یورک ایسڈ جسم کے لیۓ خطرنا ک ،اس کی شرح کو کم کرنے کے 7 طریقے

Reading Time: 5 minutes

یورک ایسڈ جسم میں پیدا ہونے والا وہ قدرتی فاضل مادہ ہے جو ایسے  کھانوں کے انہضام کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے جن میں پیورن نامی کیمیکل مادہ موجود ہوتا ہے   ۔ پیورن کچھ کھانوں میں بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جن کو کھانے کے نتیجے میں خون میں پیورن شامل ہوجاتا ہے ان کھانوں میں سرخ گوشت ، مچھلی ،اور دالیں شامل ہیں

عام طور پر گردوں کا کام یورک ایسڈ کو جسم سے خارج کرنا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ہماری غذا میں جب ایسی اشیا شامل ہو جائيں جن میں پیورن کی مقدار زيادہ ہوتی ہے تو اس سے یورک ایسڈ جسم سے خارج ہونے کے بجاۓ جسم ہی میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔

جسم میں یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجوہات

یورک ایسڈ
Image Credit: Practical pain managment

جسم کے اندر یورک ایسڈ کی شرح کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے سب سے بنیادی وجہ غذا میں بے اعتدالی ہے اور ایسی غذا کا استعمال ہے جو کہ پیورن سے بھر پور ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ کچھ افراد کے اندر بلند شرح یورک ایسڈ ان کو وراثتی طور پر بھی ملتی ہے ۔ موٹاپا اور طویل عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہنا بھی خون میں یورک ایسڈ کی شرح کو بڑھا دیتا ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کے شکار افراد کے خون میں بھی یورک ایسڈ کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے جن میں گردوں کی خرابی کےمریض ، ذیابطیس کے مریض ، کینسر کی ٹریٹمنٹ لینے والے مریض وغیرہ شامل ہیں

یورک ایسڈ کی بلند شرح کے جسم پر اثرات

یورک ایسڈ
Image Credit: Quora

ایک نارمل خاتون میں یورک ایسڈ کی شرح 4۔2 سے لے کر 6 تک ہونا چاہیۓ جب کہ ایک نارمل مرد میں یہ شرح 4۔3 سے 7 تک ہو سکتی ہے ۔ اس مقدار سے زیادہ مقدار بلند شرح یورک ایسڈ کہلاتی ہے اور اس کو ہائپر یوریکیمیا کہا جاتا ہے ۔

یورک ایسڈ خون کے اندر کرسٹل کی صورت میں جمع ہو جاتا ہے جو کہ بعد میں جوڑوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کو گٹ کی بیماری بھی کہتے ہیں ۔ یہ جوڑوں میں شدید درد کا باعث ہوتی ہے اس سے جوڑ سوج جاتے ہیں اور چلنے پھرنے میں خصوصا گھٹنوں اور پیروں میں درد کا باعث ہوتی ہے

اس کے علاوہ یہ کرسٹل بعض اوقات گردوں میں جمع ہو کر گردوں کی پتھری کا باعث بھی بن سکتے ہیں ۔

ٹانگوں کے درد کے اسباب جاننے کے لیۓ یہان کلک کریں 

یورک ایسڈ کی تشخیص

یورک ایسڈ
Image Credit: 123RF

یورک ایسڈ کی شرح کو جانچ کرنے کے لیۓ خون کے ایک میڈیکل ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس سے خون میں یورک ایسڈ کی شرح کو جانچا جا سکتا ہے

یورک ایسڈ کو کم کرنے کے قدرتی طریقے

یورک ایسڈ کی بلند شرح کو یا پھر اس شرح کو بڑھنے سے روکنے کے لیۓ کچھ ایسے طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے

زيادہ پیورن والی غذاؤں سے احتیاط

جیسا کہ شروع میں بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی غذائيں جن میں پیورن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ یورک ایسڈ کی شرح میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں اس وجہ سے ایسی غذاؤں کے استعمال میں اعتدال بہت ضروری ہے ۔

اس وجہ سے زیادہ گوشت والی غذائيں ، سبز پتوں والی پھلیوں گوبھی وغیرہ کے استعمال میں خصوصی احتیاط کرنی چاہیۓ

زيادہ میٹھے سے پرہیز

ویسے تو یورک ایسڈ کی شرح میں اضافہ ان غذاؤں کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ پروٹین سے بھر پور ہوتی ہیں مگر اب حالیہ تحقیق کے مطابق زيادہ میٹھی اشیا کا استعمال بھی اس کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں اس وجہ سے زيادہ میٹھا کھانے سے اور خاص طور ہر آرٹیفیشل مثھاس والی اشیا کے استعمال سے پرہیز کر کے یورک ایسڈ کے لیول کو برقرار رکھا جا سکتا ہے

سوڈا والے مشروبات

یورک ایسڈ
Image Credit: Daily Express

ایسے تمام مشروبات جن میں آرٹیفیشل مٹھاس اور سوڈا موجود ہوتا ہے خون میں یورک ایسڈ کو بڑھانے کا ایک بڑا سبب قرار دی جا رہی ہیں اس کے علاوہ ایسے تمام پھلوں کے جوس جو کہ پروسیز کر کے بناۓ جاتے ہیں خون میں شوگر کے لیول کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور اس سے یورک ایسڈ کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے

زيادہ سے زيادہ پانی پیئيں

پانی جو کہ آسانی سے میسر ہے اس کو اللہ تعالی سے یہ تاثیر بخشی ہے کہ وہ صحت کے بہت سارے مسائل کو حل کر سکتا ہے ۔ یورک ایسڈ کی بلند شرح کو کم کرنے میں پانی بہت معاون ثابت ہوتا ہے اس کا زیادہ سے زيادہ استعمال گردوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے ۔ پانی گردوں میں جمع یورک ایسڈ کو دھو ڈالتا ہے اور اس کو جسم سے خارج کر دیتا ہے

وزن کم کریں

وزں میں اضافے کا مطلب ہے جسم میں فیٹ سیلز کا جمع ہونا ہوتا ہے ۔ یہ سیلز دوسرے خلیوں کے مقابلے میں زيادہ یورک ایسڈ بناتے ہیں اس وجہ سے موٹاپا یورک ایسڈ کی شرح میں اضافے کا باعث ہوتا ہے ۔ اس کو کم کرنے کےلیۓ وزن کم کرنا بہت ضروری ہے

وزن میں اضافے کے باعث گردوں کو بھی اس حوالے سے دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ فاضل مادے  جسم سے خارج نہیں کر پاتا ہے جس سے خون میں یورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے

فائبر والی غذاؤں کا استعمال

زیادہ فائبر والی غذاؤں کا استعمال جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ زیادہ فائبر والی غذائيں خون میں شوگر اور انسولین کے لیول کو بھی اعتدال میں رکھنےمیں معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس  کی شرح کم ہو سکتی ہے

ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں

ذہنی دباؤ ، نیند کی کمی اور سست طرز زندگی بھی جسم کے اندرونی سوزش کا باعث بنتی ہے جس کے سبب جسم میں اس  کی شرح بڑھ جاتی ہے ۔

ذہنی دباؤ سے نجات کے لیۓ سانس لینے کی مشقیں اور یوگا وغیرہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ بہترین نیند اس کے لیۓ معاون ثابت ہو سکتی ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے

تیس سال کی عمر کے بعد عام طور پر مردوں اور عورتوں کے جوڑوں میں ہونے والا درد اور سوزش یورک ایسڈ کی شرح میں اضافے کی نشانی ہو سکتی ہے جس کے لیۓ ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور اس کی ہدایات کے مطابق اس کا ٹیسٹ کروا لینا چاہیۓ

بلند شرح کے ہونے کی صورت میں ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں سے آن لائن  مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ وزٹ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں