ہرنیا کیا ہے ؟ جانیے اسکی علامات وجوہات اور بچاؤ کے طریقے

Reading Time: 2 minutes

ہرنیا ایک عام بیماری ہے جس کو آنت اترنا بھی کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں جسم کا کوئی عضو یا اس کا کچھ حصہ اپنے اطراف کی جھلی یا پٹھوں کے کسی کم زور حصے سے باہر کے طرف نکل آتا ہے۔

یہ کیفیت زیادہ تر پیٹ کے مختلف حصوں جیسے کہ انتڑیوں وغیرہ کو متاثر کرتی ہے۔ پیٹ کے کمزور حصے سے کسی آنت کا کچھ حصہ یا چربی باہر نکل کر جلد کے نیچے تھیلی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ تھیلی کھانسنے، مشقت طلب کام کرنے یا زیادہ وقت تک کھڑے رہنے سے سامنے آجاتی ہے اور آرام کرنے پر ازخود غائب ہو جاتی ہے۔

علاج نہ کروانے کی صورت میں یہ تھیلی مستقل شکل اختیار کر لیتی ہے اور مستقل تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔

احتیاط

ہرنیا کی علامات کی صورت میں باقاعدہ معائنہ اور علاج کروانا اہم ہے تا کہ اس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ اس بیماری کا خود علاج کرنا مناسب نہیں ہے۔ سرجری کے لیے ایک اچھے جنرل سرجن سے رابطہ کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ مرہم کے ذریعے پاکستان کے بہترین جنرل سرجنز سے اپائنٹمنٹ با آسانی بک کروائی جا سکتی ہے۔

ہرنیا کی علامات

ہرنیا کی پہلی علامت متاثرہ مقام پر ایک گلٹی کا محسوس ہونا ہے۔ یہ ابتدائی طور پر کسی تکلیف کا باعث نہیں بنتی اور آرام کرنے پر غائب بھی ہو جاتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں سوزش کی وجہ سے درد یا جلن کی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ مقام پر درد، معدے میں جلن، نگلنے میں دشواری اور سینے میں جلن اس کی علامات میں شامل ہیں۔

ہرنیا کا علاج

ہرنیا کے علاج کا سب سے کامیاب طریقہ سرجری ہی ہے لیکن بسا اوقات ادویات کا استعمال بھی کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔ ہرنیا کے آپریشن کے ایک یا دو دن بعد ہی مریض کو ہسپتال سے گھر بھیج دیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات آٹھ سے بارہ گھنٹوں کے بعد بھی گھر بھیجا جا سکتا ہے۔

اس آپریشن کے بعد وزن اٹھانے اور جھکنے سے پرہیز کرنا تجویز کیا جاتا ہے۔

ہرنیا کے علاج کے ماہر ڈاکٹروں سے رابطہ اور مشورہ کرنے کے لیے مرہم ویب سائٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Share This:

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.