تھیلیسیمیا فری پاکستان

Reading Time: 3 minutes

بہت دفعہ ہم بات کرتے ہیں کہ لاک ڈآؤن کے دوران بہت سی پریشانیوں میں مبتلاہوئے،کوئی ڈپریشن میں گیاکوئی جان کی بازی ہار گیا۔کسی کو روزگار کی فکر اور کسی کو بیماری کی پریشانی ہوئی۔ہم جب اپنے گھروں میں قید ہوئے تو ہم نے ایک بے گناہ قیدی کے احساسات کو محسوس کیا۔کبھی ہمیں مزدور طبقہ کا خیال آیا کبھی ہمیں کرونا میں مبتلا افراد کا خیال آیا۔لیکن کسی کی موت حادثاتی ہو یا کسی بیماری میں مبتلا ہوکر اس کے گھر قیامت ہی ہوتی ہے۔
بہت سے مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے سہارے ہوتے ہیں،جنہیں ایک نئی زندگی ملتی ہے۔کیاآپ نے کبھی سوچا کہ ہم ان مشکل وقت میں گھر میں رہ کراللہ کی ہر نعمت سے لطف انداوز ہوتے رہے،لیکن ان کا کیا حال ہوگا جن پر ایک بیماری کے ساتھ دوسری بیماری کا بھی بوجھ پڑا۔میں یہاں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی بات کررہی ہوں،جو اپنے ساتھ ایک مسلسل جنگ لڑتے ہیں۔ان کے لئے کرونا وائرس ہو یا کوئی اور بیماری انہوں نے تو مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔تھیلیسیمیما جو کہ ایک خطرناک خون کی بیماری ہے،ہم کیسے اپنے پاکستان کو اس بیماری سے فری کرسکتے ہیں ،اوریہ بیماری کیا ہے ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں،

تھیلیسیمیا کیا ہے؟-

تھیلیسیمیا خون کی موروثی بیماری ہے،جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔اس بیماری میں بچہ ایک عمر کو پہنچ کر جان کی بازی ہار جاتا ہے۔اس بیماری میں مریض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے۔

لاعلمی-

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے،جس میں تھیلیسیما کے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر یہ ہی صورتحال رہی
تو ہم بہت مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے یہ بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔لاعلمی سب سے بڑی وجہ ہے جو ہمیں اس بیماری کی طرف لے کر جارہی ہے۔اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اس بیماری سے کیسے بچا جاسکتا ہے تو اس بیماری سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں۔

والدین کی مشکلات-

پاکستان میں بہت سے جوڑے ایسے ہیں،جو بہت خوشی سے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں،لیکن جلد ہی وہ مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں شادی سے پہلے کسی ٹیسٹ کو اچھا نہیں سمجھا جاتا،اور شادی کردی جاتی ہے۔لیکن تھیلسیمیا میں مبتلا بچے کا درد وہ والدین ہی محسوس کرسکتے ہیں،ہم کھلتے گلابوں کا چہرہ دیکھ کر اندازہ نہیں کر سکتے کہ وہ کس لڑائی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔سب سے زیادہ دکھ وہ والدین کا ہے جو اپنے بچے کو اس بیماری میں دیکتھے ہیں پھر انہیں اپنی خوشیاں بہت چھوٹی لگتی ہیں۔والدین ان مشکلات کا شکار ہوتے ہیں جو انہیں لمحہ بہ لمحہ فکر اور پریشانی میں مبتلا کرتا ہے ۔اس مرض کے علاج میں بھاری رقم بھی چاہیے ہوتی ہے،اور جس ملک میں بےروزگاری ہو،غربت ہو،مسائل ہوں تو وہاں بیماری بھی بوجھ بن جاتی ہے۔

ہم کیسے تھیلیسیمیا فری پاکستان بنا سکتے ہیں؟-

ہم بہت سے ممالک کی طرح اس مرض سے چھٹکارا پاسکتے ہیں،ہم پاکستان کو تھیلیسیمیا فری پاکستان بنا سکتے ہیں،بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں تھیلسیمیا مائنر کے جراثیم پائے جاتے ہیں،اگر ایک تھیلسیمیا مائنر دوسرے تھیلسیمیا مائنر سے ملتا ہے تو تھیلیسیمیا میجر بنتا ہے۔
اگر ہم شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا ٹیسٹ کروا لیں تو اس بیماری سے بچ سکتے ہیں۔
میری ان سب والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بیٹے یا بیٹی کا تھیلسیمیا کا ٹیسٹ کروائیں اور پاکستان کو تھیلسیمیا فری پاکستان بنائیں۔
مجھے یقین ہے اگر ہم اس بات پر عمل کریں گے تو ہماری آئندہ نسلیں صحت مند پیدا ہوگی۔

آپ کسی بھی صورتحال میں پاکستان کی ایک ویب سائٹ مرہم۔پی۔کے کی ویب سایٹ سے ڈآکٹرز کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں،آپ گھر بیٹھے مرہم ۔پی کے کی ویب سائٹ سے ایک فون کال کی مدد سے ڈآکٹر کی اپائنمنٹ لے سکتے ہیں،اس کے علاوہ آپ وڈیو کال یا اس نمبر پر 03111222398 پر آن لائن کنسلٹیشن لے سکتے ہیں۔

 

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences

Leave a Comment