بالوں کا گرنا اب نہیں،مون سون میں یہ 3طریقے اپنائیں

Reading Time: 4 minutes

بالوں کا گرنا ہرمرداور عورت کے لیۓ باعث پریشانی ہے۔خاص طور پر مون سون کے موسم میں بالوں کا گرنازیادہ ہوجاتا ہے۔کیونکہ کہ موسم کی تبدیلی ہماری صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ہم تھوڑی سی کوشش کرکے اس موسم میں بھی ہیرفال سے بچ سکتے ہیں۔اور صحت منداور مضبوط بال حاصل کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مون سون کے موسم میں 30 فیصد تک ہیرفال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے اور ہم کیسے اس مسئلے کاحل کرسکتے ہیں یہ جاننے کے لئے یہ بلاگ لازمی پڑھئیں۔

بالوں کے گرنے کی وجوہات-

کیاوجہ ہے کہ مون سون کے موسم میں ہیر فال بڑھ جاتا ہے اور بال کمزور ہوجاتے ہیں آئیے جانتے ہیں؛

مون سون کے موسم میں ہوا میں بہت زیادہ نمی ہوتی ہے۔جو ہمارے بال آسانی سے جذب کرلیتے ہیں۔آپ کے بالوں کی ساخت اس ہوا کی وجہ سے کمزور ہوجاتی ہے۔

بارش کے موسم میں بالوں کو خشک رکھنا بہت بڑی پریشانی ہے۔زیادہ پسینہ آنے کی وجہ سے ہمارے بال جھڑتے ہیں۔اس کی وجہ سر میں الرجہ بھی ہوسکتی ہے۔جس میں خارش اور اور دانے بھی ہوسکتے ہیں۔

مطالعات سے معلوم سے معلوم ہوا ہے کہ پسینہ میں لیکٹک ایسڈ اور جب کیراٹین ملایا جاتا ہے تو یہ جھڑنے کا سبب بنتا ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہوو سکتی ہے جب پسینہ آتا ہے تو بالوں میں نئے پانی کی کمی ہوجاتی ہے جس وجہ سے ہیرفال ہوتا ہے۔

کھوپڑی میں خشکی کےساتھ ملاہوا پسینہ الرجی کا  سبب بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بیکٹریا کے ساتھ مل جاتا ہے۔

مون سون کے موسم میں ہیرفال ہوا کی نمی کی وجہ سے زیادہ ہوتا ہےاس لئے اپنی غذا پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ ہم اس مسئلے سے بچ سکیں۔ہم کن طریقوں کی مدد سے ہیر فال کو روک سکتے ہیں وہ جانتے ہیں؛

ہیرفال کو روکنے کے طریقے-

اس پرشانی سے بچنے کی سب کو ضرورت ہوتی ہے۔ہم ان طریقوں سے ہیرفال کو کم کرسکتے ہیں؛

پیاز کا جوس-

بالوں

اس میں سلفر موجود ہوتا ہے جو ہمارے بالوں کو موٹا کرنے کے لئے مفید ہے۔اس کے علاوہ یہ جھڑنے سے بھی بچاتا ہے۔اس میں اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹریل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ہمیں کسی بھی انفیکش سے بچاتی ہیں۔یہ ہماری جڑوں سے انفیکشن کو ختم کرتا ہے۔اس کے علاوہ کیسٹر آئل بھی بہت فائدہ مند ہے یہ طریقہ مردوں اور عورتوں کے لئے فائدہ مند ہے۔

استعمال کا طریقہ-

ہمیں پیاز کا جوس نکالنےکے لئے ہمیں اس کو کدوکش کرلینا ہے یااس کا بیلنڈر میں جوس نکال لینا ہے۔اس جوس میں ہم دو چمچ کیسٹر آئل کے شامل کریں۔ہمیں اس کو لگاتے وقت ایک بات کا خیال رکھنا ہے کہ ہم لگانے سے پہلے بالوں کو کنگھی کرلیں کیونکہ ایسا کرنے سے خون کی گردش بہتر ہوجائے گی اور آپ کو بہتر نتائج ملیں گے۔

ہم اس کو 30 سے 50 منٹ تک لگانے کے بعد دھو سکتے ہیں اس کے علاوہ ہم ایک ہفتےاس کا دوبار استعمال کرسکتے ہیں۔

کڑی پتا-

بالوں

اس میں بیٹا کیروٹین،اینٹی آکسیڈنٹ اور پروٹین کی خصوصیات ہوتی ہیں جو ہمارے بالوں کی نشوونما کے لئے بہت مفید ہے۔اس میں موجود امائنو ایسڈ بھی ہمارے لئے مفید ہے۔ہم اس کی  مدد سے اپنے ہیر فال کو کم کرسکتے ہیں۔ہم اسکا استعمال کیسے کرسکتے ہیں وہ جانتے ہیں۔

استعمال کا طریقہ-

ہمیں اس کے لئے ایک کپ دہی چاہیے ۔یہ بھی ہمارے بالوں کی چمک  کے لئے بہت اچھا ہے۔دہی میں ہم کچھ کڑی پتا شامل کریں گے۔اس دونوں چیزوں کو ہم بلینڈر کی مدد سے پیس لیں لے۔اس ماسک کو ہم ہفتے میں دوبار لگا سکتے ہیں۔یہ ہمارے بالوں کو گھنا اور لمبا کرنے کے لئے بہترین نسسخہ ہے۔اس کا ستعمال مون سون کے موسم میں لازمی کریں۔

میتھی دانہ-

117013036

اس میں اچھی مقدار میں فولک ایسڈ پایا جاتا ہے جو ہمارے بالوں کو جھڑنے سے روکتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں زنک،کیلشیم،فاسفورس اور آئرن موجود ہوتا ہے جو ہمارے ہیر فال کو روکنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔اس کا ماسک لازمی استعمال کرنا چاہیے تاکہ ہم اس پریشانی کا حل نکال سکیں۔

استعمال کا طریقہ-

ہمیں اس کا استعمال کرنے کے لئے 3 سے4 چمچ میتھی دانہ کے چاہیے۔ہم اس کو بلینڈر میں پیس کر اس کا پاوڈر بنا لیں گے۔اس پاوڈر کے اندر ہم  چمچ ناریل کا تیل شامل کریں گے۔اس کا پیسٹ بنالیں گے پھر اس کو بالوں کی جڑوں پر ہم دو گھنٹے کے لئے لگائیں گے۔یہ حیرت انگیز نتائج فراہم کرتا ہے۔یہ دونوں چیزیں ہیرفال کو روکنے کے کام آتی ہیں۔

ہم ان تین طریقوں کی مدد سے ہیر فال کو کم کرسکتے ہیں اس کے علاوہ اگرکسی اور وجہ یا بیماری کی وجہ سےآپ کے بال جھڑتے ہیں تو آپ کو اس کے لئے فوری ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔

ہم مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سے گھر بیٹھے ایک اچھے ڈرمیٹالوجسٹ کی اپائنمنٹ بک کرواسکتے ہیں اس کے علاوہ اس نمبر پر آن لاین کنسلٹیشن بھی لے سکتے ہیں۔

The following two tabs change content below.
Avatar
I developed writing as my hobby with the passing years. Now, I am working as a writer and a medical researcher, For me blogging is more of sharing my knowledge with the common audiences