جلد کو صاف کرنے اور دانوں کے خاتمے کے لئے کن 10غذاوں کا استعمال مفید

Reading Time: 4 minutes

جلد پرکیل،مہاسے اور دانوں کے مسائل سے بہت سی لڑکیوں کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔چہرے پر ایک بھی داغ یا دانہ آپ کے چہرے کی خوبصورتی میں خلل ڈال سکتا ہے۔ہم اپنے چہرے کو دانوں سے پاک کرنے کے لئے بہت سی مہنگی کریموں کا بھی استعمال کرتے ہیں لیکن ہم متوازن غذا پر غور نہیں کرتے کہ کس غذا کے استعمال سے ہم اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔

بہت سی غذائیں ایسی ہیں جو دانوں،کیل مہاسوں کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔لیکن بہت سی غذائیں ایسی بھی ہیں جو اس مسئلے سے ہمیں نجات بھی دلا سکتی ہیں۔ہمیں اپنے چہرے کو خوبصورت بنانے کے لئے کس غذا کا استعمال کرنا چاہیے اور کس کا نہیں۔ اگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو یہ بلاگ لازمی پڑھئیں۔

جلد کے لئے مفید غذا-

ہمیں اپنی جلد کو خوبصورت بنانے اور دانوں سے پاک کرنے کے لئے کس غذا کا استعمال کرنا چاہیے وہ مندرجہ ذیل ہے؛

ٹماٹر-

250149090

جلد کی خوبصورتی میں ٹماٹر کا ایک اہم کردار ہے اسے ہم اپنے چہرے کی خوبصورتی کے لئے نہ صرف کھاتے ہیں بلکہ اس کا جوس ہم اپنے چہرے پر لگاتے بھی ہیں۔یہ وٹامنز اور منزلز سے بھرپور ہوتا ہے۔جس کی مدد سے ہم اپنے چہرے سے دانوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔اور خوبصورت اور چمکتی ہوئی جلد حاصل کرسکتے ہیں۔

ٹماٹر میں پائے جانے والے وٹامنز میں وٹامن اے،کےبی1،بی 3،بی 5بی 6 اور بی7 شامل ہےاس کے علاوہ اس میں وٹامن سی بھی پایا جاتا  ہے۔یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو ہماری جلد سے عمر کے تاثرات کو کم کرتا ہے۔یہ چہرے سے دانوں کے خاتمے کے لئے مفید ہے ہم اس کی مدد سے اپننے چہرے کے دانے ختم کرسکتے ہیں۔

ٹماٹر کو سلاد میں لازمی شامل کرنا چاہیے یہ قدرتی طور پر سن سکرین کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

چقندر-

جسم میں خون کی کمی کی وجہ سے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔خون کی کمی دور کرنے میں چقندر اہم کردارادا کرتا ہے۔یہ فوری طور پر جلد کو صاف کرتا ہے اور چمکاتا ہے۔یہ چہرے سے کیل مہاسوں کو صاف کرتا ہے۔اس میں آئرن اور پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔یہ خون کو صاف کرنے میں مددفراہم کرتا ہے۔

ہم چہرے پر چقندر کے جوس کا ماسک بنا کر بھی لگا سکتے ہیں اس کے علاوہ اس کا ایک گلاس جوس بھی آپ کی جلد چمکانے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔اس سے آپ کے چہرے پر صحت مند چمک آئے گی۔

آلو-

243911639

یہ ایک قدرتی بلیچنگ ایجنٹ کے طورپر کام کرتا ہے۔یہ داغ دھبوں کو دور کرتا ہے اس کے علاوہ یہ سیاہ حلقوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ہم آلو کے رس کو اپنے چہرے پر لگا سکتے ہیں۔

لیموں-

اس میں وٹامن سی،وٹامن بی اور فاسفورس موجود ہوتا ہے۔یہ جلد کو چمکانے میں اہم ہے اس کے علاوہ یہ جلد کے مردہ خلیوں کو دور کرتا ہے۔اس میں سائٹرک ایسڈ موجود ہوتا ہے۔جو ہماری جلد کو صاف کرتا ہے۔یہ خون میں سے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے۔ہم اس کا استعمال سکنجبین میں بھی کرسکتے ہیں اس کے علاوہ ہم سلاد پر چھڑک کر بھی اسکا استعمال کرسکتے ہیں۔

سونف-

اگرآپ اپنی جلد پر قدرتی چمک چاہتے ہیں تو سونف کا استعمال لازمی کریں۔یہ سوجن کو کم کرتی ہے۔جسم سے زہریلے مادوں کو نکالتی ہے۔اس کے علاوہ یہ ہاضمے  کو بھی  بہتر بناتی ہے۔اور ہمارے چہرے کی قدرتی رنگت کو برقرار رکھتی ہے۔

دہی-

اس میں اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹریل خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو ہماری جلد کو صاف کرنے کے لئے مفید ہے ۔ہمیں اپنے چہرے کی چمک کے لئے صبح ناشتے میں اس کا استعمال لازمی کرناچاہیے۔

سبز چائے-

بہت سے مطالعات سے علم ہوا ہے کہ سبز چائے چہرے سے کیل مہاسوں کو ختم کرتی ہے۔ہم اس کو اپنے چہرے پر بھی لگا سکتے ہیں اور اس کا قہوہ بھی پی سکتے ہیں۔

مچھلی-

جلد

اس کے اندر اومیگا 3 فیٹی ایسڈ موجود ہوتا ہے۔جو ہماری سکن کے لئے مفید ہے۔یہ سوزش کے اثرات کو کم کرتی ہے۔جو افراد کیل مہاسوں کا شکار ہیں وہ سردیوں کے موسم میں لازمی اس کا استعمال کریں۔

گاجر-

اس میں وٹامن سے موجود ہوتا ہے جو ہماری آنکھوں کی روشنی کے لئے مفید ہے۔اگرآپ اپنی آنکھوں کی روشنی کو تیز کرنا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال لازمی کریں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیں جلد کے بہت سے فوائد فراہم کرتی ہے۔صحت مند جلد کے لئے ہمیں گاجر کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔

گری دار میوے-

گری دار میووں میں بہت سے وٹامنز موجود ہوتے ہیں جو ہماری جلد کے لئے فائدہ مند ہیں۔ ان میں زنک،سیلینیم،میگنیشیم،پوٹاشیم،کیلشیم اورآئرن موجود ہوتا ہے۔جو کہ صحت مند جلد کے لئے ضروری ہیں۔

ہم متوازن غذا کی مدد سے اپنی جلد کو چمکا سکتے ہیں لیکن اگرآپ کی جلد پر کسی قسم کی الرجی ہے تو اس کے لئے آپ کو ڈاکٹر سے مشورے کی ضرورت ہے۔آپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سے ایک اچھے ڈرمیٹالوجسٹ کی اپائنمنٹ حاصل کریں۔اس کے علاوہ آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لائن کنسلٹیشن بھی لے سکتے ہیں۔

 

 

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences