(what is Botox?) بوٹوکس انجکشن کیا ہے؟ بوٹوکس کے 5 حیرت انگیز فوائد

Skin Care
botox
Reading Time: 1 minute

معالجین سالوں سے بوٹوکس کی مدد سے جھریوں اور چہرے کی لکیروں کا کامیاب علاج کر رہے ہیں۔ بوٹوکس ایک دوا کا تجارتی نام ہے۔ یہ دوا ایک بیکٹیریا سے حاصل ہونے والے زہر سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ زہر ادویات میں اور کاسمیٹک انڈسٹری میں بہت سے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ بوٹوکس اعصاب پر اثر کرنے والا زہر ہے۔ اس زہر کی سات قسمیں ہیں جو مختلف خصوصیات کی حامل ہیں اور ان کے استعمال کے مقاصد بھی مختلف ہیں۔|

بوٹوکس کیسے کام کرتا ہے؟

بوٹوکس اعصابی نظام پر اثر کرتا ہے اور پٹھوں تک اعصاب سے آنے والے پیغامات نہیں پہنچنے دیتا جس کی وجہ سے چہرے کے پٹھے پر سکون ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی فعالیت بڑھ جاتی ہے۔ بوٹوکس کا اثر دو سے سات دن کے درمیان میں نظر آنے لگتا ہے ۔ متاثرہ جگہ ہموار ہونے لگتی ہے اور جھریاں رفتہ رفتہ کم ہو کر ختم ہونے لگتی ہیں۔ ادویہ کے مقابلے میں بوٹوکس انجکشن زیادہ تیز اثر اور کامیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل مرد و خواتین ادویہ کے مقابلے میں بوٹوکس انجکشن کو زیادہ ترجیح دے رہے
ہیں۔

بوٹوکس کے فوائد

۔ یہ انجکشن چہرے کی جھریوں کو دور کر کے رعنائی اور خوبصورتی بخشتا ہے۔ اس کے استعمال سے ۔ ۔ چہرے پر نظر آنے والے بڑھتی عمر کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور آپ پھر سے دلکش اور حسین دکھنے لگتے ہیں۔

۔ بوٹوکس کو زیادہ تر ماتھے پر پڑنے والی لکیروں اور آنکھوں کے گرد نظر آنے والی لکیروں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ اس کو بھنوؤں کی درمیانی جگہ پر پڑ جانے والے بل ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ سورج کی روشنی یا کشش ثقل کے باعث پڑنے والی جھریاں بوٹوکس کے استعمال سے ختم نہیں ہوتی۔بوٹوکس کو ہونٹوں کے قریب پڑنے والی لکیریں ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ اس کے علاوہ ٹھوڑی اور گردن کی جھریاں ختم کرنے میں بھی بوٹوکس مؤثر ترین انتخاب ہے۔

Read Also: 4 Ways to Avoid Acne, Eczema and Oily Skin

بوٹوکس کے استعمال کا کیا طریقہ ہے؟

بوٹوکس لگوانے کا عمل انتہائی مختصر اور سادہ ہے۔ اس کو لگوانے لے لیے متاثرہ جگہ کو سن کروانا بھی ضروری نہیں ہے۔ ایک انتہائی باریک ٹیکے کے ذریعے بوٹوکس کو ان پٹھوں میں لگایا جاتا ہے جہاں جھریاں موجود ہوں۔ اس سلسلے میں ہونے والی تکلیف بھی بہت کم اور قابل برداشت ہوتی ہے۔ بوٹوکس تین سے سات دن میں اپنا اثر دکھاتا ہے۔ اس کے استعمال سے پہلے اور دوران ان باتوں کا خیال رکھیے۔

۔ اگر کوئی فرد ایسپرین یا آبوپروفین کھا رہا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ انجکشن والی جگہ پر چوٹ یا رگڑ کا نشان پیدا ہو جائے اور اس مقام سے خون رسنے لگے۔ دراصل یہ ادویہ خون کو پتلا اور بہاؤ میں تیزی پیدا کرتی ہیں، اس لیے خون رسنے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر کوئی بوٹوکس انجکشن لگوانا چاہے تو اسے چاہیے کہ دو ہفتے پہلے ان ادویات کا استعمال روک دے۔

۔ اگر کوئی فرد مچھلی کے تیل کے کیپسول یا حیاتین ھ (وٹامن ای) کھا رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ انجکشن لگوانے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لے۔

۔ اس انجکشن کے لگوانے کے کم از کم ایک ہفتہ بعد تک نشہ آور ادویات کا استعمال بھی روکے رکھنا ضروری ہے۔

۔ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں بھی یہ انجکشن لگوانے سے پرہیز کریں۔ اگر انجکشن لگوانا ضروری ہو تو معالج سے مشورہ ضرور کر لیں۔

۔ بوٹوکس لگوانے سے قبل جلد کے ماہر سے مشورہ کر لیں کیونکہ وہ جلد کے تمام مسائل کو آپ سے بہتر سمجھ سکتا ہے۔

بوٹوکس انجکشن کا اثر کتنے عرصے تک رہتا ہے؟

اس انجکشن کا اثر چار سے چھ ماہ تک رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پٹھوں میں پھر سے کھچاؤ پیدا ہونے لگتا ہے اور جھریاں پھر سے نمودار ہو سکتی ہیں لیکن یہ جھریاں پہلے کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ بوٹوکس کا اثر فرد کی جلد پر بھی منحصر ہے کیونکہ یر انسان کی جلد مختلف ہوتی ہے، لہذا اس کے اثرات میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بوٹوکس دوبارہ لگوانے کا فیصلہ فرد پر منحصر ہے۔

بوٹوکس کے پہلوئی اثرات

بوٹوکس کے پہلوئی اثرات بھی ہیں جن میں پٹھوں کا مفلوج ہونا، چہرے کا فالج، سر کادرد، نگلنے میں دشواری اور حساسیت شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انجکشن کی جگہ پر سرخی، درد، سوزش اور تعدیہ بھی ہو سکتا ہے۔

آنکھوں کی سرخی ، پتلیوں کا ڈھلک جانا اور آنکھوں کی خشکی بھی بوٹوکس کے پہلوئی اثرات میں شامل ہیں۔

Find the best skin specialist doctors in your city:

Best Skin Specialist in Rawalpindi
Best Skin Specialist in Faisalabad
Best Skin Specialist in Multan
Best Skin Specialist in Peshawar
Best Skin Specialist in Sargodha
Best Skin Specialist in Abbottabad
Best Skin Specialist in Gujranwala

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

Comments are closed.