کورونا سے بچائو کے لیے عالمی ادارہ صحت کی حالیہ سفارشات

Reading Time: 3 minutes

جب ایک موبائل یا مشین خراب ہو جاتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ کیا آپ اس کو محض پریشان ہونے سے ٹھیک کر لیتے ہیں؟ کیا آپ خود سے علم نہ ہونے پر اس کو ٹھیک کر سکتے ہیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔ آپ اس چیز کو اس کے بنانے والے یا وہ جو اس کے نظام سے واقف ہوتا ہے اس کے پاس لے کر جاتےہیں یا آپ اس کے ساتھ آنے والے معلوماتی پرچے کی مدد لیتے ہیں۔

اس سے آپ نہ صرف اس میں موجود خرابی کو جان لیتے ہیں بلکہ اس کو ٹھیک کرنے اور واپس کارآمد حالت میں لانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔

آج اگر آپ اپنے ملک اور انسانیت کے مجموعی حالات پر نظر دوڑائیں تو معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ نسل انسانی ایک ہوش ربا آفت کا شکار ہے۔ ایک ذرے سے کئی گنا چھوٹا وائرس ہے کہ ترقی یافتہ انسان کی کسی میزائل ، گولی ، کیمیکل، سے رام نہیں ہوتا۔ لوگ سڑکوں پر، ہسپتالوں میں بے یارومددگار ہیں، لاشے بے گور و کفن ہیں، اور سارا عالم پریشان حال ہے۔ دنیا کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے کوئی مشین اچانک سے کام کرنے سے رک جائے۔ اب بنانے والے سے رجوع کرنا بے حد اہم ہے ۔ اس کی مدد ایک آخری وسیلہ ہے جو اس مشکل گھڑی میں اس دنیا کو بچا سکتی ہے۔ رب کائنات سے تعلق استوار کیجیئے۔ ہر مشین کے ساتھ آنے والے معلوماتی کتابچے کی طرح آپ کے لیے بھی قرآن کی صورت میں مدد فراہم کی گئی ہے۔ خود سے اپنی دنیا و آخرت متعلق اس کتاب کو کھولئیے اور اپنی مشکل کا حل پا لیجیے۔

کرونا وائرس دل دہلا دینے والے حالات کا باعث بن چکا ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ،ا ن کے بہترین نظام صحت اور انسان کی دہائیوں پر محیط ترقی ایک وائرس کے آگے بے بس ہو چکی ہے۔ جہاں اور بہت سے اقدامات کی اہمیت مسلم ہے وہیں اس سے بچنے میں اپنے مدافعتی نظام کا بھرپور استعمال بھی اہم ہے۔ اپنی قوت مدافعت کو بہترین بنانے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ان سفارشات پر عمل کیجیئے۔

بیس مارچ کو جاری کی گئی اس سفارشات کے بارے میں عالمی ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے ان پر عمل کر کے لوگ کرونا وائرس سے بچنے کے
ساتھ ساتھ مجموعی طور پر بیماریوں کے خلاف مدافعت بڑھاسکتے ہیں

سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ اچھی اور متوازن غذا ہے۔ یہ مدافعتی نظام کے معمول کے مطابق کام کرنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

الکوحل کا استعمال بلکل بند کر دیں اور اس کے ساتھ ساتھ چینی ملے مشروبات کا استعمال بھی روک دیں۔

اس سلسلے میں ایک اہم کام تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز بھی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں سے متعلق سنگین پیچیدگیوں کی شرح زیادہ ہے۔

بالغ افراد کے لیے روزانہ آدھا گھنٹہ کی جسمانی سرگرمی ضروری ہے جب کہ بچوں کے لیے دن بھر میں کم از کم ایک گھنٹہ ورزش کرنا اہم ہے۔
اگر باہر جانا ممکن ہو تو دوسروں سے مناسب فاصلہ رکھ کر تیز قدمی یا جاگنگ کریں۔ اگر باہر نہ جا سکیں تو انٹنیٹ پر موجود کئی قسم کی ورزش کی ویڈیوز لگا کے ورزش کی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا بھی نہ کر سکیں یوگا، ڈانس یا محض سیڑھیوں کا استعمال بھی جسمانی سرگرمی کے فوائد کے حصول کا ممکن ذریعہ ہے۔ اگر آپ گھر سے کام رہے ہیں تو بھی ہر آدھے گھنٹے بعد تین منٹ کے لیے اٹھ کر چہل قدمی کریں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے یہ بھی کہا ہے کہ ان حالات میں خوف،پریشانی اور دبائو محسوس کرنا عام ہے۔ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بات چیت کرنے سے آپ اس سلسلے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ ساتھ ساتھ دوسروں کی مدد کرنا مت بھولئے۔ کم وسائل رکھنے والوں اور آس پاس رہنے والے بوڑھے افراد کی خبر گیری کرتے رہئیے۔ وقت گزاری کے لیے کتب بینی اور باغبانی جیسے مشاغل اپنائیں۔

یاد رکھیں گھر سے باہر کسی بھی قسم کی ناگزیر سرگرمی کے لیے نکلنا ہوتو ماسک اور دستانوں کا استعمال یقینی بنائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دن بھر میں ایک سے دو بار مستند زرائع سے معلومات لینا مناسب ہے۔ دن بھر پریشان کن خبریں سننا آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔
اگرچہ بوڑھے لوگوں میں اس بیماری سے شرح اموات زیادہ ہے لیکن بچوں اور جوان لوگوں میں بھی اس کے پیچیدگیاں اور اموات سامنے آئی ہیں۔ اس لیے معاشرے کے ہر فردلے لیے اہم ہے کہ اس مشکل وقت میں ذمہ داری کا ثبوت دیں اور تمام حفاظتی اقدامات کی مکمل پابندی کریں۔

اگر کسی بھی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیں تو مرہم کی آن لائن کنسلٹیشن کی سہولت کو استعمال کریں۔ اس کی بدولت آپ گھر بیٹھے کورونا سے محفوظ رہتے ہوئے کسی بھی شعبہ صحت کے ماہر سے رابطہ اور مشورہ کر سکتے ہیں۔

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

Leave a Comment