پہلی سٹیج سے آخری سٹیج تک

cancer
Reading Time: 3 minutes

سنوبیاکی زندگی بہت خوبصورت تھی۔اللہ تعالی نےاسکی زبان میں بہت تاثیررکھی تھی وہ جس سے بات کرتی اسکو اپناگرویدہ بنالیتی،وہ اپنی زندگی کے خوشگواردن گزار رہی تھی یہ تب کی بات ہےجب وہ بہاوالدین زکریایونیورسٹی ملتان سے بی۔ایس۔سی کمپیوٹرانجینرنگ کررہی تھی۔وہ زندگی کوبھرپورطریقےسےانجواےکر رہی تھی۔سنوبیااپنے ماں باپ کے علاوہ اپنی بہن نائلہ کی بھی لاڈلی تھی۔وہ اپنی فطرت اورخلاق کی وجہ سےدوسروں سے منفردنظرآتی تھی،مثبت سوچ رکھنےوالی لڑکی زندگی سے نفی ہوگی۔

چھوٹی ہی عمر میں اس نے اپنی چند ایک خواہشیں پوری کر لی تھیں۔دن بھریونیورسٹی کےکام اوردوستوں سےملنےکےبعدشام چھ بجےاس کاذاتی وقت شروع ہوتاتھا۔شام کاوقت اس کاسوشل میڈیا،رسالے اورکتابیں پڑھنے میں گزرتاتھا۔اس کوہرچیز میں نالج پر مہارت حاصل تھی۔تعلیم اور پروفیشنل لائف سےخوب واقف تھی اورگھریلوزندگی سےتھوڑی انجان تھی۔

لاہورآنےکےکچھ دن بعدسنوبیاکاویزالگ گیااس کاشمارکینڈاکی بڑی یونیورسٹی میموریل یونیورسٹی آف ایس ٹی جونز نیوفاونڈلینڈمیں ہوگیا۔کچھ عرصہ بعدیونیورسٹی میں الیکشن ہواسنوبیاکاانتخاب اس یونیورسٹی نے ایگزیکٹوڈاریکٹرکےطور پرکیا۔یہ اپنے کیمپس کی بہت ایکٹوممبر تھی۔یہ اسکی زندگی کے معمولات تھےاللہ نے اسےجوانی میں نعمتوں سے نوازاتھاتوانائی تھی،دوست تھے،پیسہ تھا،فیملی تھی اور نصف درجن کارگردگی کے سرٹیفکیٹ تھے۔اسکی زنگی بہت شاندار تھی ۔

ہم میں سے بہت سےلوگ ایسے ہیں جوصحت پرسمجھوتاکر رہے ہوتے ہیں۔وہ اپنی مصروف زندگی میں اپنی صحت کو نظرانداز کردیتے ہیں۔زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے کام اور محنت ضروری ہے لیکن صحت ہے تو محنت ہے۔

سنوبیاایک صبح اٹھی اسکا سربھاری تھااس نےاس کوتھکاوٹ سمجھ کرجھٹک دیااورمعمول کےکاموں میں مصروف ہوگئی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھاری پن درد بن گیا۔وہ ڈاکٹرکے پاس گئی ڈاکٹرنے اسےدردکش گولیاں دیں اور گھربھیج دیا رات بےچینی میں گزری لیکن درد کو کمی نہ آسکی وہ اگلی صبح پھر ڈاکٹرکے پاس گئی ڈاکٹر نے اسے خون کے ٹیسٹ کامشورہ دیا۔بلڈرپورٹس آئیں توڈاکٹر نےمزیدرپورٹس کےلیےنمونےمختلف لیبارٹریزمیں بھجوادیں۔سب کارزلٹ ایک جیسا تھا۔تینوں کاایک ہی جواب تھامریض کامعجزےکےعلاوہ کوئی علاج نہیں۔۔

اس دینا میں بہت سے لوگوں نے یہ فقرہ سناہوگااگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی کو معجزے سے پہلےبچائیں تو اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر اپنامعائنہ کروائیں اس سے پہلے آپکی زندگی کی پہلی سٹیج آخری سٹیج بن جاے۔بہت سے لوگ اس معاملے میں لاپرواہی کرتے ہیں جن میں طالب علم،کاروبای حضرات اورملازمت پیشہ افراد شامل ہیں آج کے ٹیکنالوجی اور سائنس کے دور میں ڈاکٹرسے مشورہ لینا اور رابطہ کرنا بہت آسان ہوگیاہے۔ٹیکنالوجی نے مریض اور ڈاکٹر کا رشتہ بہت قریب کر دیاہے۔آپ گھر بیٹھےڈاکٹر سے اپاینمٹ لے سکتے ہیں۔

پھر ڈاکٹر نے مریض کو بلایاکرسی پر بیٹھایااور سر جھکا کربولا آپ کے پاس چھ ماہ ہیں۔

سنوبیاگبھرائی اور پوچھا کیوں؟ڈاکٹر نے بتایاآپ برین ٹیومر کی آخری سٹیج پر ہیں ڈاکٹر نے کہااب تمہارے پاس دو آپشن ہیں۔یہ کہ یاہسپتال کے چکر کاٹ لو یادن شاندار بنالو۔یہ لفظ سنوبیا پر پہاڑتھےاسے صرف اس وقت پاکستان میں موجود ماں اور بہن کا خیال تھا۔سنوبیا دماغی طور پر غائب ہوچکی تھی وہ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی لیکن اسے نظر کچھ نہیں آرہاتھا۔وہ کانوں سے سن رہی تھی لیکن اسے سنائی کچھ نہیں دے رہاتھا۔وہ چل رہی تھی لیکن اسکے قدم نہیں اٹھ رہے تھے۔وہ کچھ دیر کے لیے زندگی سے بہت دور چلی گئی تھی۔

اگلی صبح دھوپ کی کرن سنوبیا کی آنکھوں میں پڑی تو اسکی آنکھیں کھل گئی۔اس کی زندگی کا اگلا دن موت کی طرف پہلاقدم تھاوہ زندگی کواور بھرپور طریقے سے جینے لگی اسے اپنے مرنے کا یقین نہ تھا وہ سمجھتی تھی پہلے کی طرح اپنی لائف میں واپس آجاےگئی یہ سب کچھ وہ کینڈا کے مضافات میں چھوٹی سی جھیل کے کنارےکھڑی سوچ رہی تھی۔اس نے اپنے مخالفوں سے معافی مانگی اور ان کو معاف کیا جنہوں نے اس کا دل دکھایاتھااور پاکستان واپس آگئی۔اسنے وہ سو کتابیں بھی خریدی جن کو وہ اپنی زندگی میں پڑھنا چاہتی تھی۔وہ لوگوں کو کم فیملی کو زیادہ وقت دینے لگی اس نے اپنی زندگی کو بتایاکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ ایک صحت مند انسان کیسےمریض کاساتھ دیتاہے،ویسے تو ایساہوتاہےکہ اکثر لوگ مریض کاحوصلہ کم کررہے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ بیماری کاذکر کرکے اس کوبیماری سے نکلنے نہیں دیتے۔چہرے پرمایوسی کے تاثرات دیکھ کرمریض بھی مایوس ہوجاتاہے۔لیکن

جب کسی انسان کو معلوم ہو جاے کہ مریض کے پاس وقت نہیں ہےتوہم اس کاحوصلہ بن سکتے ہیں ۔اس کو وہ لمحات کرسکتے ہیں جس سے وہ اپنی موت کی بجاے زندگی کاسوچے۔انسان،انسان کا حوصلہ بنتاہے۔مہارت اس بات میں ہے کہ مریض کے آخری لمحوں میں اس میں ایسی امید پیدا کی جاے کہ وہ بیماری کو بھی مات دےلے۔

ہم وہ انسان ہیں جب تک اپنے مرنے کا معلوم نہ ہو جاے تب تک جینا شروع نہیں کرتےسنوبیا نے اپنی زندگی کےشاندار دن ڈیتھ بیڈ پر گزارےلیکن ہمارے شاندار دن تب شروع ہوگے جب ہمیں ڈاکٹر بتائے گاکہ آپ کے پاس آخری چھ ماہ ہیں۔

Share This: