انسان کی کریڈٹ ویلیو

A Persons Credit Value
Reading Time: 2 minutes

بل گیٹس ہویانوازشریف مرنا سب نے سسک سسک کر ہے۔

ویسے تو میں دنیاکے کافی ملک گھوم چکاتھالیکن کبھی کبھی میرادل اپنےپرانے محلےاور اسکی ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں ہوتا تھا۔میں کچھ دنوں سے بےعزتی کوترساہواتھاتو میں اپنےپرانے محلے میں چلاگیا۔”اوےنومی کیتھےجاریاں اے“یہ آوازکانوں میں پڑنی تھی کہ میری شوگر، میراڈپریشن،میرابلڈپریشر سب ختم ہوگیااور میں آسٹریلیاکی بڑی بڑی سڑکوں سےاپنی گلی کی آدھی ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کےفرش پر آگیا۔اب وہ نعمان،نومی نظرآرہاتھا۔جس کے چہرےپرمطمئن سی ہنسی تھی جس نےدس سال پہلےایک کمپنی خریدی تھی ان دنوں ٹیکنالوجی کا بول بالا تھامعجزہ یہ ہواکہ وہ دیکھتے ہی دیکھتےلاکھ پتی سے کڑورپتی بن گیا۔

کہانی آگےبڑھانےسےپہلےمیں آپ کوخطرناک حقیقت بتاتی چلوں۔دولت وہ خطرناک چیز ہےجوانسان کی صحت کھاتی ہےکوئی ایٹم بم سے نہیں مرتاجتناغیرصحت مندانہ ہوکرمرتاہے۔دولت کسی کےہاتھ میں نہیں ٹھہرتی اسکا تبادلہ ازل سےجاری ہےآج زردای کےپاس ہےتوکل میاں منشاہ کےپاس ہوگی,لیکن صحت کاتبادلہ نہیں ہوتا۔

ہماری صحت کی حالت کریڈٹ کارڈجیسی ہےجواستعمال کےبعدگھس جاتاہےیاایکسپائرہوجاتاہےاورپھرہماری صحت بلاک ہوجاتی ہے۔میں نے کبھی امیرآدمی کواتناخوش نہیں دیکھا۔انسان کی کریڈٹ ویلیوجتنی بڑھتی چلی جاتی ہےاتناانسان بیمارہوتاچلاجاتاہے۔انسان کوکبھی غربت نہیں مارتی،امارات مارتی ہیں۔انسان کبھی ناکام ہوکربیمار نہیں ہوتاکامیاب ہوکرعلیل ہوتاہے۔

دولت کاوارصحت کےساتھ ساتھ اخلاقیات پربھی ہوتاہےدولت مند شخص کونیند لانےکےلیےبھی نیندکی گولیاں کھانی پڑتی ہیں ایساہی نعمان کےساتیہ زندگی سے بری طرح تنگ آچکاتھا.سب سے پہلےوہ صحت سے محروم ہوااوربےسکونی کے عالم میں جاگرا. وہ زندگی سے بری طرح تنگ آچکاتھا۔وہ عمرےبھی کرچکاتھااور دنیاکی نعمتیں بھی جمع کرلئی تھیں لیکن پھر اس میں ایک تبدیلی آگئی اور میں اسکی یہ داستان سن رہی تھی

وہ بولامیں سفرکررہاتھااور میراگزرپرانےمحلےکے قریب سے ہواتومیں نے بریک لگادی جونہی میں گلی میں داخل ہوامجھےپیچھےسےکسی نے آواز لگائی اوےنومی کیتھےجاریاں اےیہ سن کرمیری ساری بیماریاں ختم ہوگئی میں نے پیچھےمڑکردیکھایہ میرےبچپن کادوست کامران تھاہم اسےکامی کہتے تھے۔اسکے والدکی پتنگوں کی دوکان تھی وہ پتنگیں چوری کرکےلاتااورہم اڑایاکرتے تھے۔ہم اتوارکوگلی ڈنڈابھی کھیلاکرتےتھے۔وہ مجھےنومی کہتاتھا.میں   ترقی کرگیااور بین الااقوامی شہری بناپھرنومی سےنعمان بن گیا۔ وہ اپنے اسی پرا نے محلے میں خوش باش تھا۔وہ کامران سےکامی بن کر بھی خوش تھا,لیکن میں نومی سے نعمان بن کر بھی وہی تھا

میں ان کے مقابلے میں صحت مند نظرآرہاتھامیرے سرپربال بھی تھے،ناک،کان اوردانت سب سلامت تھےاور اچھےکپڑےبھی پہن رکھے تھےلیکن یہ سب ظاہری تھامیں اندرسے کھوکھلاتھامیں اندرسےبیمارتھا۔یہ ظاہری بےرنگ تھے لیکن اندرسے بھرےہوےتھے۔میں نے دنیاکےکاموں میں اپنی صحت کوپیچھےچھوڑدیاتھامیں نہ تندرست تھانہ تواناتھا۔مجھےاس وقت کامی کےگھرکےتھڑےپربیٹھ کرمحسوس ہوادنیاکی سب سےبڑی دولت انسان کی صحت ہےاور سب سے مہنگی دواصحت پرتوجہ ہے۔اگرصحت نہ ہوتودنیاکاامیرترین شخصدنیاکی نعمتوں اورآسائشوں سےفائدہ نہیں اٹھاسکتااورایک دن سسک سسک کرمرجاتاہے۔

آپ کبھی بیمارنہیں ہونگےاگرآپ اپنےمصروف وقت میں سےاپنے لیے اور اپنےدوستوں کےلیےوقت نکالیں لیکن اگرخدانحواستہ آپ کوپھر بھی صحت سے متعلق مسائل ہیں توآپ گھربیٹھےڈاکٹرسےمرہم۔پی کے کے ذریعےسے رابطہ کرسکتے ہیں۔

Share This:

The following two tabs change content below.