مرگی کی وجوہات کیا ہیں؟

Reading Time: 3 minutes

مرگی ایک دماغی عارضہ ہے جو کہ متاثرہ شخص میں جھٹکوں اور غشی کا باعث بن سکتا ہے۔ ان جھٹکوں کی وجہ کوئی اور طبی عارضہ جیسے کہ بخار نہیں ہوتا بلکہ یہ دماغ میں ہونے والی برقی ڈسچارج کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی علامات ہر مریض میں مختلف ہوتی ہیں۔ ان علامات میں تفرقے کی وجہ مختلف لوگوں میں مرگی کی وجوہات کا مختلف ہونا ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ بیماری اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں کی موجودگی اس بیماری اور علامات کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اس لیے ہر مریض کے لیے اپنی علامات اور وجوہات کا جاننا اہم ہے۔

epilepsy causes

مرگی کی وجوہات

مرگی کے مریضوں میں تیس فیصد بچے شامل ہیں۔ مرگی بچوں اور بزرگ افراد کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ بہت سے مریضوں میں مرگی کی کوئی واضح وجہ نہیں ہوتی۔ اکثر مرگی کی وجہ دماغ کی چوٹ کو گردانا جاتا ہے۔ دماغی بیماریون کے علاج کے لیے بہتریں نیورولوجسٹ سے مرہم کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ مرگی کی چند عام وجوہات یہ ہو سکتی ہیں۔
پیدائش کے وقت آکسیجن کی شدید کمی۔
سر کی چوٹیں کو کہ دوران پیدائش یا جوانی میں دماغ کو متاثر کر چکی ہوں۔
دماغ کے ٹیومر۔
جینیاتی تبدیلیاں جو دماغ کو متاثر کریں۔
دماغ کی جھلیوں کا انفیکشن۔
ستروک یا کسی اور طرح کی دماغی بیماری۔
خون میں گلوکوس یا سوڈیم کی زیادتی۔

epilepsy types

مرگی کا دورہ پڑنے کی وجوہات

اگرچہ مرگی کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ستر فیصد مریض ایسے ہیں جن میں ان کی بیماری کی درست وجہ شناخت نہیں کی جا سکتی۔ جو مریض اس بہماری سے متاثر ہوں ان کو بہت سے ایسے خطرات سے آگاہ رہنا چاہیئے جو کہ دورہ پرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے کہ:
دوا وقت پر نہ لینا۔
شراب نوشی۔
نشہ آور ادویات کا استعمال۔
نیند کی کمی۔
ایسی ادویات کا استعمال جو کہ مرگی کی ادویات کا اثر کم یا زیادہ کر سکتی ہیں۔
ان تمام خطرات سے آگاہ رہنا اور ان کا سدباب مرگی کے دورے سے بچا سکتا ہے۔ مزید رہمنائی کے لیے دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ بک کروائیے۔

Few Most Popular Neurologists:

The following two tabs change content below.
Sehrish
She is pharmacist by profession and has worked with several health care setups.She began her career as health and lifestyle writer.She is adept in writing and editing informative articles for both consumer and scientific audiences,as well as patient education materials.

Leave a Comment