کچھ ایسے پریشان کردینے والے سوالات جو پاکستانی آنٹیوں کو نہیں پوچھنے چاہیے ہیں

Reading Time: 3 minutes

عام طور پر جو لوگ ہم سے پیار کرتے ہیں ان کو ہماری فکر ہوتی ہے اور وہ ہمارے بارے میں باخبر رہنے کےخواہشمند ہوتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا ہےاور یہ ضرب المثل تو سب ہی نے سنی ہو گی کہ جو کچھ نہیں کرتا ہے وہ کمال کرتا ہے تو ایسی ہی کچھ پاکستانی آنٹیاں ہوتی ہیں جو کمال کرتی ہیں اور اپنے سامنے والے سے عجیب وغیرب سوال پوچھ پوچھ کر اس کی وہ حالت کر دیتی ہیں کہ وہ ان سے جان چھڑا کر سیدھا نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جانے پر مجبور ہو جاتا ہے
ان پاکستانی آنٹیوں میں خاندان کی کوئي بھی خاتون ہو سکتی ہیں یہ مامی چاچی ، پھپھو یا پھر پڑوس کی خالہ بھی ہو سکتی ہیں اور ان کے سوالات کی کوئی سرحد یا حدود نہیں ہوتی ہے یہ ہر قسم کے موضوع پر سوال پوچھ سکتی ہیں اور اس دوران ان کے چہرے پر اتنی محبت اور مٹھاس ہوتا ہے جیسے ان سے بڑا ہمدردکوئي نہیں ہوتا مگر ان کی آنکھیں پورا الٹرا ساونڈ کر لیتی ہیں بندے کا ۔ آج ہم ان پاکستانی آنٹیوں کے کچھ سوالات کے بارے میں بتائيں گۓ

شادی کب ہو رہی ہے –

جیسے ہی انسان یونی ورسٹی میں قدم رکھتا ہے اپنے قریبی حلقوں سے اس سوال کی بازگشت سنائی دینی شروع ہو جاتی ہے مگر پاکستانی آنٹی کسی دوسرے سے پوچھنے کےبجاۓ براہ راست بات کرنے پر یقین رکھتی ہیں اس وجہ سے ہر بار ملنے پر ایک ہی سوال پوچھتی ہیں کہ شادی کب ہو رہی ہے کس سے ہو رہی ہے کہاں ہو رہی ہے اور کیسے ہو رہے ۔ کب ، کیسے ۔ کیوں اور کہاں یہ سب وہ سوال ہیں جن کے جواب حاصل کیۓ بغیر آنٹی جان نہیں چھوڑتی ہیں

کس کے ساتھ تھیں تم –

گھر سے باہر آج کل کے دور میں تو لوگوں نے سی سی ٹی وی کیمرے لگا لیۓ ہیں مگر پاکستانی آنٹی کے ہوتے ہوۓ کسی قسم کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ضرورت نہیں ہوتی انسان گھر واپس جب بھی آۓ اس کی جاسوسی کے لیۓ آنٹی موجود ہوتی ہیں اور اگر بدقسمتی سے انسان مخالف جنس کے کسی فرد کے ساتھ نظر آجاۓ بھلے وہ انسان دودھ شریک ہی کیوں نہ ہو آنٹی نے فورا ہی ملتے یہ سوال کرنا ہے کہ کس کے ساتھ تھیں ، یہ اجنبی مرد تمھارا کیا لگتا ہے کب سے جانتی ہو اس کو اور شادی کا کیا ارادہ ہے یہ تمام سوالات کسی بھی انسان کے سر میں درد کرنے کے لیۓ کافی ہوتے ہیں

بچے کب ہو رہے ہیں –

جب بھی خاندان یا محلے میں کسی کی شادی کی خبر سننے کو ملتی ہے تو ان پاکستانی آنٹیوں کے بوسٹر کا رخ ان کی طرف مڑ جاتا ہے شادی کو کچھ ہی دن گزرے ہوں ان کا دلہن کو دیکھتے ہی پہلا سوال ہوتا ہے کہ کوئی خوشخبری ہے یا نہیں اور یہ سوال ہر مہینے میں چار بار ملنے پر بھی یہ آنٹیاں پوچھ سکتی ہیں اور اگر کہیں منہ سے یہ نکل جاۓ کہ ہم پلاننگ کر رہے ہیں تو اس کے بعد تو یہ آنٹیاں اس کے اتنے نقصانات بتائیں گی کہ دلہن خود بھی مچل جاۓ گی کہ فورا سب کو خوشخبری سنا ہی دے

نوکری کب ملے گی –

ڈگری ہاتھ میں آتے ہی آپ کی نوکری کی پریشانی آپ سے زیادہ ان پاکستانی آنٹیوں کو ہونا شروعہو جاتی ہے اور وہ آپ کو دیکھتے ہی منے کے ابا یا رجو کے خالو سے ملنے کا مشورہ دےبیٹھتی ہیں جن کے پاس ہیلپر کی نوکری موجود ہوتی ہے اور ایم بی اے کی ڈگری کے باوجود وہ منے کے ابا کی دکان پر کچھ دن کام کرنےکا ضرور مشورہ دیتی ہیں تاکہ تجربہ حاصل ہو سکے

مگر ان سب کے باوجود –

!پاکستانی آنٹیاں بہت محبت کرنے والی اور خیال رکھنے والی شخصیات ہیں یہ کھلے دل سے محبت کرتی ہیں اور اس محبت ہی میں وہ یہ تمام سوال پوچھتی ہیں اس وجہ سے پاکستانی آنٹیاں زندہ باد

!اگر ان سب باتوں سے آپ کا بھی سر درد ہوتا ہے تو ابھی ڈاکٹر سے بات کریں مرہم کے ضریع

The following two tabs change content below.
Ambreen Sethi

Ambreen Sethi

Ambreen Sethi is a passionate writer with around four years of experience as a medical researcher. She is a mother of three and loves to read books in her spare time.

Leave a Comment