت سے پہلے زور لگانے سے صرف آپ کی طاقت ضائع ہو گی اور نارمل ڈلیوری میں پیچیدگی بھی ہو سکتی ہے

دوسرا مرحلہ بچے کی پیدائش

نارمل ڈلیوری
Image Credit: Practo

یہ مرحلہ چند منٹوں میں پورا ہو سکتا ہے لیکن اگر پہلی بار ماں بن رہی ہوں تو یہ مرحلہ طویل بھی ہو سکتا ہے ۔ اس مرحلے میں نیچے کی طرف زور لگا نا ہے اور یہ زور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ہو ۔ بچے کی پیدائش کا عمل اس کے سر کے باہر آنے کے بعد مکمل ہوتا ہے اگر بچہ سیدھا ہو تو پہلے اس کا سر باہر آتا ہے اور اس کے بعد باقی جسم باہر آجاتا ہے لیکن اگر بچہ کی پوزيشن الٹی ہو تو اس صورت میں سر باقی جسم کے بعد سب سے آخر میں باہرآۓ گا

تیسرا مرحلہ : پلا سنٹا کے باہر آنے کا مرحلہ

بچے کی نارمل ڈلیوری سے پیدا ہونے کے بعد ایک ماں کے پورے جسم میں ایک سکون کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ لیکن ابھی ایک اور مرحلہ باقی ہے ۔ بچے کے باہر آنےکے 5 منٹ سے 30 منٹ بعد تک پلاسنٹا کی ڈلیوری کا مرحلہ ہوتا ہے ۔

اب ایک بار پھر درد کی ایک لہر آۓگی اور ڈاکٹر نیچے کی طرف زور لگانے کا کہیں گے ایسا کرنےکی صورت میں اب پلاسنٹا باہر آۓ گا ۔ڈاکٹر اس بات کی کوشش کرۓ گی کہ پلاسنٹا مکمل طور پر باہر آجاۓ اگر کسی وجہ سے پلاسنٹ مکمل باہر نہ آسکے تو یہ ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو مکمل طور پر یوٹرس سے صاف کرۓ ۔

پلاسنٹا کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی بھی یوٹرس میں موجودگی انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے اس وجہ سے اس کی صفائی بہت ضروری ہے ۔ اس کے بعد یوٹرس واپس اپنی اصل حالت مین آجاے گا اور نارمل ڈلیوری کا عمل مکمل ہو جاۓ گا

حمل کی مکمل مدت اور نارمل ڈلیوری تک کا سارا وقت ایک عورت کی زندگی کا بہت اہم وقت ہوتا ہے ۔ اس موقع پر ہر وقت ماہر ڈاکٹر کے مشورے کی ضرورت ہوتی ہے اس موقع پر ان لائن ڈاکٹر سے مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کرین ۔یا پھر 03111222398 پر براہ راست رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.