وٹامن جو روزانہ استعمال کریں اور رمضان میں صحت مند رہیں

Reading Time: 4 minutes

وٹامن سے مراد وہ کیمیکل ہوتے ہیں جن کی جسم کو ضرورت اگرچہ بہت قلیل مقدار میں ہوتی ہے ۔مگر ان کی اہمیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان کے بغیر انسان بہت ساری خطرناک بیماریوں میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے ۔

عام طور میں رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے کے بعد انسان زبان کی لذت کی تو پرواہ کرتا ہے مگر اپنی غذا کے متوازن ہونے کو اکثر نظر انداز کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں وٹامن کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور عید کے موقع پر اس  سبب جلد اور بال بے رونق نظر آرہے ہوتے ہیں۔

جسم کے لیۓ ضروری وٹامن اور ان کے اثرات

وٹامن
Image Credits: Health plan Spain

جسم کے لیۓ اور خصوصا جلد کے لیۓ یہ  بہت ضروری ہوتے ہیں ۔مگر یہ کچھ وٹامن جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائیں گے۔ ان کا استعمال جلد اور جسم کے لیۓ لازم ہے۔

وٹامن اے

یہ  انڈے ۔ گوشت ، کلیجی ، کے ساتھ ساتھ پالک ، گاجر ، شملہ مرچ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں میں یہ خوبانی اور آڑو میں بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔

وٹامن اے کی کمی ہونٹوں کو خشک کر دیتی ہے۔ جس سے یہ پھٹنے لگتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ جلد کو بھی خشک اور بے رونق کر دیتی ہے ۔دن بھر میں مردوں کو 900 مائکرو گرام وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ خواتین میں یہ مقدار 700 گرام تک ہوتی ہے

وٹامن سی

وٹامن
Image Credits:Dermstore

یہ  رسیلے پھلوں میں جیسے کینو ، مالٹا لیموں میں اس وٹامن کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے ۔جس کے علاوہ گوبھی ، ٹماٹر ، پالک ، بند گوبھی میں بھی یہ بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے۔

اس کی کمی نہ صرف جلد اور بالوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کی کمی انسان کی قوت مدافعت کو بھی کم کر دیتی ہے۔ جس کے سبب عام سی بیماریاں کھانسی ، نزلہ زکام ، مسوڑھوں سے خون آنا انسان پر فورا حملہ آور ہو جاتی ہیں اور جلد کو خشک اور بے رونق بھی بنا دیتی ہیں

اس حوالے سے مذید معلومات کے لیۓ یہاں کلک کریں 

وٹامن ای

اس  کے بارے میں ایک خاص بات یہ معلوم ہونی ضروری ہے۔ کہ یہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ اور اس کے جسم کے اندر کام کرنے کے لیۓ وٹامن سی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کا استعمال ہمیشہ  سی کے ساتھ کرنا چاہیۓ ہے ۔

یہ ایک اہم آکسیڈنٹ ہے جو جسم کے اوپر حملہ آور زہریلے مادوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے ۔ یہ جلد پر پڑنے والی جھریوں کی روک تھام کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ بالوں کو ٹوٹنے سے روکتا ہے ۔جسم میں آلودگی ، سورچ کی الٹراوائلٹ شعاعوں اور تمباکو نوشی کے نتیجے میں بننے والے نقصان دہ ریڈیکل کا خاتمہ کرتا ہے۔

عام طور پر بادام ، مونگ پھلی ، اور دیگر میوہ جات میں اس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جہاں سے اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے

وٹامن ڈی

عام طور پر یہ وٹامن دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وٹامن ڈی ٹو ہوتا ہے۔ جو کہ انڈے کی زردی ، مچھلی ، کلیجی دودھ اور اناج سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ جب کہ دوسرا وٹامن تھری جس کو سورج کی روشنی سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اور ہماری جلد اس کو خود بخود جزب کرتی ہے

اس وٹامن کی کمی کے باعث سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کے کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی کمی بھی جلد کو خشک ، بے رونق اور پتلا بنا دیتی ہیں

وٹامن بی ٹو

وٹامن بی ٹو کا حصول انسان کی آنکھوں کی اور جلد کی صحت کے لیۓ بہت مفید ہوتا ہے ۔اس کی کمی کے سبب جلد پر خارش اور کھجلی شروع ہو سکتی ہے بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ منہ اور زبان پر چھالے بننے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور آنکھوں کے پپوٹے سوج جاتے ہیں

یہ وٹامن ہری سبزیوں میں ، انڈے کی سفیدی میں دودھ اور پنیر میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔

وٹامن بی تھری

جسم میں موجود چربی ، کابوہائیڈریٹ اور پروٹین کو ضروری توانائی میں تبدیل کرنے کی اہم ذمہ داری اسی وٹامن کے سپرد ہوتی ہے ۔ اس کی کمی انسان کو کمزوری کا شکار کر سکتی ہے ۔ اور انسان کھانے پینے کےباوجود خود کو بہت نڈھال تصور کرتا ہے ۔ منہ کے اندر اور ہونٹوں پر چھالے بھی بن جاتے ہیں

وٹامن کے حصول کا طریقہ

جسم کو صحت مند رکھنے کےلیۓ ان وٹامن کی جسم کو ویسے ہی ضرورت ہوتی ہے ۔جیسے انسان کو زندہ رہنے کے لیۓ ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ جس طرح ان کی کمی انسان کو بیماری کا شکار کر سکتی ہے۔ اسی طرح ان کی زیادتی بھی جسم کے لیۓ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس وجہ سے ان کا استعمال کسی بھی مستند اینڈوکرائنولوجسٹ کے مشورے کے بغیر نہ کیا جاۓ

یہ وٹامن عام غذا کے ساتھ ساتھ مختلف سپلیمنٹ کی صورت میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی مقدار کا تعین ماہر ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ جس سے مشور ے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں۔ یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.