حمل کے نہ ٹہرنے کی وجوہات اور ان کا علاج

Reading Time: 3 minutes

عام طور پر پاکستان میں شادی کے فورا بعد سے تمام عزیزو اقارب کو اس بات کا انتظار شروع ہو جاتا ہے کہ کب کوئی خوشخبری سننے کو ملے گی اور ان کے بار بار کے تقاضے نۓ شادی شدہ جوڑے کو ایک ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتے ہیں ۔ مگر یاد رکھیں کہ شادی کے ایک سال تک اگر آپ امید سے نہیں ہوتے تو یہ کسی بھی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے کیوں کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے حمل کے ٹہرنے میں بھی وقت لگ سکتا ہے تاہم ایک سال کے بعد اگر حمل نہ ٹہرے تو اس حوالے سے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ایک ضروری امر ہے

حمل نہ ٹہرنے کی صورت میں اقدامات

اگر آپ کی شادی کوایک سال ہو گیا ہے اور حمل نہیں ٹہر رہا تو اس صورت میں میاں بیوی دونوں کو اپنا معائنہ لازمی طور پر کروانا ضروری ہے صرف عورت کا معائنہ کروانا اس مسلے کا حل نہیں ہو سکتا ہے

مردوں کا ٹیسٹ

حمل نہ ٹہرنے کی صورت میں مردوں کا ایک ٹیسٹ کروایا جاتا ہے جس کو سیمنز اینا لائسس semen analysisکہتے ہیں اس ٹیسٹ کے ذریعے مردوں کے اسپرم کی کاونٹ اور ان کی کوالٹی پتہ چلتی ہے اگر مرد کا یہ ٹیسٹ نارمل ہو تو اس کا مطلب ہے کہ حمل کے نہ ٹہرنے کا ذمہ دار مرد نہیں ہے

عورتوں کے اندر حمل نہ ٹہرنے کے اسباب

خواتین کے اندر حمل نہ ٹہرنے کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جن مین سے کچھ یہ ہیں

ہارمونل ڈس آرڈر

اگر کسی وجہ سے خواتین کے ہارمون کا نظام بگاڑ کا شکار ہو تو یہ خرابی حمل کے ٹہرنے مین رکاوٹ کا باعث ہو سکتی ہےاس کی شناخت گائناکالوجسٹ کے بتاۓ ہوۓ خون کے ٹیسٹوں سے ہو سکتا ہے جس سے پتہ چل سکتا ہے کہ کون سے ہارمون کے اندر خرابی موجود ہے

پی سی او

اووری کے اندر موجود پانی کی تھیلی جو کہ مختلف ہارمون کے خرابی کے باعث بن جاتی ہے مادہ انڈوں کے بننے میں رکاوٹ ڈالنے کا باعث ہو سکتی ہے جس کے باعث حمل ٹہرنے مین دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یہ قابل علاج ہوتی ہے اور ادویات سے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے

اینڈو میٹریوسس

اس بیماری کی ابتدائی علامات میں ماہواری کا بے قاعدہ ہونا اور بہت تکلیف سے ہونا شامل ہے اس بیماری میں اووری کے باہر کی جانب سسٹ بننے لگتی ہیں جس کے سبب اوری کے اندر انڈے بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے اس صورت میں عورت کے حمل ٹہرنے کے امکانات خصوصی علاج کے بغیر ہونا ممکن نہیں ہے

ٹیوب کا بند ہونا

اگر ٹیوب بند ہوں تو اس صورت میں حمل کے ٹہرنے کے امکانات بالکل نہیں ہوتے ہیں اس صورت میں کسی بھی قسم کا علاج مفید ثابت نہین ہو سکتا ہے ایسے میاں بیوی کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے بارے میں سوچنا چاہیے

بچے دانی میں رسولی

بچے دانی میں کسی بھی قسم کی رسولی یا انفیکشن کی صورت میں حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اس وجہ سے سب سے پہلے کسی ماہر ڈاکٹر سے ان کا علاج کروانا ضروری ہے اس کے بعد ہی حمل ٹہر سکتا ہے

ڈائگنوسٹک لیپروسکوپی

یہ دوحقیقت خواتین کے اندر حمل نہ ٹہرنے کی وجوہات کو جانچ کرنے کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک چھوٹی سی سرجری کے ذریعے خواتین کے جسم میں کیپروسکوپ نامی ایک آلہ داخل کیا جاتا ہے اور اس سے اندر کے تمام اعضا کی جانچ کی جاتی ہے یہ طریقہ کار محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ کارآمد بھی ہے کیوں کہ اندر موجود چھوٹے موٹے مسائل کا اسی وقت اس کے ذریعے علاج بھی ہو جاتا ہے مثلا اینڈومیٹروسس کی صورت مین اسی وقت ان فاضل خلیوں کو جلایا جا سکتا ہے، پولی سسٹ اووری کی صورت میں اس کو نکالا جا سکتا ہے اور بچے دانی کے بھی کئی مسائل کو اس کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے

یاد رکھیں

اولاد دینے والی ذات اللہ کی ہے اس لیۓ آپ کو سب سے پہلےخود کو ہر قسم کے ذہنی دباؤ سے خود کو بچانا ہے اس کے بعد بہترین ڈاکٹر سے مشورہ کریں علاج کروائيں اور دعا کا سہارہ لیں باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں وہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.

Leave a Comment