قربانی کے جانور کے قریب جانے سے بچوں کو 5 لاحق خطرات

Reading Time: 4 minutes

قربانی کے جانور کی امد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ اس عید پر بچوں کو سب سے زيادہ قربانی کے جانور کی رسی کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کو گھمانے کی خوشی ہوتی ہے ۔ اس کے لیۓ چارہ بنانا اور اس کو کھلانا ان کے نزدیک ایک بڑا ایڈونچر ہوتا ہے مگر عید سے قبل قربانی کے جانوروں کے ساتھ اس طرح وقت گزارنے کے ردعمل کے طور پر اکثر بچے عید کے موقع پر بیمار پڑ جاتے ہیں جس سے بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی بھی عید کی خوشیاں ماند پڑ جاتی ہے

قربانی کے جانور اور بچے

اپنی خوشیوں کو قائم رکھنےکے لیۓ اپنے گھر میں قربانی کا جانور لانے سے قبل کچھ اقدامات آپ کے بچے کو ایک بڑے خطرے سے محفوظ رہنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ آپ کے بچے کو بیماری سے بھی بچا سکتے ہیں

جانور کو علیحدہ جگہ پر باندھیں

قربانی کے جانور
Image Credit: You tube

عام طور پر جب قربانی کے جانور کو خریداری کے بعد گھر لایا جاتا ہے تو اس کی آمد سے پہلے ہی یہ طے کیا جا چکا ہوتا ہے کہ اس کو کہاں باندھنا ہے ۔ قربانی کے جانور کی جگہ کا انتخاب کرتے ہوۓ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ کھلی اور ہوا دار جگہ ہو ۔ قربانی کے جانور کی رسی کی لمبائي بھی بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیۓ ہے اس کے علاوہ اس حانور کے ارد گرد ایک باڑھ نما رسی باندھ دیں تاکہ اس باڑھ سے زيادہ بچے اکیلے میں جانور کے قریب تر نہ جا سکیں ۔

بچوں کو ان کے چارے کو چھونے نہ دیں

جانوروں کے کھانے کے چارے میں بہت ساری ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو بچوں میں الرجی کا سبب بن سکتے ہیں یہ سانس کے راستےبچے کے اندر داخل ہو کر انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں اس وجہ سے چارہ وغیرہ آپ خود تیار کریں اور بچوں کو یہ چارہ مکس نہ کرنے دیں

اس کے ساتھ ساتھ بکروں وغیرہ کو کھلایا جانے والا سبز گھاس جو بچے بہت شوق سے بکروں کو کھلا رہے ہوتے ہیں ان میں سنڈیوں اور دیگر کیڑوں کا ہونا ممکن ہوتا ہے جن کے کاٹنے سے بچے کی جلد پر خارش شروع ہو سکتی ہے اس وجہ سے بچوں کو یہ چیزیں چھونے نہ دیں

جانور کو چھونے کے بعد لازمی ہاتھ دھلوائيں

قربانی کے جانور
Image Credit: CDC

بچے بکروں کو اور قربانی کے جانوروں کو چھونے ان کی رسی کو لے کر ان کو گھمانے کے شوقین ہوتے ہیں لیکن یہ تمام چیزیں مختلف قسم کے جراثیموں سے بھر پور ہوتی ہیں ان کو چھونے کے نتیجے میں یہ جراثیم بچوں کے ہاتھوں کے ھریعے ان کے کھانےتک منتقل ہو سکتے  ہیں اس وجہ سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے جانوروں کو ہاتھ لگانے کے بعد کسی ڈس انفیکٹنٹ صابن سے لازمی ہاتھ دھوئیں

عام طور پر اس بات کا خیال نہ رکھنے کی صورت میں بچوں کو الٹیاں دست لگ سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی جلد پر مختلف قسم کی خارش بھی ہو سکتی ہے اس وجہ سے یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کو اس حوالے  سے قربانی کے جانور کی خریداری سے قبل مکمل رہنمائی فراہم کی جاۓ اور اس بات کا خاص اہتمام کیا جاۓ کہ بچے آپ کی ہدایات پر عمل کرین

اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ خود بچے کے سامنے جانور کو ہاتھ لگانے کے بعد لازمی ہاتھ دھوئيں اس سے بچے میں تحریک پیدا ہو گی اور وہ بھی ان پر عمل کرۓ گا

بچے کی غذا کا خیال رکھیں

قربانی کے جانور
Image Credit:Howmuch.pk

بچے اکثر اوقات ان جانوروں کی آمد کے بعد اپنی بھوک پیاس اور آرام سے نا آشنا ہو جاتے ہیں اور دن بھر قربانی کے جانور کی آمد کے بعد خود کو بہت زیادہ تھکانا شروع کر دیتے ہیں ۔ بچے کا مدافعتی نظام بڑوں کی نسبت کمزور ہوتا ہے اس وجہ سے یہ تھکن ان کو بیمار کرنے کا بھی باعث بن سکتی ہے اس وجہ سے  بچے کے آرام کا خاص خیال رکھیں

اس کے ساتھ ساتھ ان کو وقت پر کھانا دیں ۔ اس کے لیۓ ایسے ہلکے پھلکے اسنیکس تیار کریں جن کو وہ جلد اور آسانی سے کھا بھی لیں اور جو توانائی سے بھی بھر پور ہوں ۔ ان دنوں میں ان کے لیۓ ملک شیک اور دیگر مشروبات کا استعمال بڑھا دیں کیوں کہ وہ قربانی کے جانور کی آمد کے بعد بھاگ دوڑ زیادہ کرتے ہیں جس سے ان کے جسم مین طاقت کی کمی واقع ہو سکتی ہے

بچے کو جانور کے زیادہ قریب نہ جانے دیں

قربانی کےجانور
Image Credit: You tube

جانور کے زیادہ قریب جانے سے اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ قربانی کا جانور بچوں کی آوازوں سے چڑ کر ان کو آسان شکار سمجھتے ہوۓ ٹکر مار دے ۔ آپ کا لایا ہوا جانور بھلے جتنا بھی گھر کا پلا ہوا ہو مگر اس کے ردعمل کے حوالے سے آپ کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتےہیں اس  وجہ سے اپنی احتیاط کے طور پر بچے کو کبھی بھی جانور کے اتنے  قریب نہ جانے دیں جو بچے کے لیۓ خطرناک ثابت ہو جاۓ

مویشیوں کے قریب جانے کی وجہ سے ایسے بچے جن کو سانس کا مسلہ ہو سانس کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں اس وجہ سے حفظ ماتقدم کے طور پر کسی بھی بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے وقت سے پہلے اس حوالے سے مشورہ کر لیں تاکہ عید خوشیوں کے ساتھ گزار سکیں

آن لائن مشورے کے لیۓ بہترین اور ماہر بچوں کے ڈاکٹر سے مشورے کے لیے مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ وزٹ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.