پیشاب کا کم آنا کن 4 خطرناک بیماریوں کا باعث ہو سکتا ہے جانیں

Reading Time: 4 minutes

پیشاب کا کم آنا میڈیکل ٹرم کے مطابق اولیگوریا نامی ایک بیماری ہے ۔ ایک نارمل انسان دن بھر میں کم از کم 400 ملی لیٹر تک پیشاب کرتا ہے ۔ اگر کوئی اس سے کم پیشاب کرۓ تو وہ اس بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے

پیشاب کے کم آنے کی وجوہات

پیشاب کے کم آنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن کو جاننے کے بعد اولیگوریا میں مبتلا ہونے اور اس کی شدت کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے ان وجوہات میں سے کچھ اس طرح ہو سکتی ہیں

پانی کی کمی

پیشاب
Image Credit:Seniors Matter.com

پیشاب کےکم آنے کی سب سے بڑی وجہ جسم میں پانی کی مقدار کی کمی ہو سکتی ہے ۔ بعض افراد پانی کم پیتے ہیں یا پھر گرمی کی شدت اور زیادہ پسینہ آنے کے سبب بھی جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ ڈائریا ، الٹی اور موشن کی صورت میں بھی جسم سے پانی خارج ہو کر جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے جس سے پیشاب کے آنے کی مقدار میں کمی واقع ہو سکتی ہے

انفیکشن

بعض اوقات جسم کےکسی بھی حصے میں انفیکشن کی صورت میں مختلف اعضا میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جس کے سبب بھی جسم کے مختلف حصوں میں سے مائع کو جمع کر کے گردوں تک پہنچانے کا عمل متاثر ہوتا ہے جس سے پیشاب کی مقدار میں کمی واقع ہو سکتی ہے

پیشاب کے راستے میں رکاوٹ

پیشاب
Image Credit: Shutter stock

پیشاب کے راستے میں ہونے والی رکاوٹ کے سبب گردوں میں سے پیشاب کے خارج ہونے کے عمل میں رکاوٹ ہوتی ہے ۔ اور پیشاب گردوں میں ہی جمع ہوتا رہتا ہے اور باہر خارج نہیں ہوتا ہے جس سے ایک یا دونوں گردوں کے متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے

ادویات کا اثر

کچھ ادویات کے مستقل استعمال کے سبب بھی گردوں کے افعال میں کمی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سے پیشاب کا آنا کم ہو جاتا ہے ان ادویات میں درد کش ادویات کا مستقل استعمال ، ہائی بلڈ پریشر کی دوائيں اور جینٹامائ سین نامی اینٹی بایوٹک شامل ہے

پیشاب کی کمی کا ایک بڑا سبب جاننے کے لیۓ یہاں کلک کریں 

پیشاب کم آنے پر ڈاکٹر سے کب مشورہ کرنا چاہیے

پیشاب کی مقدار کی کمی کی صورت میں اس کی وجوہات کے مطابق اس کا علاج ضروری ہے اگر ایسا پانی کی کمی کی وجہ سےہو رہا ہے تو پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے ۔ لیکن اگر آپ محسوس کر رہے ہیں کہ پیشاب رکاوٹ کی صورت میں خارج ہونے سے رک رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا ، چکر آنا یا غنودگی طاری ہونے کی علامات ہوں تو اس صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے ورنہ یہ گردوں کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے

گردوں کے ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں سے آن لائن رابطے کےلیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ وزٹ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں

 اولیگوریا کی تشخیص

پیشاب
Image Credit:Medical News Today

اس بیماری کی تشخیص کسی ٹیسٹ سے ممکن نہیں ہے البتہ آپ کا ڈاکٹر اس بیماری کے حوالے سے کچھ سوال پوچھ سکتا ہے جن کے ذریعے بیماری کی تشخیص ہو سکتی ہے

ڈاکٹر سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرۓ گا کہ  مقدار میں کمی کب سے واقع ہوئی ہے اور اس کا سبب کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کا فیصلہ آپ خود بھی کر سکتے ہیں کہ کیا زيادہ پانی پینے سے آپ کے پیشاب کے آنے  کی مقدار بڑھ رہی ہے یا نہیں ۔

اس کے  علاوہ ڈاکٹر  ایک تفصیلی ٹیسٹ بھی کروا سکتا ہے جس میں وہ پیشاب کے رنگ اور اس میں موجود پروٹین اور یورک ایسڈ کی مقدار کی جانچ کر سکتا ہے جس کے بعد ڈاکٹر  مذید جانچ کے لیۓ خون کے ٹیسٹ ، الٹراساونڈ ، سی ٹی اسکین کا فیصلہ کر سکتا ہے

پیشاب کی کمی کا علاج

اس بیماری کی صورت میں ڈاکٹر آپ کو ڈرپ لگانے کا مشورہ دے سکتا ہے تاکہ جسم مین سے پانی کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور گردوں میں سے زہریلے مادوں کو خارج کر کے ان کے افعال کو بہتر بنایا جا سکے

بیماری  کی صورت میں ہونے والی پیچیدگیاں

پیشاب
Image Credit:Medical News Today

اگر اس بیماری کو نظرانداز کر دیا جاۓ اور اس کا وقت پر علاج نہ کروایا جاے تو یہ بہت ساری پیچیدگیوں کا بھی باعث بن سکتی ہے جس میں ہائی بلڈ پریشر ،دل کا فیل ہو جانا ، خون کی کمی ، اور معدے کے امراض شامل ہیں ۔

بیماری سے بچنے کی تدابیر

اس موذی مرض سے بچنے کے لیۓ کچھ اقدامات کرنا ضروری ہیں جن میںاس بات کو یقینی بنانا کہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا اور دن بھر میں کم از کم 8 سے دس گلاس پانی لازمی پینا شامل ہے اس کے علاوہ صحت مند طرز زندگی کو اپنانے سے بھی اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے