حمل کن بیماریوں کی وجہ سے ضائع ہوتا ہے اورکونسی 2 چیزیں اچھی ہیں حمل کے لئے

Reading Time: 4 minutes

حمل کیوں ضائع ہوتا ہے اور وجوہات کیا ہوسکتیں ہیں آیئے یہ جانتے ہیں۔

ماں بننااک نعمت ہے،اور ہر لڑکی کی شادی کے بعد یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی ماں بننے کی خوشی حاصل کرسکے۔لیکن بہت سی خواتین میں کچھ پچیدگیاں سامنےآتی ہیں جس وجہ سےپریگنینسی مشکلات کا شکارہوتی ہے۔کچھ عورتیں حاملہ ہوتیں ہیں لیکن کچھ ہی دنوں میں انکا حمل ضائع ہوجاتا ہے۔حمل کیوں ضائع ہوتا ہےاور اس کی کیا وجوہات ہیںاگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو اس بلاگ کو لازمی پڑھئیں۔

حمل ضائع ہونا کیا ہے؟-

حاملہ ہونے کےبعد20 ہفتوں  کے اندراندرحمل کا ضائع ہوجانامسکیرج کہلاتا ہے۔اگر پہلے 12 ہفتوں میں حمل ضائع ہوتا ہے تو اسے ایرلی مسکیرج کہتے ہیں۔اگر 12 سے 10 ہفتوں میں حمل ضائع ہوتا ہے تو اسے لیٹ مسکیرج کہتے ہیں۔حمل کے ضائع ہونےکی وجہ پتہ نہیں چلتی۔

حمل کے ضائع ہونے کی وجوہات

بہت سے کیسز میں حمل کےضائع ہونے کی وجوہات کا علم نہیں ہوتا۔اس کے ضائع ہونے کی عام وجوہات کونسی ہوسکتیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

جنیٹک کی وجہ سے-

جیسا کہ میں نےپہلے بتایا کہ حمل کے ضائع ہونے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آتی لیکن 30 سے 40 فیصد جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ جنیٹک بھی ہوسکتی ہے۔یا بچے کی ایسی ابنور میلٹی جس پر بچے کی نشوونما ہونے پر بچہ ابنورمل یعنی ٹھیک پیدا نہیں ہوگا۔تو قدرت کی طرف سے ہی ایسی پریگنینسی ضائع ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر مصباح کا مزید کہنا ہے کہ بجائے اس پر پریشان ہونے کہ جو بچہ گرو کرنے پر ابنورمل پیدا ہوگا،یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اللہ نے آپ کو ایک بڑی آزمائش سے بچالیا۔

خون کی سپلائی کا نہ ہونا-

بچےکو خون کی سپلائی کرنے والا آرگن ہے جیسے پلیسنٹا کہتے ہیں۔اسکے اندر خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور بچے کو خون کی سپلائی جانا رک جاتی ہے۔اور بچے کی گروتھ رک جاتی ہے جس وجہ مس کیرج ہوتا ہے۔

ہارمونز کی وجہ سے-

وہ لوگ جو پی کوز کے مریض ہوتے ہیں۔ان میں ہارمونل متوازن نہیں ہوتا جس وجہ سے مس کیرج ہوتا ہے۔تھائیرائڈ کے مریضوں میں بھی ہارمونز ٹھیک نہیں ہوتے جس وجہ سے زیادہ چانسز ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے جسم میں موجود مختلیف آرگنز جیسے ٹیسٹیرون اور ایسٹروجن وغیرہ ان  کی ریشو بھی اوپر نیچے ہونے سے ہارمونز کا مسئلہ ہوتا ہے۔

یوٹرس کی ساخت-

بعض خواتین کے اندر یوٹرس کی ساخت کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے۔

عورت کے اندر مسائل-

عورت کے کچھ ایسے مسائل جو حمل کے ضائع ہونے کا سبب بنتے ہیں وہ یہ بھی ہوسکتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے-

ذیابیطس کی وجہ سے-

تھائیرایڈ کی بیماری کی وجہ سے-

غیر متوازن ہارمونز-

یوٹرس کا انفیکشن-

ماں کی جسمانی صحت کا ٹھیک نہ ہونا-

مدافعتی نظام کا ردعمل-

کرموسومل یا جنیاتی طور پر-

اسکے علاوہ وہ خواتین جن کی یوٹرس میں رسولیاں ہوتیں ہیں ان کو بھی لیٹ مس کیرج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یوٹرس انفیکشن کی وجہ سے مس کیرج کا خدشہ ہوتا ہے۔

حمل ضائع ہونے کی علامات-

اسقاط حمل کی مندرجہ ذیل علامات ہوسکتیں ہیں؛

پیٹ میں درد ہونا-

اندام نہانی سے خون کا بہنا-

کمزوری محسوس کرنا-

کمر میں درد ہونا-

حمل کے لئے اچھا کیا ہے؟-

حمل

بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ میاں بیوی کی ہم بستری کی وجہ سے حمل کے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ایسا نہیں ہے۔اور ہم سے سے اکثر یہ سوچتے ہیں کہ گرم چیز کے استعمال سے ایسا ہوا اور گرم چیز کی وجہ سے خون بہنا شروع ہوگیا ایسا نہیں ہوتا۔یہ لوگوں کی اپنے سے بنائی ہوئی باتیں ہیں جن پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔

ورزش-

صحت مند حمل کےلئےورزش بہت اچھی  ہے۔اس کےعلاوہ ورزش صحت کے تمام مسائل حل کرتی ہے۔ہمیں اچھے حمل کے لئے ورزش لازمی کرنی چاہیے۔جیسے ٹہلنا،اور پیدل چلنا وغیرہ۔جن لوگوں کو پی کوز کا مسئلہ ہو وہ اپنے وزن کو کم کریں اور صحت مند وزن رکھیں۔جس وجہ سے بچ سکتے ہیں۔

اگرآپ کو بچہ دانی کی کمزوری کا مسئلہ ہے تو اس کے لئے بھی آپ کو اپنے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

متوازن غذا-

حمل

پھلوں اور سبزیوں کا استعمال ہماری صحت کے لئے بہت مفید ہے۔ہمارے جسم میں وٹامنز کی کمی کو پورا کرنے کے لئے یہ اہم کرداد ادا کرتی ہیں۔ہمیں پریگنیسی میں ایسی غذا کا استعمال کرنا چاہیے جو ہماری صحت کے لئے مفید ہوں۔

کیا نہیں کرنا چاہیے؟

اس حالت میں الکوحل یعنی سافٹ ڈرنکس کا استعمال زیادہ نہیں کرنا چاہیے۔

کسی بھی قسم کا ذہنی صدمہ یا پریشانی نہیں لینی چاہیے۔

حمل کے ضائع ہونے کی اور بھی دیگر وجوہات ہوسکتیں ہیں جو ایک گایناکالوجسٹ ہی بتا سکتی ہے۔اگرآپ بھی کسی مسئلے کا شکار ہیں تو اس کے لئے آپ کو پروپر چیک اپ کی ضرورت ہے جو آپ کے لئے ضروری ہے۔آپ مرہم ڈاٹ پی کی ایپ اپنے موبائل میں ڈاون لوڈ کریں اور ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں۔

اس کے علاوہ آپ ڈاکٹر کی اپائنمنٹ بھی اسی ایپ سے لیں اور 03111222398 آن لاین کنسلٹیش لیں۔

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences