اور اُن کا علاج (Warts) مسے

Healthy Lifestyle
Warts and their Treatment

اگر چہرے پر ہونٹوں کے پاس تلِ ہوں تو چہرے کی جوبصورتی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن جب انہی تلوِں کے ساتھ مسے بھی ظاہر ہونا شروع ہوجائیں تو چہرے کی جوبصورتی بِگڑ جاتی ہے۔

مسے آپ کی جوبصورتی پر داغ کی طرح دکھائی دیتے ہیں جو کوئی درد یا تکلیف تو نہیں دیتے لیکن یہ چہرے کی جوبصورتی کو مدہم کر دیتے ہیں اور دیکھنے میں بے حد عجیب لگتے ہیں ۔ کچھ مسے بچپن سے ہی چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر نکل آتے ہیں اور کچھ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتے ہیں ۔

مسے کیا ہوتے ہیں ؟

مسے ایک جِلدی بیماری اور میڈیکل کی زبان میں اسے ایکروکورڈز کہتے ہیں ۔ اکثر جِلد پر کالے رنگ کے چھوٹے بدنما اُبھر پیدا ہوجاتے ہیں اسے مسے کہتے ہیں ۔ یہ مرض بچوں اوربڑوں دونوں کو لاحق ہوسکتا ہے۔

مسے پھیل بھی جاتے ہیں اور چہرے اور جسم کی جوبصورتی کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عموما مسے تعداد میں ذیادہ ہوتے ہیں اور ر جسم کے مختلف حصوں پر نمودار ہوتے ہیں لیکن یہ کسی ایک مقام پر ہجوم کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔ اور بعض اوقات اچانک یہ خودبخود غائب بھی ہوجاتے ہیں ۔

:وجوہات

مسے  کا بڑا سبب وائرس کی وجہ سے سکن کا انفیکشن ہے جسے پیپی لومہ وائرس بھی کہتے ہیں جس سے سکن پر مسے بن جاتے ہیں۔پہلے مسے  ذیادہ تر بڑی عمر کے لوگوں میں ظاہر ہوتے تھے لیکن اب یہ مسئلہ کم عمر کے لوگوں کو بھی لاحق ہو گیا ہے۔ کسانوں کے مسے(مسے کی ایک قسم جس میں مسے پاؤں کے تلوؤں پرابھرتے ہیں) عام لوگوں کو سویمنگ پول وغیرہ سے لاحق ہوتا ہے۔ مسے اُبھرنے کی ایک وجہ سکن کی نشونما کے دوران رہ جانے والے کچھ نقائص ہیں جو کچھ مخصوص حصوں کو ذیادہ متاثر کرتے ہیں۔

:علامات

مسے کی بہت سی شکلیں اور جسامتیں ہوتی ہیں تاہم ذیادہ تر یہ جِلد پر بڑے کُھرد ر ے اُ بھروں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ ابھر عموما انگلی،  کونی، گھٹنے، ,چہرے اور سر  کی سکن پر ظاہر ہوتے ہیں۔جو مسے پاؤں کے تلوؤں پر ابھرتے ہیں انہیں کسانوں کے مسے کہا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تکلیف دہ  ہوتے ہیں اور متاثرہ شخص آسانی سے چل بھی نہیں سکتا۔

:علاج

ویسے تو ہم مسے ختم کرنے کے لیے ڈاکٹر سے سرجری بھی کر واسکتے ہیں یا کوئی ایلوپیتھی ٹریٹمنٹ بھی لے سکتے ہیں لیکن کچھ آسان نسخوں پر عمل کر نے سے اس جِلدی بیماری کا علاج ممکن ہے۔

:سیب کے سرکے کا استعمال

سیب کے سرکہ کو مسوں کے خاتمے کا بہترین طریقہ بتایا گیا ہے۔اس کے لیے آپ روئی کا ٹکڑاسیب کے سرکے میں ڈبو کر مسوں پر لگائیں اور تین سے چار گھنٹوں کے لیے اسے چھوڑدیں پھر اسے اچھی طرح دھولیں۔اس عمل کو دن میں تین دفعہ اور اور تین سے چارہفتوں تک کریں۔

:مسوں کا لہسن سے علاج

لہسن کے چند ٹکڑے پِیس لیں پھر پِسے ہوئے لہسن کو مسوں پر لگا کر پٹی باندھ دیں اور ایک دن بعد پٹی کھولیں اور نیم گرم پانی سے دھولیں اس عمل کو کچھ دنوں تک کریں۔

:چائے کے درخت کا تیل

چائے کی پتی کے درخت کا تیل بھی مسوں کے لیے ایک آزمودہ ٹوٹکہ ہے۔سب سے پہلے روئی کو پانی میں ڈبو کرنچوڑ لیں پھر اس پر تین سے چار تیل کے قطرے ڈال کر مسوں پر لگائیں اور کچھ گھنٹوں کے لیے اسے چھوڑدیں اس عمل کو دن میں تین سے چار دفعہ اور اور دو سے چارہفتوں تک کریں۔

:انجیر کا استعمال

تازہ انجیر کادودھیا جوس بھی مسوں کے خاتمے کا بہترین علاج ہے۔تازہ انجیر کاجوس دن میں سات سے آٹھ مرتبہ مسوں پرلگائیں اور یہ عمل دوہفتوں تک جاری رکھیں۔

:پیاز کا استعمال

پیاز کو بھی مسوں سے چھٹکارا پانے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔پیاز سِکن پر خراش پیدا کرتی ہے اور خون کی گردش کو برقرار رکھتی ہے۔ پیاز کو کاٹ کر مسوں پر رگڑنے سے عمومًا مسے ختم ہوجاتے ہیں۔

:کاجو کا تیل

کاجو کے چھلکے سے نکلنے والا تیل بھی مسوں کو تحلیل کرنے میں بھرپور اثر رکھتا ہے کیوں کہ یہ جِلدپر خراش پیدا کرتا ہے۔ اسے مسوں پر لگاتے رہنے سے یہ بتدریج تحلیل ہوجاتے ہیں۔

:دیگر علاج

  • ارنڈی کا تیل روزانہ رات کو سوتے وقت مسوں پرلگائیں ۔اس عمل کوایک ماہ تک کرنے سے مسوں سے چھٹکارا پایاجاسکتا ہے۔
    پپیتا اور انناس کے جوس اور چاک پاؤڈر کو پانی میں ملا کر مسوں پر لگانا بھی بہت موثر ہے۔
    ہرا دھنیا کو پِیس لیں پھر اُس کا پیسٹ بنا کر روزانہ مسوں پر لگائیں۔
    کیلے کے چھلکے کو اندر کی طرف سے مسے پر رکھ کر پٹی باندھ لیں اور ایسا دن میں دو مرتبہ کریں۔
    تازہ مسمی کا رس روزانہ تین سے چار مرتبہ مسوں پر لگانے سے مسے ختم ہو جا تے ہیں۔
    مسوں پر نیل پالش لگا کر تھوڑی دیربعد صاف کر لیں ۔دن میں دو، تین مرتبہ ایسا کرنے سے مسے ختم ہو جائے گے۔
    ایلوویرا جیل کا استعمال بھی کیا جا سکتاہے۔

:غذائی حکمت عملی

مذکورہ علاج میں سے کوئی ایک اپنانے کے ساتھ ساتھ غذائی حکمت کرنا تیزی سے مسوں کو تحلیل کر نے میں مدد دیتا ہے۔ مسوں سے متاثرہ شخص کو سب سے پہلے کئی دن تک صرف پھل کی غذا پر رکھا جائے اور صرف جوسی پھل کھلائے جائیں جن میں انگور ، سنگترہ ، مالٹا، سیب، انناس، اور پپیتا جیسے پھل منتخب کیے جا سکتے ہیں۔دن میں پانچ پانچ گھنٹوں کے وقفے سے ان پھلوں کا استعمال کیا جائے۔بعد میں متوازن غدائیں شروع کی جا سکتی ہیں جن میں اناج ، سبزیاں، مغز وغیرہ شامل ہیں۔

The following two tabs change content below.