پٹھوں کی سوزش اور کھچاؤ کو ختم کرنے کے 5 ایسے طریقے جوآپ کو بیماری سے دور رکھتے ہیں

Reading Time: 4 minutes

پٹھوں کی کھچاؤ کا مسئلہ ہر اس شخص کو در پیش ہوگا جو گھنٹوں دیر تک کوئی کام کرئے گا،وہ کام چاہے لیپ ٹاپ پر ہو یا کسی اور مشینری پر۔جب ہم کسی بھی چیز پر فوکس کرتے ہیں یا نظر اور دماغ لگا کر کام کرتے ہیں تو ہم اس تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔اس تکلیف سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم وہ طریقے اپنائیں جن کی مدد سے پٹھوں کی سوزش دور ہوں۔

پٹھوں کی تکلیف سےاور سوزش سے نجات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ورزش ہے۔ورزش سے نہ صرف  ہمیں درد سے نجات ملتی ہے بلکہ ہم اپنے دل کی صحت،اپنی جسمانی صحت اور اپنی دماغی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔یہ ہماری ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے۔یہ ہمارے پھیپھڑوں کے لئے بھی بہت مفید ہے۔

ورزش صحت مند زندگی کا اہم حصہ ہے۔ہم کیسے اپنے مسلز کی صحت کو اس کی مدد سے برقرار رکھ سکتے ہیں،اور کیسے ہم کھچاؤ ختم کرسکتے ہیں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ مضمون لازمی پڑھیں۔یہ آپ کے لئے معاون ثابت ہوگا۔

پٹھوں کی صحت میں کیسے بہتری لائیں؟ٓ-

پٹھوں

جب ہم زیادہ کام کرتے ہیں تو ہمارے پٹھوں پر دباؤ پڑتا ہے جس وجہ سے یہ تکلیف میں آجاتے ہیں۔آپ یہ تکلیف گھنٹوں تک محسوس کرسکتے ہیں یا اس سے بھی طویل ہوسکتا ہے۔مسلز کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے وہ جانتے ہیں؛

اس کے علاج کے لئے سب سے پہلے آرام کرنا چاہیے۔-

مساج کی مدد سے بھی ہم درد میں آرام پاسکتے ہیں۔-

سوزش کوکم کرنے کے لئے برف بہترین ہے۔-

ہمارے پٹھوں میں خون کی گردش یا بہاؤ کو بہتر بنانے کے لئے گرم پانی سے غسل بھی کرنا چاہیے۔-

ہم اس کے لئے اینٹی سوزش ادویات کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔-

مطالعات سے علم ہوتا ہے کہ مسلز کی سوزش کو ختم کرنے کے لئے کچھ طریقےہیں جو ہماری مدد کرتے ہیں۔وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

خون کا بہاؤاچھا کرنا-

پٹھوں

ہمارے مسلز کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے  خون کا بہاؤ اچھا ہو اور خون کی گردش ہو۔مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ مسلز کو گرم کرنے سے خون کی گردش میں بہتری آتی ہے۔خون کی گردش کو بہتر بنانے کے لئے ہم کچھ ورزش کرسکتے ہیں جن میں دوڑ لگانا،ہلکا وزن اٹھانا شامل ہے۔

پانی پینا-

پانی کی اہمیت سے تو ہم سب ہی واقف ہیں کہ یہ ہماری زندگی کے لئے کتنا ضروری ہے۔ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ٹھیک طریقے سے کام کرسکے۔ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ہمیں توانائی فراہم کرنے،اور غذائی اجزا کو پہنچانے کے لئے یہ اہم کردادر اد ا کرتا ہے۔اس کی کمی سے ہمارا جسم بہتر طریقے سے کام نہیں کرسکتا اس کے علاوہ ہمارے مسلز اور جسم میں درد کے علاوہ تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔

مناسب آرام-

آرام کرنے سے بھی ہمارے مسلز سکون میں آتے ہیں۔آرام کی مدد سے ہمارے عضلات اور جسم کے خلیوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔اس لئے اگر آپ اپنے مسلز میں کھچاؤ یا سوزش محسوس کرتے ہیں تو اس کے لئے آرام بہت ضروری ہے۔

ورزش کریں-

درست طریقے سے ورزش کرنا آپ کے مسلزکے تناؤ کو ختم کرسکتا ہے۔ورزش ہمیں بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔اس لئے اپنے مسلز کو مساج کرنے اور آرام دینے کے ساتھ ساتھ ورزش کرنا بھی لازمی ہے۔

اگر آپ کمر میں درد کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔

دیگر طریقے-

پٹھوں

 

برف کی ٹکور یعنی برف کو لگانے سے بھی ہمارے مسلز کی سوزش کو آرام ملتا ہے۔اور اس سے تکلیف بھی کم ہوتی ہے۔

متوازن غذا بھی ہماری صحت کی بہتری میں اہم کردارادا کرتی ہے۔ہم پھلوں اور سبزیوں کی مدد سے متوازن غذا حاصل کرسکتے ہیں۔

گری دار میووں ہمارے پٹھوں کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔اس لئے ان کا استعمال بھی یقنی بنائیں۔

فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنک سے پرہیز کریں کیونکہ یہ ہمارے جسم سے کیلشیم کے لیول کو کم کردیتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کب ملنا ہے-

اگر آپ کے مسلز کا درد ہفتوں تک جاری رہتا ہے توآپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ اگر ورزش اور خوراک کی مدد سے بھی آرام نہیں مل رہا تو آپ کو ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

اگر آپ کو مسلز کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے یا آپ کو کمزوری یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کو ماہر ڈاکٹر سے تب بھی ملنا چاہیے۔

 پٹھوں کی سوزش اور کھچاؤ اس سے پہلے کہ سنگین صورتحال اختیار کرجائے آپ کو جلد چیک اپ کروا لینا چاہیے۔اگرآپ کو کہیں سفر کرنے یا حرکت کرنے سے بھی پٹھوں  میں درد محسوس ہورہا ہے تو اس کے لئے آپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ سے ڈاکٹر کی اپاینمنٹ حاصل کرسکتے ہیں ۔اس کے لئے آپ اپنے موبائل میں مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ ڈاؤن لوڈ کریں۔اس کے علاوہ آپ وڈیو کنسلٹیشن یا اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن حاصل کرسکتے ہیں۔

 

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences