کیا آپ دودھ سے حساسیت(الرجی)کا شکار ہیں؟

Diet & Nutrition
do you have milk allergy
Reading Time: 3 minutes

دودھ ایک مکمل غذا ہے اور اس کا استعمال اچھی صحت کے لیے اہم گردانا جاتا ہے۔بذات خود دودھ کا کوئی نقصان نہیں ہے مگر کچھ لوگوں کو اس کے استعمال سے معدے میں بھاری پن،متلی اور دل گھبرانے جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ آپ دودھ سے حساسیت یعنی الرجی کا شکار ہیں۔یہ حساسیت دراصل دودھ میں موجود ایک شکر ،جسے لیکٹوز کہا جاتا ہے ،کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر آپ بھی دودھ سے حساسیت کا شکار ہیں تو اس میں موجود صحت مند اجزا کےفوائد حاصل کرنے کے لیے آپ کو کسی متبادل ذریعے کا سوچنا چاہیے۔

آج کل بازاروں میں دودھ کے نعم البدل کے طور پہ کئی طرح کی مصنوعات فروخت ہو رہی ہیں۔ان کا استعمال کسی حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے مگر چونکہ یہ کیمیائی اجزا سے تیار کی جاتی ہیں اسلیے ان کے مضر صحت اثرات بھی مرتب ہوتےہیں۔دودھ کے کئی متبادل ایسے ہیں جو آپ آسانی سے گھر پہ تیار کر سکتے ہیں۔یہ بازاری مصنوعات سے زیادہ صحت بخش ثابت ہوتے ہیں۔

ناریل کا دودھ

ناریل کا دودھ خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔اسے تیار کرنے کے لیے ناریل اور پانی یکساں مقدار میں لے کر اسے بلینڈ کر لیں اور چھان لیں۔یہ عمل دو سے تین مرتبہ دہرانا کافی ہے۔اس دودھ کو آپ میٹھے میں یا سوپ کی شکل میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔اس میں نشاستے(کاربوہائیڈریٹس)،فولاد اور حیاتین ج(وٹامن سی) شامل ہوتے ہیں۔

چاول کا دودھ

اس دودھ کو تیار کرنے کے لیے ایک حصہ چاول تین حصہ پانی میں بھگو دیں ۔ پھر اسی پانی میں یہ چاول پکا کر اچھی طرح بلینڈ کر لیں اور چھان لیں۔اس دودھ کو آپ میٹھا بنانے میں استعمال کر سکتے ہیں۔یہ حیاتین الف اور د (وٹامن اے اور ڈی) سے بھر پور ہوتا ہے۔

خشخاش کا دودھ

کمزور افراد اور بچوں کے لیے خشخاش کا دودھ تیار کیا جا سکتا ہے۔اس سے قوت مدافعت بڑھنے کے ساتھ ساتھ صحت بھی اچھی ہوتی ہے۔اسے تیار کرنے کے لیے ایک حصہ خشخاش چار حصے پانی میں رات بھر کے لیے بھگو دیں اور بلینڈ کر کے چھان لیں۔اس دودھ میں فولاد ، فاسفورس ، پوٹاسیئم ،فولک ایسڈ اور اومیگا 3 وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

سویا کا دودھ

متبادل دودھ کے طور پر سویا کا دودھ بھی استعمال ہوتا ہے۔اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے لہذا اس میں کھجور، شکر یا شہد شامل کرنا مناسب رہتا ہے۔اس کو تیار کرنے کے لیے سویے کے بیجوں کو رات بھر کے لیے بھگو کر بلینڈ کر لیں اور چھان کر ابال لیں۔یہ دودھ چکنائی اور کولیسٹرول سے پاک ہوتا ہے اسلیےدل کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔اس میں لحمیات(پروٹین)، حیاتین(وٹامن) اور معدنیات (منرلز) کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے،اس لیے یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔

اونٹ کا دودھ۔

اونٹ کا دودھ متبادل دودھ کے طور پر بہترین غذا ثابت ہو سکتا ہے۔یہ جراثیم سے لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔جگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ بہت مفید ہے۔اس میں کیلسیئم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

دودھ کے متبادل کے طور پہ بادام اور پھلیوں کا دودھ بھی استعمال ہوتا ہے۔تا ہم اس میں یہ بات ضرور مدنظر رکھی جا ئے کہ مصنوعی دودھ کسی بھی طرح حیوانی ذرائع سے حاصل کیے گئے دودھ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حیوانی دودھ مکمل اور متوازن غذا ہے لہذا وہ افراد جو متبادل دودھ پینا چاہیں انہیں مختلف قسم کے دودھ استعمال کرتے رہنا چاہیے تا کہ سارے غذائی اجزا حاصل کر سکیں۔

You can find the best nutritionist in Pakistan and all famous cities like as:

Best Nutritionist in Lahore
Best Nutritionist in Karachi
Best Nutritionist in Islamabad
Best Nutritionist In Rawalpindi

Share This:

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

1 Comment to کیا آپ دودھ سے حساسیت(الرجی)کا شکار ہیں؟