سات عادات جو گردوں کے امراض کا سبب بن سکتی ہیں

Chronic Conditions
KIDNEY
Reading Time: 3 minutes

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ گردوں کی ناکاری سے متاثرہ افراد کو اپنی بیماری کا پتا ہی بہت دیر سے چلتا ہے۔ دراصل ہمارے روزمرہ معمول میں شامل کئی ایسی عادات اور محرکات ہیں جو کہ گردوں کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ خاص طور پر گردوں کی ناکاری جس کو رینل فیلیئر کہا جاتا ہے اور نیفرائٹس گردوں کو متاثر کرنے والی سنگین بیماریاں ہیں۔

 :گردوں کی ناکاری یا رینل فیلیئر کے بارے میں تفصیلی معلومات

گردے ہمارے جسم میں ہر لمحہ اہم ترین کاموں کو سرانجام دیتے ہیں جن میں جسم سے زہریلے اور فاضل مواد کا اخراج، بلڈ پریشر کنٹرول اور سرخ خلیات کی تیاری جیسے اہم کام سر فہرست ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی عادات ہیں جو گردوں کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔

مثانہ بروقت خالی نہ کرنا

ایسے لوگ جو وقت پر رفع حاجت نہیں کرتے اور پیشاب کو روک کر رکھتے ہیں ان کو گردوں کی بیماریوں کا خطرہ برھ جاتا ہے۔ پیشاب کی زیادہ دیر تک جسم میں موجودگی مچانے میں بیکٹیریا کی تعداد میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ یہ عادت گردوں کے انفیکشن اور غیر ارادی طور پ ر پیشاب خطا ہونے کی سنگین شکایات کا باعث بن سکتی ہے۔
 :گردوں کے انفیکشن کے بارے مین مزید جانئے

ہمیشہ نشینی

وہ لوگ جو ہر وقت بیٹھے رہتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں کا بہت کم اہتمام کرتے ہیں انکو بھی گردوں کی بیماریوں سے خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتھال سے بچنے کے لیے اہم ہے کہ جسمانی طور ہر سرگرم رہا جائے، اگر زیادہ دیر تک بیٹھنا بھی ہو تو اس دوران بار بار اٹھ کر چہل قدمی کرنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ وقزش کو اپنامومول بنا لینے سے بھی آپ گردوں کی بیماریوں سے بچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ گردوں کی بیماری کے ماہر داکٹر سے رابطہ اور مشورہ کرنے کے لیے مرہم وہب سائٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈائٹ مشروبات

اگرچہ ہم ڈائٹ مشروبات کا انتکاب اپنی صحت کو نقسان نہ پینچنے کے لیے کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وہ لوگ جو دن بھر میں دو سے تین گلا س ڈائٹ مشروبات پیتے ہیں ان کے گردوں کے افعاؒ میں کمی آنے لگتی ہے۔ غذا کے درست استعمال کے بارے میں رہنمائی کے لیے لاہور، کراچی یا پاکستان کے کسی بھی شہر کے بہترین ماہرین غذائیت سے رابطہ کیجیئے۔

نمک اور چینی کا زیادہ استعمال

نمک کا زیادہ استعمال گردوں پر کام کا دبائو بڑھا دیتا ہے۔ اس سے گردوں کا فعل متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح شکر کا زیادہ استعمال ذیابیطس، موٹاپے اور گردوں کے کلیات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔

اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر۔ وزن کی زیادتی۔ نیند کی کمی ، تمباکونوشی اور پانی کی کمی بھی ایسے محرکات ہیں جو گردوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان عادات کا سد باب کر کے آپ اپنے گردوں کی صحت کو قائم رکھ سکتے ہیں۔

Few Most Popular Nephrologists:

Share This:

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.