شادی کے لیۓ بہترین عمر اٹھارہ سال کے بجاۓ کتنی ہونی چاہیۓ ماہرین نے جدید تحقیق کی روشنی میں انکشاف کر دیا

Reading Time: 4 minutes

شادی کے بارے میں ازدواجی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ یہ وہ لڈو ہے جو کھاتا ہے وہ بھی پچھتاتا ہے اور جو نہیں کھاتا وہ بھی پچھتاتاہے ۔ ہمارے معامشرے میں عام طور پر لڑکی کی پیدائش کے بعد سے ماں اس کا جہیز بنانا شروع کر دیتی ہے اور یہی حال لڑکے کا بھی ہوتا ہے جس کے سر پر سہرا سجانے کے خواب اسی وقت سے دیکھنے شروع ہو جاتے ہیں جب وہ پاؤں پاؤں چلنے کے ہی قابل ہوتا ہے

مردوں کے لیۓ شادی کی بہترین عمر

شادی
Image Credit: Weddingz. in

گیلپ سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق مردوں کی شادی کی بہترین عمر 27 سے 30 سال قرار دی گئي ہے ۔ اس کا سبب ماہرین کے مطابق یہ ہے کہ اس عمر میں مرد جسمانی طور پر اپنی صحت کے عروج پر ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ نفسیاتی حوالے سے بھی مضبوط ہو چکا ہو تا ہے ۔

ذمہ داریوں کے حوالے سے اس کو اس بات کی صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق و فرائض ادا کر سکے ۔ اس عمر میں شادی کے مرد کی زندگی اور صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں

برمنگھم میپل کلینک کے کیری کدوائک نے اس حوالے سے ایک نظریہ پیش کیا جس کو انہوں نے گولڈی لاک تھیوری کا نام دیا جس میں ان کا یہ کہناتھا کہ شادی کے لیۓ بہترین عمر 27 سال سے 32 سال کے درمیان ہے

اس کا سبب بتاتے ہوۓ ان کا یہ کہنا تھا کہ اس عمر میں مرد اتنا میچور ہو چکا ہوتا ہے کہ اصل ذہنی ہم آہنگی اور بچپن کی جزباتیت میں فرق تلاش کر سکے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس عمر کے مرد ایڈجسٹ کرنے اور تعلقات کو نبھانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لیتے ہین

عورتوں کے لیۓ شادی کی بہترین عمر

شادی
Image Credit:You Tube

عام طور پر ہمارے معاشرے میں لڑکی کی شادی کم عمری میں کرنے کا رواج ہے لوگوں کی یہ کہاوت ہے کہ کم عمر لڑکی پانی کی طرح ہوتی ہے اس کو جس برتن میں ڈالو وہ اس حالت میں ڈھل جاتی ہے

15 سال سے 18 سال کی عمر کی لڑکیوں کی شادی ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے مگر اس حوالے سے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ یہ عمر لڑکی کی اپنی نشو نما کی ہوتی ہے مگر کم عمری میں شادی اور اسکے بعد ٹہرنے والے حمل کے سبب لڑکی کی اپنی نشو نما ادھوری رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے 30 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے لڑکی 50 سال کی بوڑھی عورت لگنے لگتی ہے

تاہم اس حوالے سے گیلپ سروے کے مطابق لڑکی کی شادی کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے ۔ اس عمر میں لڑکی کی نشو نما مکمل ہو چکی ہوتی ہے ۔ اس عمر کی لڑکیاں ازدواجی ذمہ داریوں کی تکمیل کے قابل ہوتی ہیں

اس کے علاوہ اس عمر میں لڑکیاں حمل ٹہر جانے کی صورت میں بھی اس قابل ہوتی ہیں کہ اس کو سنبھال سکیں ۔ ایک محتاط جائزے کے مطابق 20 سے 25 سال کی عمر کی خواتین کے حمل کے ضائع ہونے کے امکانات 15 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیوں کے مقابلے میں 25 فی صد تک کم ہوتے ہیں

اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کے مطابق خواتین کے لیۓ محفوظ حمل کی عمربھی 20 سے 30 سال تک ہے اس وجہ سے یہی عمر خواتین کی شادی کے لیۓ بہترین ہوتی ہے

میاں بیوی کے درمیان عمر کا کتنا فرق ہونا چاہیۓ

شادی
Image Credit: Geo Tv

عام طور پر ہمارے ملک میں شادی کے لیۓ لڑکی کا لڑکے سے چھوٹے ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ اس کی توجیح پیش کرتے ہوۓ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں جلد بوڑھی ہو جاتی ہین

اور اب اس بات کو میڈیکل کےماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہارمون کی تبدیلی کے سبب خواتین مردوں کے مقابلے میں جلد بوڑھی لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی مستند تھیوری سامنے نہیں آسکی ہے کہ میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق کامیاب ازدواجی زندگی کا باعث ہو سکتا ہے

ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق اگر میاں بیوی کی عمر میں کم از کم 15 سال تک کا فرق ہوتو اس کے نتیجے میں مرد کی جنسی زندگی کو طاقت ملتی ہے اور وہ خود کو زیادہ جوان محسوس کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ مرد کم عمر عورت سے شادی کے خواہان ہوتے ہیں

سوئڈن میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق عورت کا مرد سے 6 سال تک چھوٹا ہونا ایک مثالی فرق ہے اور اس فرق والے جوڑوں میں شادی کے بعد بچوں کی پیدائش بھی زیادہ متوقع ہوتی ہے اور ان کے درمیان باہمی تعلقات بھی مضبوط اور دیر پا ہوتے ہیں

یادرہے میڈیکل ماہرین کے مطابق شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کو لازمی طور پر چار میڈیکل ٹیسٹ کروا لینے چاہیۓ ہیں ۔ ان ٹیسٹوں کے بارے میں جاننے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ وزٹ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں. 

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.