نظر کی کمزوری کا اہم سبب موبائل کا استعمال یا غیر معیاری غذا کا استعمال

Reading Time: 2 minutes

نظر کی کمزوری سے مراد دیکھنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہونا ہے ۔ اس کی دو اقسام ہوتی ہیں جن میں سے ایک دور کی نظر کی کمزوری اور دوسری قریب کی نظر کی کمزوری ہوتا ہے ۔ مستقل طور پر اسکرین کو بغیر پلکیں چھپکاۓ دیکھتے رہنے سے آنکھیں تھکان کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جس کے سبب سر کا بھاری پن ، آنکھوں کا جلنا یا سرخ ہو جانا اس کی اہم علامات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے

نظر کی کمزوری کی علامات

بینائی  دور کی کمزور ہو یا قریب کی دونوں صورتوں میں آنکھوں کو کچھ ایسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جن میں دھندلا نظر آنا ، سر درد،آنکھوں میں خارش یا سرخی ،آنکھوں سے پانی بہنا ، گردن میں درد شامل ہے

 وجوہات

عام طور پر بینائی  کی کمزوری کی کئي وجوہات ہو سکتی ہیں ان میں ذہنی دباؤ ، زيادہ دیر تک ڈیجیٹل اسکرین کا استعمال ،ذیابطیس جیسی بیماریاں اور بعض اوقات نظر کی یہ کمزوری وراثتی طور پر بھی ہوتی ہے ۔

بینائی بہتر بنانے  کے طریقے

آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بڑی نعمت ہیں اور ان کو بچانے کےلیۓ کچھ اقدامات کر کے اپنی بینائی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہےجن مین سے کچھ اس طرح ہیں

موبائل فون ،کمپیوٹر اور ٹی وی اسکرین کو دیکھنے کے ٹائم کو محدود کر کے

اسکرین کو خود سے 16 سے 20 انچ کے فاصلے سے استعمال کر کے

آنکھوں کی پلکوں کو بار بار چھپک کر

متوازن غذا کے استعمال سے

آنکھوں کی تھکن کی صورت میں نیم گرم کپڑے سے ان کو ٹکور کر کے

weak eye sight

نظر کی کمزوری کی صورت میں کیۓ جانے والے اقدامات

اگر بینائی  کی کمزوری کی علامات کا سامنا کرنا پڑے تو اس صورت میں اپنی بینائی کو بہتر بنانے کے لیۓ سب سےپہلا قدم اپنی بینائی کو ٹیسٹ کروانا ہوتا ہے جو کہ آنکھوں کے کسی ماہر ڈاکٹر کی مدد سے ٹیسٹ کروائی جا سکتی ہے اور اس کے بعد اس کے مشورے کے مطابق چشمے کا استعمال لازمی کرنا چاہیے ہے

چشمہ لگانے کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کے بارے میں جاننا بھی بہت ضروری ہے جو کہ بینائی  کی کمزوری کا سبب بن رہی ہوں ان کے بارے میں جان کر اور ان کا تدارک کر کے مذید کمزوری سے بچا جا سکتا ہے

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.

Leave a Comment